ہائے زینب

ہائے زینب

اگر نوحے خون سے لکھے جاتے ہوتے تو زینب کا نوحہ میں اپنے خون سے لکھتی ۔ میں لکھتی کہ جس روز سے زینب نے یہ دنیا چھوڑی ہے ، میری جیسی کئی مائیں راتوں کو سو نہیں سکتیں ۔ میں لکھتی کہ میرے لفظوں میںوہ طاقت نہیں کہ میں اپنے ہاتھ سے زینب کا نام لکھوں اور ساتھ یہ بھی لکھوں کہ میری جیسی مائوں کے ہوتے ہوئے ایک ماں کی کوکھ یوں ظلم سے اجاڑ دی گئی اور ہم خاموش رہے ۔ میں خاموش رہی کیونکہ میرا دل پھٹ رہا تھا ۔ میں چپ رہی کیونکہ میرا کوئی نوحہ ، کوئی بین زینب کی اذیت میں اس کا مدد گار نہ رہا تھا ۔ وہ اکیلی ہی ہماری بے اعتنائی بھگت کر اس دنیا سے روٹھ گئی ۔ میں کیا کہوں کہ زینب کی ماں عمرہ کرنے گئی تھی تو اسکے ارد گر دکی مائیں کیا مرگئی تھیں کہ وہ زینب کو نہ بچا سکیں ۔ اف وہ ننھی بچی ۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتی ۔ میری بیٹی سات سال کی ہے ۔ میں اس کو کبھی زور سے تھپڑ نہیں مارتی کہ یہ برداشت نہ کر سکے گی ۔ زینب نے ظلم کیونکر کاٹ لیا میری تین بیٹیاں ہیں ۔ میں زینب پر ہوا یہ جبر برداشت نہیں کر سکتی ۔ میں اس خیال کو بھی اپنے دل و دماغ سے نہیں جھٹک سکتی ۔ جب لوگ میڈیا پر اس حوالے سے بات کرتے ہیں تو میں سوچتی ہوں یہ اس حوالے سے بات بھی کیسے کر سکتے ہیں ۔ لیکن پھر میں دیکھتی ہوں کہ ان کے دل بھی اس طرح خون ہورہے ہیں وہ بھی میری طرح رو رہے ہیں ۔ وہ بھی تڑپ رہے ہیں ۔ ان کے پاس بھی زینب کی ماں کو تسلی دینے کیلئے کوئی الفاظ نہیں ۔ انکے لیے بھی زینب ان کی اپنی ہی بیٹی ہے ۔ لیکن ہم سب کی یہ تڑپ بھی سیاست دانوں کے ارادوں کو متزلز ل نہیں کر سکتی ۔ وہ ہر حالت میں اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں انکے لیے زینب بس زینب ہے ۔ کسی کی بیٹی جو بقول رانا ثناء اللہ اپنے ہی ماں باپ کی لاپرواہی سے اس حادثے کا شکار ہوگئی ۔ راناثناء اللہ جیسے لوگوں کو ایسی باتوں کے نتیجے میں عدالت میں لے جانا چاہیئے تاکہ وہ اس بات کا جواب دے سکیں کہ وہ ایسی باتیں کر کیسے سکتے ہیں ۔ ایک عوامی عہدہ سنبھالنے کے باوجود ایسے غیر ذمہ دارانہ بلکہ غیر انسانی بیانات پر انہیں عدالت سے سزا بھی ہونی چاہیئے ۔ میں زینب کو بھول نہیں سکتی ۔ اسکے خوبصورت چہرے کی وہ معصوم مسکراہٹ جو میری بیٹی جیسی ہے ۔وہ ہر ماں کے دل کا ناسور بن گئی ہے ۔ ہر بار جب میڈیا پر وہ سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی جاتی ہے جس میں وہ نہایت اطمینان اور معصومیت سے اس درندے کا ہاتھ تھامے چلتی چلی جارہی ہے ۔ میرادل تڑپتا ہے ، میں اسے کسی طرح روک لوں ۔ میں اسے اپنے دل میں چھپالوں ، اسے بچالوں اور اپنی اس بہن کو واپس کردوں ۔ لو بہن زینب آگئی لیکن یہ میری بے بسی ہے ۔ یہ میری بہن کی بے بسی ہے جسکی زینب چلی گئی ۔ میں اپنے بھائی کا دکھ جانتی ہوں میں اس کی بے بسی بھی جانتی ہوں ۔ میں اس کے دل کی تڑپ سمجھتی ہوں ۔ لیکن میں اور میرے جیسے ان گنت والدین بس تڑپ ہی رہے ہیں ۔ اے کاش کسی صورت ہم اپنے اپنے دل کے سکون کا ایک ہی لمحہ زینب کے ماں باپ ، ہمارے بہن بھائی کو دان کر سکتے ۔ کاش کسی صورت ہم ان کادُکھ بانٹ سکتے ۔ کوئی ان کے دُکھ کے سیاسی بھائو لگانے کی کوششیں کرتا تو اس کا منہ نوچ سکتے ۔ کوئی ان پولیس والوں کی طرح انسانیت سے گرجاتا جو زینب کی لاش حوالے کرنے کے دس ہزار روپے مانگ رہے تھے تو اس کا منہ نوچ لیتے ۔ رانا ثناء اللہ جیسی باتیں کرنے پر ہم عدالت سے رجوع کرتے ۔ اور اس وقت تک اپنے گھر نہ لوٹتے جب تک زینب کے قاتل کو قصور کے چور اہے میں پھانسی نہ دی جاتی تب شاید اس ظلم کی آگ کچھ مدھم ہوتی ۔ ہماری بیٹی کیسے ہماری آنکھوں کے سامنے ایک بھیڑیئے نیبھنبھوڑ دی اور کیسے لگڑ بھگڑ اسکے ارد گرد شور مچا رہے ہیں ۔ 

یہ لفظ خون کیوں نہیں روتے کیونکہ میری آنکھیں تو خون رنگ ہیں ۔ یہ دل دھڑکنا بند کیوں نہیں کر دیتا کیونکہ میری زینب تو خاموش ہے ۔ یہ لوگ سیاہ لباسوں میں کیوں نہیں کیونکہ زینب نے سفید چادر اوڑھ لی ۔ یہ پورا ملک ماتم کیوںنہیں کرتا کہ زینب مسکراتی نہیں ہے ۔ ہم کیسے یہ نہیں جانتے کہ زینب نہیں ہے کیونکہ ہم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔ ہم کیسے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں ، کیسے بات کرتے ہیں ،کچھ مسکراتے ہیں ، کیسے زندگی جی رہے ہیں ، زینب کے قاتل کے پکڑے جانے تک تو زندگی تھم جانی چاہیئے ۔ جب تک اسکے قاتل کو سرعام پھانسی نہ ہو جائے اس وقت تک کسی کو اپنے گھر میں سکون سے سونا نہیں چاہیئے اور کسی پولیس والے کو سونے نہیں دینا چاہیئے ۔ کسی عدالت کو بند نہیں ہونا چاہیئے ۔ کوئی زینب کے علاوہ کوئی اور بات نہ کرے ۔ یہ ملک بس کچھ اور نہ رہے ، زینب کا رکھوالا بن جائے ۔ زینب جو چلی گئی زینب جو ہے ۔ زینب جوقصور میں تھی ، زینب جو میرے گھر میں ہے ۔ زینب جو آ پ کے گھر میں ہے ۔ اس قاتل کو بس پھانسی نہیں دینی چاہیئے ۔ اسے سنگسار ہونا چاہیئے ،اسے آگ پر جلانا چاہیئے ۔ اسکے جسم کے اس وقت ٹکڑے کیئے جانے چاہئیں جب وہ زندہ ہو ۔ اسکی سزا ایسی ہونی چاہیئے کہ اسکی چیخیں زینب کو اسکی قبر میں سنائی دیں ۔ اسکی آواز سے آسمان پھٹ جانا چاہیئے ۔ وہ رحم کی بھیک مانگے لیکن اسکے لیے رحم نہ ہو ۔ اس نے ہماری بیٹی پر ظلم کیسے ڈھایا ۔ اسکے جیسے کوئی اور اس ظلم کی ہمت نہ کر سکے ۔ زینب چلی گئی لیکن اب زینب کو محفوظ ہونا چاہیئے ۔ اور اگر یہ نہ ہوسکے اور حکومت ناکام ہو جائے تو ہم ناکام ہیں اور اس زندگی میں کیا رکھا ہے جس میں ہماری زینب ہی محفوظ نہیں ۔

متعلقہ خبریں