Daily Mashriq

اٹھارہویں ترمیم اور تعلیمی مسائل

اٹھارہویں ترمیم اور تعلیمی مسائل

2010ء میں پارلیمنٹ نے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو زیادہ خود مختاری دینے کے لئے کئی ایک معاملات کو وفاق سے لے کر صوبوں کے حوالے کیا۔ ان میں سے ایک اہم موضوع (Subject) تعلیمی معاملات تھے۔ اس ترمیم سے پہلے وفاق کے تحت وزارت تعلیم کے تحت نصابات اور تعلیمی اداروں اور بالخصوص جامعات کے مالیات (فنڈز اور بجٹ وغیرہ) کو طے کیاجاتا تھا۔ لیکن اس ترمیم کے ذریعے یہ اختیار وفاق کے بجائے صوبوں کو دیاگیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک ملک کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ‘ دانشوروں اور ماہرین تعلیم کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ اس فیصلہ سے ملک و قوم کو پہلے کی نسبت فائدہ ہوا یا نقصان۔ مشرف دور کے بعد ایچ ای سی پر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مریض عشق کی طرح ’’دل کا جانا ٹھہر گیا ہے‘ صبح گیا کہ شام گیا‘‘ لیکن بھلا ہو سیاست کا کہ بعد میں آنے والی حکومت نے ’’ اپنے آدمیوں کی اس اعلیٰ محکمہ میں کھپت کے لئے اور اس کے ذریعے ملکی جامعات میں ’’اپنے بندے‘‘ لانے کے لئے اسے دوبارہ فعال کیا۔ چونکہ یہ داستان دلچسپ ہونے کے ساتھ طویل ہے لہٰذا اس کو یہیں پر چھوڑتے ہوئے کہ یہ بات آج بھی قابل بحث (Debatable) ہے کہ ایچ ای سی نے ملکی تعلیمی اداروں کو فائدہ پہنچایا کہ نقصان! اور یہ بحث دونوں طرف برابر چلتی ہوئی متوازن انداز میں جاری ہے۔ اگرچہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایچ ای سی نے کچھ اچھے کام بھی کئے لیکن بیلنس شیٹ کا تعین اس بات پر ہوتا ہے کہ خوبیاں اور اچھائیاں غالب ہیں یا خامیاں اورکوتاہیاں۔ اس بات کو پیش نظر رکھ کر خدا لگتی بات یہ ہے کہ اس ادارے کی خوبیاں کم اور کوتاہیاں اور کمزوریاں زیادہ بن گئی ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے وزارت تعلیم کی تحلیل سے پہلے این ایف سی ایوارڈ میں صوبائی HED کے لئے صوبوں کو فنڈز کی عدم فراہمی کے سبب صوبائی HED کے اداروں کو بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ صوبوں کو اپنی وزارت تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک نئی وزارت کی طرح HED کو سنبھالنا پڑا جس کے لئے صوبوں کے پاس وسائل تھے ہی نہیں۔ستم یہ کہ جامعات اور HED وغیرہ جیسے اہم اداوں کی سربراہی کو اس خوبصورت لیکن بد قسمت ملک میں سیاسی آشیر واد کے ساتھ منسلک کرنے کے سبب نتیجہ اس صورت میں سامنے آیا کہ جامعات شدید مالی مشکلات میں پھنستی چلی گئیں۔ مزید برآں ان ’’سیاسی حکومتوں‘‘ کے دورمیں ایسے سربراہان جامعات لائے گئے جن سے اپنی سیاسی جماعتوں کے افراد کو اہم عہدوں پر زیادہ سے یادہ کھپانے کا مقابلہ شروع ہوا۔ ضرورت سے زیادہ بھرتی کردہ ملازمین (Over Emplyement) نے جامعات کے مالیات کی ریڑھ کی ہڈی توڑ ڈالی۔ جامعات پر اس حد تک ظلم کیاگیا کہ بعض وائس چانسلروں نے اپنے قوم قبیلے کے سینکڑوں افراد کو کھپانے اور سرکاری ملازمت میں ’’اندر‘‘ کرنے کے لئے بجٹری پوسٹ نہ ہونے کی صورت میں فنڈز کی عدم دستیابی کے باوجود اپنی سنڈیکٹوں کے ذریعے کہ (سینڈیکیٹ میں ان کی مرضی اور ’’یس سر‘‘ کرنے والے ممبر ہی تھے) آسامیاں تخلیق کی گئیں۔ یوں یہ بات اس حد تک مشہور ہوگئی کہ ’’ فلاں یونیوسٹی میں ہر تیسرا آدمی فلاں قوم قبیلے کا ہے‘‘۔

اب اس کا خمیازہ صوبے اور قوم اس صورت میں بھگت رہی ہے کہ یونیورسٹیوں میں پنشنرز حضرات کو آج تک حکومت کی طرف سے جون 2017ء کے بجٹ میں پنشنز کی مد میں بڑھائی ہوئی رقم ادا نہ ہوسکی ہے اور شنید ہے کہ دسمبر2017ء کے مہینے کی تو پرانی پنشن کی رقم بھی پوری نہیں مل سکی ہے جس کے لئے پشاور کی ایک اہم یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ریٹائرڈ پروفیسرز اور آفیسرز نے باقاعدہ احتجاجی ملاقات کی۔ ایچ ای سی‘ جامعات اور ایچ ای ڈی کے سلسلے میں ایک اہم اور تازہ خبر یہ ہے کہ سینٹ کے ممبران نے پختونخوا کی جامعات کے وائس چانسلروں سے جامعات کے مالی و دیگر مسائل معلوم کرنے کے لئے میٹنگ منعقد کی ہے۔ شنید ہے کہ بعض وائس چانسلروں نے جامعات کو دوبارہ صوبائی HED کے بجائے ایچ ای سی کے تحت لانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور بعض نے اٹھارہویں ترمیم کے مطابق قوانین نافذ کرنے پر زور دیا ہے۔ جبکہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے مسائل اتنے گمبھیر ہیں کہ یہ حل ہونے میں تو بہت مشکل سے آئیں گے لیکن اگر مشکلات کم کرنے کی کسی مقتدر ہستی کے دل میں خواہش ہے تو اس کے لئے یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام و نصاب کے لئے قرآن و سنت کو اساس بنانا لازمی ہوگا۔ایچ ای ڈی کی کامیابی کی ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ این ایف سی ایوارڈ کو جلد از جلد نافذ کیاجائے تاکہ صوبوں کو اپنا اپنا مالی حصہ ملے اور جامعات کے مسائل حل ہوں۔ پنجاب کی ہائیر ایجوکیشن اس لئے کامیاب ہوئی کہ وہاں بجٹ اور وسائل بھی زیادہ ہیں اور ماہرین بھی کافی۔ جبکہ پختونخوا بے چارے کے اپنے وسائل تو کل بجٹ کا صرف 20فیصد ہیں اور جہاں تک ماہرین کا تعلق ہے تو خاموشی بہتر ہے۔ البتہ یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ خدارا تعلیم اور تعلیمی اداروں کے معاملات کو سیاسی تعصبات سے پاک رکھا جائے تو نتائج بہتر آنے کی امید کی جاسکتی ہے۔

اداریہ