Daily Mashriq


گیس بندش۔۔ پہیہ جام کی نوبت نہ آنے دیں

گیس بندش۔۔ پہیہ جام کی نوبت نہ آنے دیں

ابھی چار روز پہلے اسی موضوع پر لکھے ہوئے ہمارے ادارتی نوٹ کی روشنائی خشک بھی نہیں ہوئی جب پشاور شہر میں بالخصوص اور صوبے کے دیگر شہروں میں بالعموم گیس لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ہم نے آئین کے متعلقہ آرٹیکل کے حوالے سے صورتحال کی درستگی کی گزارش کی تھی مگر لگتا ہے کہ نہ صرف محولہ سیاسی رہنما بلکہ ہماری گزارشات بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوئیں اور گیس لوڈشیڈنگ کی بہتری تو ایک طرف الٹا اس میں اضافہ کی شکایات سامنے آرہی ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ روز ورسک روڈ کے رہائشی سڑکوں پر نکل آئے اور پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی رہنما اصغر خان خلیل کی قیادت میں مظاہرین نے سڑک کو دونوں جانب سے بلاک کرکے ہر قسم کی ٹریفک کو روک کر احتجاج کرنا شروع کردیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پشاور میں سوئی گیس کے پریشر میں کمی اور بہت سے مقامات پر صبح اور شام کے اوقات میں مکمل بندش سے عوامی زندگی جس طرح متاثر ہو رہی ہے وہ تو تصویر کا ایک رخ ہے جبکہ دوسرا رخ یہ ہے کہ متعلقہ حکام گیس لوڈشیڈنگ کے حوالے سے درست صورتحال بتانے سے بھی گریزاں ہیں اور اس بات سے انکاری ہیں کہ شہر میں کہیں پریشر کم ہے یا پھر لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی ہے اور یہی وہ صورتحال ہے جس کی وجہ سے عوام کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں یعنی ایک تو گیس کی دستیابی شدید متاثر ہے اوپر سے حکام اس صورتحال سے انکاری ہیں۔ اور اگر یہ صورتحال جوں کی توں رہی تو یقینا عوام کے جذبات کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ تاہم جیسا کہ ہم پہلے بھی انہی کالموں میں عرض کرچکے ہیں بلکہ ہر سال سردی کے موسم میں ایسی ہی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے یہی گزارش کرتے رہتے ہیں کہ اگر مرکزی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ بجلی اور گیس کی فراہمی میں سوتیلی ماں کا سا سلوک روا رکھتی ہے تو صوبائی حکومت کیوں اپنے فرائض ادا کرنے سے غافل ہے۔ صوبائی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرکے صورتحال کی بہتری پر مجبور کرے بصورت دیگر عدلیہ سے رجوع کرکے صوبے کے جائز حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

افغانیوں کے لئے ڈیڈ لائن

حکومت پاکستان کی جانب سے افغان شہریوں کو خبر دار کئے جانے کے بعد 31جنوری کے بعد کسی بھی افغان شہری کو کمپیوٹرائزاڈ پاسپورٹ کے بغیر پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ افغان شہریوں اور متعلقہ اداروں کو خبردار کرنے کے لئے بینرز بھی آویزاں کردئیے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان کے اعلان پر افغان حکومت کا موقف تادم تحریر سامنے نہیں آیا جبکہ حکومت پاکستان کی طرف سے بھی مزید تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت بارڈر مینجمنٹ کا فیصلہ کیاگیا تھا جس کے بعد افغان شہریوں کے لئے پاکستان میں داخلے کے لئے خصوصی پاسز لازمی قرار دئیے گئے تھے۔ بعد ازاں داخلہ کے لئے پاسپورٹ کا حامل ہونا لازمی قرار دیاگیا تھا اور اب اسے کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ سے مشروط کردیاگیا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ضروری ہے کہ جو افغان پاکستان میں طویل عرصے سے مقیم ہیں انہیں بھی مزید مدت دینے کی بجائے جلد از جلد واپس وطن بھیجنے کے اقدام کئے جائیں کیونکہ ان لوگوں میں ایسے عناصر کی موجودگی کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کو سہولت کاری یہی لوگ فراہم کرتے ہیں اور اگر یہ لوگ واپس اپنے وطن چلے جائیں تو یہاں پر دہشت گردی میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔قابل صد افسوس امر یہ بھی ہے کہ جب بھی پاکستان میں رہائش پذیر افغانوں کو دی جانے والی مہلت ختم ہونے کو آتی ہے اور حکومت پاکستان انہیں مزید مہلت دینے سے انکار کرتی ہے تو نہ صرف یو این ایچ سی آر کے حکام پاکستان پر دبائو ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اسلام آباد اور پشاور میں موجود افغان سفارتکار بھی منت ترلوں پر اترآتے ہیں۔ مگر جیسے ہی ان کے قیام کی مدت بڑھا دی جاتی ہے افغان حکومت کا رویہ معاندانہ صورت اختیار کرلیتا ہے اور وہاں سے پاکستان کے خلاف طرح طرح کے الزامات عائد ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے ہی سابق افغان صدر حامد کرزئی نے صدرٹرمپ کی ٹویٹ کی جس طرح حمایت کرکے پاکستان پر الزام تراشی کی وہ احسان فراموشی کی بدترین مثال ہے۔ ان حالات میں پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کو مزید قیام کی اجازت دینا کسی بھی طور پاکستان کی حکومت اور پاکستان کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ ا س لئے جس قدر جلد ممکن ہو ان افغان باشندوں کو اپنے وطن واپس بھیج دیا جائے اور آئندہ کسی بھی افغان باشندے کو کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ کے بغیر پاکستان میں داخلے کی اجازت ہرگز نہ دی جائے۔

متعلقہ خبریں