Daily Mashriq


پاک امریکہ تعلقات ٹویٹ سے ٹیلی فون تک

پاک امریکہ تعلقات ٹویٹ سے ٹیلی فون تک

پاکستان اور امریکہ کے درمیان جس تعلق کو سات عشروں سے دوستی کا نام دیا جارہا تھا وقت بدلتے ہی اس کی اصل حقیقت عیاں ہو کر رہ گئی ہے ۔ثابت یہ ہورہا ہے کہ دونوں کے درمیان تعلق کے لئے دوستی کاعنوان ہرگز مناسب نہیں تھا ۔کچی ڈور کی مانند یہ ’’امداد وتعاون ‘‘ کا معاملہ تھا ۔تھوڑا سا اور حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو اسے آجر اور اجیر کا تعلق بھی کہا جا سکتا ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی حالیہ لہر کے دوران ہی امریکہ نے پاکستان کی سیکورٹی امداد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ۔اس کے جواب میں وزیر دفاع خرم دستگیر نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ سے انٹیلی جنس اور دفاعی تعاون معطل کر دیا ہے ۔یوں امداد کی معطلی کے جواب میں تعاون معطل کر دیا۔ ماہرین اور آزاد مبصرین کا ا س بات پر اتفاق ہے کہ امریکی امداد سے پاکستان پر کچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا ۔اگر حکومت پاکستان سلیقہ مندی اور منصوبہ بندی سے کام لے تو ان پابندیوں کو بے اثر بنا سکتی ہے مگر امداد کے بدلے پاکستان کا تعاون حقیقت میں ختم ہوجائے تو افغانستان میں امریکہ کی شہ رگ پر طالبان کا پائوں آسکتا ہے ۔امریکہ اور نیٹو کے لئے اب بھی رسد پاکستان کی زمین اور فضا ء سے جا ری ہے ۔پاکستان تعاون کی اس معطلی کا یہ آخری کارڈ ابھی تک بچائے ہوئے ہے اور شاید حالات بدلنے کی اُمید پر بھی یہ کارڈ سنبھال کر رکھا گیا ہے ۔امریکی امداد کی معطلی پاکستان کے خودانحصاری کی راہ پر جانے کا بہترین ذریعہ اور لمحہ ہے ۔ہونا تو یہ چاہئے کہ پاکستان کے منصوبہ ساز اس موقع کا فائدہ اُٹھا کر کشکول پھینک دینے کی ٹھوس منصوبہ بندی کریں مگر جنہیں امداد کی چاٹ لگ چکی ہے ان سے کسی قلندرانہ فیصلے کی توقع عبث ہے ۔ ان کی خواہش ہوگی کہ امریکہ کے ساتھ حقیقی فاصلہ پیدا ہونے کی بجائے چوہے بلی کا یہ کھیل یونہی جاری رہے۔ پاکستان امریکی امداد کے بغیر زندہ رہنا با آسانی سیکھ سکتا ہے مگر افغانستان میں پھنسے ہوئے امریکہ کے لئے پاکستان کی طرف سے ہر قسم کے تعاون کی معطلی کس قدر نقصان کا باعث ہوگی اس کا خلاصہ بہت ادبی انداز میں اس ساری صورت حال کے واقف حال رچرڈ اولسن نے اپنے ایک مضمون میں بیان کیا ہے۔تین سال تک پاکستان میں امریکہ کے سفیر اورایک سال امریکی نمائندہ برائے پاکستان و افغانستان رہنے والے رچرڈ اولسن نے ’’ہائو ٹو انگیج ود پاکستان‘‘کے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں امریکی عوام کو افغان صورت حال پر پاکستان کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر امریکی فوج کی مثال ساحل پر پڑی وہیل مچھلی کی مانند ہے۔ اس کے لئے اردو میں ’’ماہیِ بے آب‘‘ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ماہیِ بے آب کو پانی میسر نہ آئے تو آکسیجن سے محروم ہوکر تڑپ تڑپ کا مرنا اس کا مقدر ٹھہرتا ہے ۔اس طرح رچرڈ اولسن نے پاکستان کے تعاون کو امریکہ کے لئے آکسیجن کی مانند قراردیا ہے۔رچرڈ اولسن نے یہ نہیں کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اپنے اختلافات کو بتدریج کم یا محدود کرنا چاہئے بلکہ ان کا اعتراض یہ تھا کہ پاکستان کو ٹویٹر کے ذریعے پیغام دینا سود مند نہیں ہوگا ۔اس سے مستقبل میں کسی کامیابی کی توقع نہیں ۔ اس کی جگہ پرائیویٹ طور پر بات کرنے کا روایتی طریقہ اختیار کئے رہنا ہی اچھا ہے۔اس طرح رچرڈ اولسن کے بیان کردہ نسخے کے مطابق بھی پاک امریکہ اختلافات کی خلیج کم کرنے کی بجائے دبائو کا انداز تبدیل کرنا ہی مسئلے کا حل ہے۔امریکیوں نے جم کر پاکستان کو چھڑی دکھائی ۔ پاکستان کو خطرناک نتائج پر مبنی دھمکی آمیز اور امداد کے جعلی اعداد وشمار پر مبنی تضحیک آمیز ٹویٹ کے ذریعے امریکہ نے چھری لہرا لہر ا کر پاکستان کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جب کام نہ چلا تو گاجر کا نسخہ آزمانے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ دوسرے لفظوں میں ٹویٹر سے لگے زخم ٹیلی فون کے ذریعے مندمل کرنے کا خیال آگیا۔آجر اور اجیر ، امد و تعا ون ، گاجر اور چھڑی کی اس کہانی میں نیا موڑ اس وقت آیا جب امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹیلی فون کرکے یہ باور کرانے کی کوشش کی امریکہ پاکستان کے اندر کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا ۔اس کے جواب میں جنرل باجوہ کی جو گفتگو جاری ہوئی اس سے پاکستان کا اعتماد جھلک رہا ہے ۔ا س ٹیلی فونک رابطے کو تعلقات کی برف پگھلانے کی کوشش تو کہا جا سکتا ہے مگر دونوں ملکوں میں جو خلیج پیدا ہوچکی ہے یہ اسے حقیقی طور پر پاٹنے میں کم ہی معاون ہو سکتی ہے۔ جنرل باجوہ نے امریکیوں سے کہا ہے پاکستان کو امریکی امداد کی ضرورت نہیں اور یہ کہ پاکستان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے ۔لامحالہ ان کااشارہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مہم جوئی کے آغاز کے وقت پاکستان کو دھوکے سے اس میں گھسیٹنے کی جانب ہے ۔امریکہ نے دہشت گردی کے وقت صرف القاعدہ اور طالبان کا نام لیا مگر بعد میں یہ اصطلاح پھیلتے پھیلتے کشمیر تک پہنچ گئی ۔امریکہ نے اسے اپنے تحفظ اور بچائو کی جنگ کہہ کر پاکستان کو ہلہ شیری دی مگرپاکستان اس میں کود گیا تو بتایا گیا کہ یہ امریکہ اور بھارت کے تحفظ کی جنگ ہے۔ یہاں پاکستان نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والی مشکل میں پھنس گیا ۔پاکستان ایک حد سے آگے اس راہ پر چل توپڑا مگر ایک مقام ایسا آیا جب پاکستان اس جنگ سے اپنے مقاصد اورمفاد کے تحت ہاتھ کھینچتا چلا گیا۔چند دن پہلے ہی ایک امریکی گلہ گزار تھا کہ پاکستان نے صرف ان دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی ہے جو اس کے لئے خطرہ تھے ۔ اصل مسئلہ پاکستان اور امریکہ کے تیزی سے بدلتے ہوئے دفاعی تصورات ہیں جو دوقطعی متضاد سمتوں کی طرف رواں دواں ہیں۔وجہ اختلاف یہ ہے کہ امریکہ نے ایشیا میں بھارت کو اپنا ’’اسرائیل ‘‘ بنالیا ہے ایسے میں پاکستان بھی اپنا نیا’’ امریکہ ‘‘ چننے کا حق استعمال کررہا ہے ۔

متعلقہ خبریں