Daily Mashriq

حکومت کے لیے نیا دھچکا، مسلم لیگ (ق) کے رکن کابینہ اجلاس میں غیر حاضر

حکومت کے لیے نیا دھچکا، مسلم لیگ (ق) کے رکن کابینہ اجلاس میں غیر حاضر

اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی کے کابینہ میں شمولیت نہ اختیار کرنے کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ق) کے وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے بھی اجلاس میں شرکت نہ کر کے کابینہ سے راہیں جدا ہونے کا اشارہ دے دیا۔

 رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار آج (بروز بدھ) مسلم لیگ (ق) کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کریں گے تا کہ حکومتی اتحادی کی شکایات دور کی جاسکیں۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں اپنی جماعت کے رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ناراض اتحادیوں سے ملاقات کر کے ان کے تحفظات دور کرے گی۔

اس کے ساتھ وفاقی دارالحکومت میں آج (بروز بدھ) حکومتی ٹیم بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کرے گی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ’ایم کیو ایم نے کابینہ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے لیکن وہ حکومت کی اتحادی رہے گی‘ تاہم مسلم لیگ (ق) کے طارق بشیر چیمہ کابینہ اجلاس میں شامل کیوں نہیں ہوئے اس حوالے سے معاون خصوصی نے خاموشی اختیار کی۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے انفارمیشن سیکریٹری کامل علی آغا نے گفتگو کرتے ہوئے طارق بشیر چیمہ کی کاببینہ اجلاس سے غیر حاضری کی وجہ بتائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے کچھ حقیقی، قانونی اور آئینی مطالبات ہیں جو وزیراعظم عمران خان نظر انداز کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ق) کے رنہنما مونس الہٰی نے 2 ہفتوں قبل وزیراعظم سے ملاقات کی تھی اور انہیں اپنی جماعت کی شکایات سے آگاہ کیا تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

متعلقہ خبریں