Daily Mashriq


عاقب کی کہانی کا ہیپی اینڈ

عاقب کی کہانی کا ہیپی اینڈ

پنجاب پولیس سے ویسے تو روزانہ کوئی عجیب و غریب کارنامہ ضرور سرزد ہوتا ہے لیکن پرسوں جس کارنامے کی خبر سامنے آئی اس کا گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اندراج ہونا چاہئے ۔شیخو پورہ کے ایک گائوں مانوالہ کا واقعہ ہے جہاں بتایا گیا ہے کہ عاقب نام کے دو سالہ بچے کو پولیس نے سیشن جج کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ لیجئے جناب ! چھبیس سالہ ایک شخص کا یہ قاتل بصد جدوجہد اور خواری بسیار گرفتار کر کے آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔خبر سے البتہ یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آلہ قتل از قسم خنجر، بھالا ، تلوار بھی عدالت میں پیش کیا گیا یا نہیں ۔قاتل بالعموم قتل کی واردات کے بعد فرار ہوتے وقت بطور شہادت آلہ قتل اپنے پاس رکھتے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے ۔ گرفتاری اگر صدیوں بعد ہی کیوںعمل میں نہ آئے اس سے آلہ قتل ضرور برآمد ہوتا ہے۔پنجاب پولیس کی اس عظیم الشان کارروائی کی تفصیل بھی بیان کریں گے پہلے اس نوع کے کچھ دوسرے واقعات آپ کی خدمت میں پیش کردیں۔ ہم اہانت کے خدشے سے عدالتی کارروائی پر بھی تبصرہ نہیں کرتے جس کیس کا ہم نے ذکر کیا خبر کے مطابق عدالت نے دو سالہ ملزم کو چار روز کی ضمانت پر والد کے حوالے کر تے ہوئے حکم صادر کیا ہے کہ کیس پر مزید کارروائی کے لئے مکمل ریکارڈ کے ساتھ چار روز بعد عدالت میں پیش کیا جائے ۔قانون کے بارے میں اس کے اندھا ہونے کی بات بہت مشہور ہے عدالتوں کے فیصلے قاعدے قانون واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بے گناہ کو سزا ملنے کی بجائے اگر 100 گنہگار چھوٹ جائیں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔آپ اسے ایک لطیفہ ہی سمجھئے کہ ایک شخص بھینس کی چوری کے الزام میں دھر لیا گیا مدت مدید تک عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ زیر سماعت رہا ۔جس کی بھینس چوری ہوئی تھی اس نے بھی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے ایک ماہر وکیل کی خدمات حاصل کی تھیں۔ فریقین کی جانب سے دلائل پیش کئے جاتے رہے۔جرح در جرح ہوتی رہی آخر کار فیصلہ یہ سامنے آیا کہ فلاں پر بھینس کی چوری کا الزام ثابت نہ کیا جا سکااور اسے باعزت بری کیا جاتا ہے ۔ملزم کوئی سادہ لوح بھانگڑو تھا فیصلہ سننے کے بعد نہایت ہی مودبانہ طریقے سے منصف سے پوچھا، میرے لئے کیا حکم ہے سرکار ؟کیا حکم؟عدالت نے حیرت سے پوچھا۔وہ بھینس جو میں نے چوری کی تھی مالک کو واپس کر دوں یا اپنے پاس رکھوں ؟عدالت نے جواب میں کیا کہا نہیں معلوم ۔ہم سے اگر یہ سوال کیا جاتا تو ہم بھینس کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے اور پھر بھینس سے پوچھتے کہ وہ اصل مالک کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا پھر دوسرے شخص کے ساتھ،بھینس کی طرف سے جوجواب آتا اس کے مطابق سپردگی کا حکم جاری کرتے۔ابھی کل پرسوں پانامہ کیس میں بحث کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری کمرئہ عدالت سے نکلے تو اخباروالوں نے ان سے پوچھا نون والوں کے مطابق آپ کے دلائل کچھ زیادہ وزنی نہیں، مقدمہ ہارنے پر آپ کا ردعمل کیا ہو گا؟نعیم بخاری نے بلا کسی توقف کے جواب دیا مقدمہ وکیل نہیں موکل ہارتا ہے۔ ان کی بات درست لگتی ہے وکیل اگر مقدمہ ہارتے تو آئندہ کے لئے انہیں کوئی کیس ہی نہیں ملتا۔بات انصاف کی فراہمی کی ہوتی ہے۔عدالتوں کا کام تمام قانونی نکات کو سامنے رکھتے ہوئے مبنی بر انصاف فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔جب بھینس چوری کے مقدمے میں واقعاتی شہادتیں کمزور ثابت ہوئیں تو پھر عدالت کو اسے بری کرنا ہی پڑا۔اس کو کلین چٹ مل گئی بالکل اسی طرح غبن کے ایک مقدمے میں قومی احتساب بیورو نے ایک شخص سے 42ارب روپے کی خطیر رقم برآمد ہونے کے بعد اس سے پلی بارگین قانون کے تحت 2ارب وصول کر لئے اور اسے کلین چٹ فراہم کرتے ہوئے کہا سپین باز ئی گرزہ مزے کوہ۔جائو عیش کرو۔منکیر نکیر تم سے جو سلوک روا رکھیں ہم اس کی ذمہ داری نہیں لیتے۔البتہ 42 ارب روپے کے غبن کیس سے تم کلیئر ہو گئے ۔ کہا جاتا ہے اس میگا غبن کیس کی اتنی دھوم مچی کہ قومی احتساب بیورو کے صدر نشین کے اختیارات محدود کرنے کی بات ہونے لگی۔ شنید ہے کہ اب اس نوع کے کیسز میں پلی بارگین کا فیصلہ اعلیٰ عدالتوں میں ہوگا اور یہ کہ کسی سرکاری ملازم پر الزام ثابت ہونے کی صورت میں وہ ہمیشہ کے لئے کسی بھی اہم منصب پر فائز ہونے کا اہل نہیں رہے گا۔ بات ہم شیخو پورہ کے نواحی قصبے مانوالہ کے دو سالہ بچے عاقب پر قتل کے الزام میں گرفتاری اور اسے عدالت سے چار روز کی ضمانت پر رہائی سے شروع کی تھی۔ گزشتہ رات ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر پٹی چل رہی تھی کہ شیخو پورہ کے ڈی پی او نے کہا ہے کہ بچے کے خلاف مقدمہ غلطی سے درج کیاگیا تھا۔ اس کی وجہ اصل ملزم سے بچے کی ہم نامی تھی۔ وہ بھی عاقب تھا یہ بھی عاقب ہے۔ اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ کسی شہر نا پرسان کی طرح پھندے کے لئے گردن تلاش کی گئی تھی۔ اصل مجرم کی پتلی گردن میں پھندہ اچھی طرح نہیں بیٹھ رہا تھا تو اسی شہر میں کھانے پینے کے شوق میں آئے ایک موٹی گردن والے چیلے کی گردن میں وہ پھندا ڈال دیاگیا یا پھر یہ کہ بیگار میں اونٹوں کے پکڑے جانے پر ایک بھاگتے ہوئے گیدڑ سے پوچھا گیا کہ تمہیں کیا پریشانی ہے تو اس نے کہا کہ شہر نا پرسان ہے اونٹ کا بچہ سمجھ کر میں نہ دھر لیا جائوں۔ بہر حال ہمیں معصوم بچے عاقب کی کہانی کے ہیپی اینڈ پر خوشی ہوئی کہ شیخو پورہ کے ڈی پی او نے اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے اور معصوم بچہ26 سالہ شخص کے قتل کے الزام میں سزا سے بچ گیا۔

متعلقہ خبریں