’’جو کرتاہے تو چھپ کے اہل جہاں سے ‘‘

’’جو کرتاہے تو چھپ کے اہل جہاں سے ‘‘

افراتفری کے اس دورمیں جہاں یومیہ درجنوں معصوم بچوں کو درندے نما انسان اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہوں ،مگر انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوتی ہو ،جہاں والدین اپنے معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا انصاف لینے کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبورہوں ،ایسے معاشرے میں ایک ننھی پری زینب کو رات کی تاریکی میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور قاتل یہ درندگی کرنے کے بعد مطمئن ہو گیا کہ رات کے اندھیرے میں اسے کسی نے نہیں دیکھا ہوگا ،قاتل اس لئے بھی مطمئن ہو گیاکہ ملک کے کھوکھلے اور نیم مردہ سسٹم میں کوئی طاقت بھی اس کو پکڑ نہیں سکتی ،(ان سطور کی تحریر کے وقت تک زینب کا قاتل پکڑا نہیں جا سکا ہے)لیکن تاریخ میں شاید پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ پاکستانی قوم نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی جس نے حکام بالا کے سوئے ضمیروںکو جگانے کا کام کیا اور جس کیس کاچار دن سے نوٹس نہیں لیا گیاتھا وہ چشم زدن میں لیا گیا ،قاتل کو شاید یہ سب معلو م نہیں تھا کیونکہ اطلاعات کے مطابق قاتل اب تک کم از کم 12معصوم بچوں کے ساتھ ایسی درندگی کر چکا تھا ،زینب کے ساتھ کی جانے والی قاتل کی طرف سے وہ کیسی سفاکیت تھی جس نے عرش کو بھی ہلا دیا ،کبھی خیال آتا ہے معصوم پری زینب کے ساتھ جب یہ درندگی ہو رہی تھی تو اس کے والدین اللہ کے گھر میں عمرہ کے سفر پر تھے انہوں نے اللہ کے گھر میں اپنے بچوں کی حفاظت کی دعا کی ہوگی جسے اللہ تعالیٰ نے اس طرح شرف قبولیت دی کہ پورا پاکستان جاگ اٹھا ،اب یہ بیداری صرف زینب کے قاتلوں کو کٹہرے میں لانے اور قرارواقعی سزا دینے تک محدود نہیں رہنی چاہئے بلکہ قوم کو مسلسل بیدار رہنا ہوگا کہ پھر کسی زینب کیساتھ کوئی سفاک ایسی درندگی نہ کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو اعتماد میں لے کراِس چیز کی ہمہ وقت تربیت دی جانی چاہیے کہ اگر کوئی شخص ان کے ساتھ ایساکچھ کرنے کی کوشش کرے تو وہ اسے اپنے یا قریب موجود ایک ذمہ دار فرد کے علم میں کیسے لائیں۔آپ کو سب سے اہم یہ بات جاننی چاہیے کہ بچوں سے متعلق وہ خطرات کون سے ہیں؟اس ضمن میں سر فہرست چند امور ہیں۔نامناسب کپڑے، اشارے، خوراک (شراب، گٹکا، پان، چھالیہ) نامناسب جسمانی رابطہ (غیر ضروری طور پر گلے لگنا، پیٹھ پر تھپکی دینا وغیرہ)کیا آپ اپنی نگہداشت میں موجود بچے کو کسی ایسے شخص کے سامنے باقاعدگی سے رہنے دیں گے؟اگر آپ کا جواب’’ناں‘‘ میں ہے تو آپ کو اِن باتوں کا دھیان رکھنا چاہیے۔جب آپ وہاں پر نہ ہوںتو ایسے افراد کا آپ کے بچے کے ساتھ کیاسلوک ہوگا؟کوئی بھی بڑا، جو باقاعدگی سے کسی بچے کے ساتھ تعلق یا رابطے میں آتا ہو،اسے واضح طور پر بتا دیں کہ کیا چیز قابلِ قبول ہے اور کیا نہیں، اور ایسے کسی بھی اقدام کے مندرجہ ذیل نتائج ہوسکتے ہیں:نوکری سے برطرفی،بلیک لسٹ کرنا اور یقینی بنانا کہ انہیں کہیں اور نوکری نہ ملے ،حکام کوان کی اطلاع دینااور ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کر کے انہیں سزا دلواناتاکہ وہ دوبارہ کسی کے ساتھ ایسی گھناؤنی حرکت نہ کر سکیں۔کیا آپ نے اپنے بچے کو تیار کیا ہے کہ وہ کسی بھی نامناسب رویے کی شکایت کسی ذمہ دار بالغ شخص کو کرسکے؟آپ کو اپنا گھریلو اسٹاف (ملازمہ، ڈرائیور، ٹیوٹر وغیرہ) کہاں سے بھرتی کرنا چاہیے؟کسی ملازمت ایجنسی سے،ذاتی واقفیت اور حوالے کی بناء پر،کیا آپ کے پاس ان کا ریکارڈ موجود ہے؟کیا آپ کم از کم ایک بار ان کے گھر جاکر ان سے مل چکے ہیں؟ (خاص طور پر ملازمہ اور ڈرائیور سے)کیا آپ نے ان کی اصلی شناختی دستاویزات دیکھی ہیں؟ان کے پچھلی نوکری چھوڑنے یا پہلی مرتبہ کام شروع کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟اکثر اوقات آپ کو یہ بات مشکل تجربے کے بعد ہی معلوم ہوگی کہ اس شخص کو سابقہ نوکری سے نکالنے یا چھوڑنے کی وجہ چوری کے الزامات تھے۔انہیں پہلے دن سے واضح طور پر سمجھا دیں کہ ان کا دائرہ کار کیا ہے۔ایک بار جب بچہ خود چلنے اور بیٹھنے کے قابل ہوجائے، تو گھریلو ملازموں کی گود میں زیادہ وقت کے لیے بیٹھنا ضروری نہیں ہے، بھلے ہی وہ بچے کو کھلانے کے لیے کیوں نہ ہو۔ چھوٹی عمر میں بچے صحیح یا غلط کا فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے، خاص طور پر جب یہ چیز ان کے معمول میں شامل ہو۔ملازموں کو آپ کے بچے یا گھر کے کسی بھی اور رکن کی تصاویر لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اسمارٹ فونز اور تیز ترین انٹرنیٹ کنکشن کے دور میں اِس حوالے سے اور بھی زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔اپنے بچوں کو یہ بتائیں کہ اگر وہ خود کو خطرے میں محسوس کریں اور آپ پاس نہ ہوں، تو وہ کس سے مدد مانگ سکتے ہیں۔اسکول میںہوں تواپنے ٹیچر، پرنسپل، یا ہیڈ بوائے،گرل سے۔گھر میںہوں تودادا دادی، نانا نانی، بہن بھائی وغیرہ، یا ملازمہ (اگر خاندان میں سے اور کوئی بھی دستیاب نہ ہو)حالات مختلف ہوسکتے ہیں مگر اہم بات بچوں کو یہ معلوم ہونا ہے کہ انہیں اسے کسی کے علم میں لانا ہے۔

اداریہ