Daily Mashriq

تعلیمی مسائل لاینحل تو نہیں!!

تعلیمی مسائل لاینحل تو نہیں!!

صوبائی وزیرتعلیم اکبر ایوب نے اس امر کا درست اعتراف کیا ہے کہ ماضی میں سرکاری سکولوں کی تعمیرمیں انصاف نہیں ہوا ہے ۔ان کا یہ کہنا بھی خلاف وحقیقت نہیں کہ حکومت ہر علاقے میں نیا پرائمری سکول نہیں کھول سکتی ۔ امر واقع یہ ہے کہ اس وقت صوبہ بھر میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد19لاکھ ہے جو بہت بری تعداد اور قابل تشویش بات ہے ان بچوں کو سکولوں میں لانے اور ان کو تعلیم دلانے پر فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔اس مقصد کیلئے سکولوں کا قیام سکولوں میں دوسری شفٹ شروع کرنے اور بچوں کے والدین کو ان کو سکولوں میں بھیجنے کیلئے ان کی مشکلات کے حل پر بھی توجہ دی جانی چاہیئے۔ ماضی کی حکومتیں ہوں یا تحریک انصاف کی حکومت کے تسلسل کی دوسری حکومت،تعلیم کے شعبے کو ترجیح دینے کے یکساں دعوے ضرور کئے گئے لیکن عملی طور پر یا تو حکومت کے اقدامات اور منصوبہ بندی بہتر نہیں تھی یا پھر حکومت کے وسائل خرچ کر کے سہولت دینے کے باوجود تعلیم کی شرح اور تعلیم کے معیار میں بہتری نہ آسکی۔اس امر سے سراسر انکار کی گنجائش نہیں کہ حکومت تعلیم کے شعبے کو اہمیت نہیں دے رہی ہے بساط بھر کوششیں ہورہی ہیں لیکن ان کے ثمر آور ہونے اور نتیجہ خیزی کا فقدان ہے جس کا جائزہ لیکر ان خامیوں اور خرابیوں کا سدبات کرنے کی ضرورت ہے ناکامی کے اسباب کاجائزہ لینے اور کامیابی کے حصول کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری سکولوں کی غیر موجودگی میں ووچر سکیم کے تحت نجی سکولوں میں بچوںکا داخلہ احسن قدم ہوگا لیکن حکومت کو اس ضمن میں بروقت ادائیگی کی ذمہ داری بھی نبھانا ہوگی اسی طرح کی سکیم کے تحت بچوں کو داخلہ دینے والے نجی سکولوں کو سالوں ادائیگی نہ ہونے کی شکایات ہیں اور مالکان کے بار بار کے مطالبات کے باوجود ان کو ادائیگی نہیں ہورہی ہے۔سرکاری سکولوں کے فی طالب علم پر جتنا خرچہ بتایا گیا ہے اس کے تناظر میں تو سارے سرکاری سکول بند کر کے بچوں کو سرکاری خرچ پر نجی سکولوں میں پڑھانے کی تجویز موزوں لگتی ہے اس لئے کہ سرکاری خزانے سے اتنی رقم خرچ ہونے کے باوجود جب تعلیم کا معیار قابل قبول نہیں تو پھرسرکاری سکولوں کا جواز کیا باقی رہ جاتا ہے جہاں طالب معیاری تعلیم سے تو محروم رہتے ہی ہیں ان کا قیمتی وقت بھی ضائع ہو تا ہے اور وہ جو ہر قابل بننے سے ہی محروم نہیں رہتے بلکہ بہتر معاشرے کی تشکیل میں وہ قابل ذکر کردار ادا کرنے کے قابل کم ہی ثابت ہوتے ہیں۔

کابینہ میں خواتین کی عدم نمائندگی

وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ جلد ہی صوبائی کابینہ میں خواتین کو نمائندگی دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کو محفوظ اور انتظامی طور پر مضبوط بنانے کے لیے بہترین قانون سازی ہو رہی ہے۔خواتین کو صوبائی کابینہ میں شامل کرنے کا معاملہ ہو یا ان کیلئے دیگر اقدامات صوبائی حکومت ابھی اس حوالے سے اقدامات ہی میں مصروف ہونے کا عندیہ دے رہی ہے معلوم نہیں عمل کی نوبت کب آئے گی۔ دیکھا جائے توپاکستان تحریک انصاف کے ووٹروں اور سرگرم حامیوں میں خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی تعداد اور شرح مردوںسے زیادہ ہوگی کم نہیں، اس کے باوجود مرکز میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق ہی ان کو کابینہ میںجگہ دی گئی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں کابینہ کی تشکیل اور کابینہ میں ردوبدل کے بعد تک کسی خاتون کو وزارت یا اس کے برابر کے کسی سیاسی عہدے کا قابل نہیں سمجھا گیا۔کابینہ کی تشکیل وتکمیل ہوچکی ہے غالباً ایک غیر ضروری قسم کی نشست کی گنجائش ہے جو اگر خواتین کے حصے میں آئی تو خواتین اس پر بھی بخوشی صاد کریں گی۔خواتین آبادی کا نصف حصہ ہیں ان کی صلاحیتوں سے انکار نہیں تعلیم کے میدان میں تو خواتین مردوں کو پیچھے چھوڑ چکی ہیں ان کے حقوق کے دعویدار اور چرچا کرنے والے بھی بہت ہیں مگر عملی طور پر کابینہ میں ان کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں۔توقع کی جانی چاہیئے کہ وزیراطلاعات کے عندیہ کے مطابق جلد ہی صوبائی کابینہ میں فقط میرٹ اور اہلیت کو مد نظر رکھتے ہوئے خاتون وزیرکا اضافہ کیا جائے گا اور ان کو خواتین سے متعلق تمام امور سونپ کر بااختیار بھی بنایا جائے گا علاوہ ازیں خواتین بارے ان کی رائے وتجاویز کو مناسب اہمیت بھی دی جائے گی۔

ہرمسئلے کا حل قانون سازی نہیں

خیبر پختونخوا حکومت نے نکاح کے موقع پرخاندانی منصوبہ بندی ، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق جوڑے کی آگاہی لازمی قرار دینے کا فیصلہ معروضی صورتحال سے متصادم اور ناقابل عمل نظر آتا ہے۔ بنابریں اس طرح کے کسی قانون پر عملدرآمد اور اس کا مئوثر ہونا یقینی نظر نہیں آتا بلکہ یہ رسم پوری کرنے کے مترادف ہوگا۔ذرا غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہنکاح نامے میں کتنی شرائط پہلے سے موجود ہیں اس پر لکیر کھینچ دی جاتی ہے تو ایک ایسے معاملے میں جو ہمارے معاشرتی روایات سے ہم آہنگ نہ ہو اور یہ ہر ایک جوڑے کی اپنی مرضی پر منحصر ہواس بارے میں حکومتی اقدامات دخل درمعقولات ہی کے زمرے میں شمار ہوں گے۔ہمارے تئیں اس بار میں قانون سازی کی نہیں بلکہ اس حوالے سے شعور وآگہی کی ضرورت ہے قانون بنانے کی نہیں بہرحال اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ان کا یہ اقدام نافع ہوگا تو پھر اس کی کامیابی کیلئے منصوبہ بندی ہونی چاہیئے۔ہمارے تئیں اس حوالے سے زیادہ بہتر اور مئوثر طریقہ یہ ہوگا کہ اس حوالے سے معاشرے میں شعور اجا گر کیا جائے سکولوں کالجوں اور جامعات میں اس موضوع پر بات ہونی چاہیئے معاشرے میں اس حوالے سے پائے جانے والی جھجک کو دور کرنے پر توجہ دی جانی چاہیئے اور اتنی شعوروآگہی پیدا کی جائے کہ رضا کارانہ طور پر اسے اختیار کیا جائے۔

متعلقہ خبریں