چاندی ملی تو ذہن کا سونا پگھل گیا

چاندی ملی تو ذہن کا سونا پگھل گیا

بھارتی صحافیوں نے شاید وہ لطیفہ یا واقعہ نہیں سنا تھا جبھی تو بے چارے رنگے ہاتھوں دھر لئے گئے اور نہ صرف چاندی کے چمچے چوری کرنے کی وجہ سے پوری بھارتی قوم کیلئے شرمندگی کا باعث بنے بلکہ ان کو اپنی اس گھٹیا حرکت کیلئے جرمانہ بھی بھرنا پڑا ۔ یہ واقعہ تو لندن کا ہے جہاں بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی کے ساتھ دورے پر گئے ہوئے صحافیوں نے بھارت کی عزت خاک میں ملا دی اور کھانے کے دوران ہوٹل کے چاندی کے چمچے چرانے کی حرکت ہوٹل کے سی سی ٹی وی کیمروں نے محفوظ کر لی ۔ جب ہوٹل کے سیکورٹی عملے نے اس واقعے کی نشاندہی کی تو زیادہ تر صحافیوں نے چاندی کے چمچ واپس کر دیئے لیکن ایک صحافی نے یہ ماننے سے ہی انکار کر دیا اس نے ایسی کوئی حرکت کی ہے حالانکہ کیمرے میں اس کا یہ کارنامہ بخوبی ریکارڈ ہو چکا تھا ، ہوٹل انتظامیہ نے بھارتی صحافیوں سے چمچے بر آمد کر کے 50پائونڈ جرمانہ بھی عاید کیا ۔ اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ 

غرض نہیں ہے انہیں شہر کی روایت سے
یہ لوگ گائوں سے پیسے کمانے آئے ہیں
کہتے ہیں کہ نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے مگر جیسا کہ کالم کی ابتدائی سطر میں عرض کیا کہ ان لوگوں نے شاید وہ لطیفہ یا واقعہ نہیں سنا ، اور اگر سناہوتاتو بے چاروں (بے چاروں ؟ ) کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا کہ خود کو شرمندہ ہوئے ہی ، اپنے ملک بھارت کے چہرے پر بھی سیاہی مل دی ، وہ واقعہ یہ ہے کہ اسی طرح ایک بہت بڑی دعوت میں میز پر چاندی کے برتن او رسونے کے چمچ ، کانٹے اور چھریاں مہمانوں کے استعمال کیلئے رکھی گئی تھیں ، ایک ندیدے مہمان سے برداشت نہ ہو سکا اور اس نے تین چمچے لوگوں کی نظریں بچا کر اپنی جیب میں ڈال لئے ، یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی سی سی ٹی وی کیمروں کا کوئی وجود ہی سرے سے نہیں تھا ، مگر ایسا ہی ایک اور لالچی مہمان بھی سونے کی کٹلری پر حریص نگاہیں مرکوز کئے ہوئے تھا اور اس نے چمچ چوری کرنے والے کی حرکت دیکھ لی تھی۔ اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور جب کھانے کا دور اختتام پذیر ہو رہا تھا تو اس نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر تمام مہمانوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ، جب سب لوگ اس کی جانب حیرت سے دیکھنے لگے کہ یہ شخص کیا کہنا چاہتا ہے تو اس نے کہا ، خواتین و حضرات اب میں آپ کو جادو کی ایک کرتب دکھانا چاہتا ہوں ، لفظ جادو کا سن کر تمام حاضرین زیادہ دلچسپی سے اسے دیکھنے لگے ۔ اس نے میز سے سونے کے تین چمچ اٹھا کر اطمینان سے اپنی جیب میں ڈالے اور کچھ منہ ہی منہ میں بڑ بڑانے لگا ۔ پھر اس نے پہلے ہی چمچ چوری کر کے جیب میں ڈالنے والے کے پاس پہنچ کر ایک بار پھر کچھ زیر لب پڑھنے کی ایکٹنگ کی اور کہا ، صاحبان ابھی جوتین چمچ میںنے اپنی جیب میں ڈالے تھے وہ میں نے جادو کے زور سے ان صاحب کی جیب میں منتقل کر دیئے ہیں ،یہ دیکھئے ۔۔۔اور کہتے ہوئے اس نے پہلے والے چور کی جیب میں ہاتھ ڈال کر چوری کے تینوں چمچ نکال کر ہوا میں لہرائے اور انہیں میز پر ڈال دیا ، یہ ’’کرتب ‘‘ دیکھ کر پورا ہال بھر پور انداز سے تالیاں بجا بجا کر اسے خراج تحسین پیش کرنے لگا ، جس نے پہلے سونے کے چمچے چوری کئے تھے وہ اندر ہی اندر کھول رہا تھا مگر کچھ نہیں کرسکتا تھا جبکہ دوسرا شخص چمچے جیب میں ڈال کر یہ جاو ہ جا۔ خیر یہ تو بعد میں میزبانوں کو پتہ چلا ہوگا کہ شعبدہ بازان کے ساتھ ہاتھ کر کے چمچے چوری کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے ۔ تاہم چونکہ اس زمانے میں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہوتے تھے اس لئے یہ واردات کامیاب ہوگئی تھی ۔ جبکہ بھارتیوں کو یہ بات سمجھ میں کیوں نہ آسکی کہ اب تو ہرجگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوتے ہیں اور ہر شخص پر کڑی نظر رکھتے ہیں ۔ تو ایسی حرکت کیوں کی جائے کہ نہ صرف انہیں شرمندگی اورخجالت کا سامنا کرنا پڑے بلکہ اپنی اس حرکت سے اپنے ملک بھارت کو بھی بدنام کیا جائے ۔ اس قسم کی چوری چکاری سے دوسروں کو خبردار کرنے کیلئے قدیم زمانے ہی سے کوششیں جاری ہیں اور ایک شاعر نے تو مساجد میں بھی نمازیوں کی فکر کرتے ہوئے کہا تھا
اپنے جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار
ایک شخص آتے ہیںمسجد میں خضر کی صورت
اس شعر میں ایک عرصے تک جیبوں کی جگہ غلطی سے جوتوں کا لفظ استعمال کیا جاتا رہا ہے ، کیونکہ بد قسمتی سے ہمارے ہاں نمازیوں کے جوتوں کی چوری کا سلسلہ عام رہا ہے ، مگر بعد میں ادب کے محققین نے اصل لفظ ڈھونڈ نکال کر شعر کو درست کردیا۔ اب خدا جانے وہ ’’خضر صورت ‘‘ مسجد میں جیبیں کیسے کاٹ لیتا تھا ۔ جس کی آمد سے شاعر نے نمازیوں کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی تھی ۔رہ گئے بھارتی صحافی تو اگر چہ ہندو بچے کے بارے میں تو مشہور بات یہی ہے کہ بنئے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے مگر اب کی بار اس کی بنیا گیری کسی کام نہ آئی بلکہ انہیں اس کم بخت سی سی ٹی وی کیمرے نے بے نقاب کر کے اس کے سارے فلسفے کو ناکام بنا کر رکھ دیا ۔ حالانکہ انہیں چاہیئے تھا کہ وہ ممتا بینر جی کے ساتھ لندن یاترا پر جانے سے پہلے اپنے ہی ملک کے ایک مشہور کردار ، ریاست بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر ریلوے لالو پرشاد یادیو سے ہی مشورہ کرلیتے ، جنہوں نے چارہ گھٹالا میں بھی نام کمایا ، یعنی بے چارے بے زبان جانوروں کو چارہ کھلانے میں گھپلا کرکے تجوریا ں بھریں ، یہ توپھر چاندی کے چمچ تھے اور چاندی کی چمک سے متاثر ہونا بہت ہی آسان ہے ، اگر چہ ہمارے پیارے دوست مرحوم قاسم حسرت نے ایسے ہی پڑھے لکھے ہوئوں کے بارے میں کیا خوب کہا تھا
مفلس رہا تو سارے زمانے پہ راج تھا
چاندی ملی تو ذہن کا سونا پگھل گیا

متعلقہ خبریں