Daily Mashriq

افغانستان…سیاسی حل ضروری ہے

افغانستان…سیاسی حل ضروری ہے

کابل اور قندھار میں گزشتہ روز بیک وقت دہشت گرد حملوں کے باعث جن میں 60کے قریب افراد جاں بحق ہوئے پاکستان میں بھی رنج و اندوہ کے جذبات ابھرے ہیں کیونکہ پاکستان میں امن واستحکام پربڑی حد تک افغانستان میں امن کے ساتھ مشروط ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان حملوں کی شدید مذمت کی۔ پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باوجوہ نے ایک پیغام میں حملوں میں وفات پانے والوں کی تعزیت کی اور افغان حکومت اور عوام کے ساتھ درد مندی اور یکجہتی کے جذبات کا اظہار کیا۔( جنرل باوجوہ نے نئے سال کے آغاز پر افغانستان کے صدر اشرف غنی کو تہنیت کا پیغام بھی بھیجا تھا اور اس کے جواب میں صدر اشرف غنی نے انہیں افغانستان کے دورے کی دعوت دی تھی۔) ان دہشت گرد حملوں سے بھی زیادہ رنج دہ گزشتہ روز کابل میں پاکستان کے سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ تھا جس میں ان حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی گئی ۔افغان عوام کو گمراہ کرنے کا یہ کام افغانستان میں بھارت کے حامی عناصر کرتے ہیں جنہیں افغان فوج اور اس کی خفیہ کار ایجنسی نیشنل ڈیفنس سروس میں امریکہ کی بھارت نواز پالیسی کے باعث اثر ونفوذ حاصل ہے۔ بھارتی خفیہ کار ایجنسی ''را'' اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے درمیان یکتائی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ این ڈی ایس کی تشکیل اور تربیت را نے کی ہے۔اس لیے اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ گزشتہ روز پاکستان کے سفارت خانے پر جو احتجاجی ''دھاوا'' بولا گیا اس کی قیادت این ڈی ایس کے سابق ڈپٹی چیف امراللہ صالح کر رہے تھے۔اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ یہ احتجاجی مظاہرہ سرکاری سرپرستی میں ہوا۔ جس میں پاکستان پر ایک بار پھر الزامات عائد کیے گئے کہ'' پاکستان کے قبائلی علاقے میں دہشت گردوں کی کمین گاہیں ہیں جہاں سے اکثر دہشت گرد افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔'' پاکستان نے دو سال کی فوجی کارروائی' آپریشن ضرب عضب کے ذریعے پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کیا ہے اور دہشت گرد پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان میں پناہ گیرہوئے ہیں۔ ان فرار ہونے والوں کو افغان فورسز نے نہیں روکا۔ اور نہ ہی اپنے ملک میں ان کی کمین گاہوں کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے۔ اندریں حالات کس طرح یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد پاکستانی علاقے میں ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک امریکہ کی طرف سے ان الزامات کی تائید ہے۔ یہ تائید اس کے باوجود ہے کہ امریکی حکومت اس کے سینئر اہل کار اور ارکان کانگریس آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو سراہتے رہے ہیں۔افغانستان کے بھارت نواز عنصر کا یہ رویہ جسے افغان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے امریکہ اور بھارت کی کوتاہ نظری پر مبنی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ خاص طور پر امریکہ کا یہ رویہ باعث حیرت ہے کیونکہ امریکہ کے علم میں ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے چار رکنی اتحاد کی کوششوں کو جس میں امریکہ بھی شامل تھا افغانستان کی بھارت کی گود میں پلی بڑھی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس نے سبوتاژ کیا۔ اگر امریکہ اور افغانستان کے ان الزامات میں ان کے نزدیک حقیقت کا کوئی شائبہ بھی ہوتا کہ پاکستان کے علاقے سے دہشت گرد افغانستان میں داخل ہوتے ہیں تو پاکستان کی طرف سے سرحدی انتظام کی پہل کی نہ صرف حمایت کی جاتی بلکہ اس میں عملی تعاون بھی کیا جاتا۔ اس کے برعکس یہ ہوا کہ جب پاکستان کی طرف سے طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر شروع کی گئی تو افغانستان فورسز نے اس پر کام کرنے والوں پر فائرنگ کر دی اور پاک فوج کے ایک افسر سمیت کئی افراد کو شہید کر دیا۔ پاکستان نے جب سرحد پار کرنے والوں کے لیے سفری دستاویزات کی پابندی عائد کی تو افغانستان کی طرف سے اس پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔ اگر امریکہ افغانستان کی ہمنوائی کر رہا ہے کہ پاکستان کے علاقے سے دہشت گرد افغانستان میں داخل ہوتے ہیں تو اسے پاک افغان سرحد پر پاکستان کی طرف سے باڑھ بندی کی صرف حمایت کرنی چاہیے تھی بلکہ اس میں مالی اور تکنیکی تعاون بھی کرنا چاہیے تھا کیونکہ خود امریکہ کے کئی ہزار فوجی افغانستان میں مقیم ہیں۔ لیکن افغان حکومت اور امریکہ محض پاکستان کے علاقے سے دہشت گردوں کے درآنے کے الزامات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان سے امریکی عوام اور افغان عوام کو تو ممکن ہے فریب دیا جا سکتا ہو لیکن پاک افغان سرحدی خلاف ورزی کا مسئلہ حل نہیںہو سکتا جس کی بنا پر پاکستان کو سرحد پر سمگلنگ کے باعث نقصان ہوتا ہے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی منشیات کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور سرحدی انتظام کے حوالے سے افغان فورسز کی کم کوشی کی پردہ پوشی جاری رہتی ہے۔ افغانستان پر کل سوویت روس کا تسلط تھا ، آج افغانستان پر امریکہ کا اثر ونفوذ ہے۔ لیکن پاکستان اور افغانستان کی سرحد کا مفصل ہونا ایسی حقیقت ہے جو قائم رہنے والی ہے۔ امریکہ اور بھارت کی سرپرستی کے باوجود افغان فورسز اس لائق نہیں ہو سکیں کہ افغان حکومت کی سارے افغانستان پر رٹ قائم ہو سکے۔ افغانستان کا بڑا علاقہ اب بھی طالبان کے زیرِ اثر ہے کیونکہ افغان عوام طالبان سے لاتعلقی پر آمادہ نہیں۔ افغان حکمرانوں اور ان کے سرپرستوں کو اگر افغانستان میں امن عزیز ہے تو انہیں افغان عوام کی امنگوں اور آرزوں کا احترام کرنا ہو گا اور افغان آئین میں ایسی ترامیم کرنی ہوں گی جو سارے افغانستان کے عوام کی ضمیر اجتماعی سے مطابقت رکھتی ہوں۔

متعلقہ خبریں