Daily Mashriq

قبائلی عوام کی محرومیاں

قبائلی عوام کی محرومیاں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں بیرونی عناصر انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ خیبر پختونخوا میں توانائی، اعلیٰ تعلیم، صحت، ترقیاتی منصوبوں خصوصاً ضم شدہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔حکام نے وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا کہ ضم شدہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی بلا تعطل پیش رفت کو یقینی بنانے کیلئے وزارت خزانہ سے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔دریں اثناء خیبر پختونخوا اسمبلی میں ضم اضلاع سے منتخب اپوزیشن ارکان نے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کئے جانے پر سپیکر ڈائس کا گھیرائو کرتے ہوئے احتجاج کیا ۔ ارکان '' قبائلی اضلاع کو حق دو'' کے نعرے لگاتے رہے۔ بعد ازاں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے قبائلی ارکان نے کہا کہ ان کے ساتھ جو وعدے ہوئے ہیں ان پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ترقیاتی منصوبے اور مراعاتی پیکج حکومتی عدم دلچسپی کے باعث سست روی کا شکار ہیں قبائلی اراکین اسمبلی کا مطالبہ تھا کہمعدنیات ایکٹ کا ازسر نو جائزہ لیا جائے قبائلی اضلاع میں ڈونرز اور فلاحی اداروں کو سہولیات دی جائیں سی پیک میں قبائلی اضلاع کو انصاف کی بنیاد پر فوقیت دی جائے۔وزیراعظم عمران خان نے قبائلی اضلاع کے حوالے سے جو ہدایات دی ہیں اور حکام نے ان کو جو بریفنگ دی ہے علاوہ ازیں قبائلی اضلاع میں تعلیم،پینے کا صاف پانی،نکاسی آب زراعت مویشی وماہی پروری اور دیہی سطح پر کھیل وثقافت کے فروغ کے جو دعوے صوبائی حکومت کی طرف سے کئے جارہے ہیں قبائلی اضلاع کے نمائندوںکا اسمبلی میں احتجاج اور ان تمام دعوئوں کی نفی قابل توجہ معاملہ ہے۔ہم سمجھتے ہیںکہ قبائلی اضلاع کے عوام کی محرومیوں پر ضم ہونے سے کمی آنے کی جو توقع تھی صورتحال اس کے برعکسسامنے آرہی ہے۔علاقے کے عوامی نمائندوں کے تحفظات کا اظہار اور مطالبات ایسے نہیں جن کو نظر انداز کیا جا سکے اور نہ ہی ان کے مطالبات کی نوعیت سیاسی ہے علاقے کے منتخب نمائندے ہی قبائلی عوام کی آواز ہیں قبائلی علاقوں میں جو آوازیں اٹھ رہی ہیں اور جس پر وزیراعظم کوتشویش ہے ان کا مقابلہ قبائل کے منتخب نمائندوں کے مطالبات پر کان دھر کر ہی کیا جا سکتا ہے۔محرومیوں اور مسائل کا شکار قبائلی عوام کو درپیش حالات سے منفی فائدہ اٹھانا جذباتی اور سادہ لوح قبائلی عوام کو بہکانا کوئی مشکل نہیں یہی وجہ ہے کہ قبائلی عوام ایسے لوگوں سے توقعات وابستہ کرلیتے ہیں جو مسیحا نہیں صرف قبائلی عوام کی سادہ لوحی سے چالاکی کے ساتھ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ تصویرکا یہ رخ پر خار حقیقت ہے کہ تمام تر دعوئوں کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں قبائلی اضلاع کے عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں بالکل ہی ناکام ہیں قبائلی اضلاع کے عوام کو انضمام کے وقت جو نقشہ دکھایا گیا تھا حکومت ان کی تکمیل اور قبائلی اضلاع کے لئے مناسب وسائل کی فراہمی قبائلی اضلاع کے قدرتی سائل کو ان کے مفاد میں بروئے کار لانے اور ان کی شراکت سے ان کیلئے کاروبار وروزگار کے مواقع کی فراہمی میںکامیاب نہیں ہوئی جس کی بناء پر محرومیوں کی شکایات میں اضافہ ہورہا ہے اس طرح کے ماحول سے فائدہ اٹھانے والوں کی کمی نہیں ایسے میں وزیراعظم کی جانب سے بیرونی عناصر کے قبائلی اضلاع میں انتشار پھیلانے کی کوشش کا بیان سنجیدہ اور قابل غور ہے قبائلی اضلاع میں ان عناصر کو پذیرائی کیوں مل رہی ہے اس پر حکومت کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ قبائلی اضلاع کے عوام بڑی مشکل حالات سے گزرے ہیں ان کو مزید مشکلات سے بچانے کیلئیکیا اقدامات درکار ہیں ۔ہمارے تئیں اس کا حل یہ ہے کہ قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے جتنے وسائل درکار ہوں بروئے کار لائے جائیں اور قبائلی اضلاع میں عوام کو بہکانے اور امن خراب کرنے کی کسی بھی بالواسطہ اوربلاواسطہ کوشش ناکام بنانے میں تاخیر نہ کی جائے۔

متعلقہ خبریں