Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

عجائب القصص میں لکھا ہے کہ حیرہ کے علاقے کے حکمران ''فیزن غسانی'' کے قلعے پر سابور نامی حاکم نے حملہ کردیا جس کی وجہ سے فیزن قلعہ میں بند ہوگیا اور سابور نامی حاکم نے بھی اس کے قلعے کا محاصرہ کرلیا۔ محاصرے کو ایک ماہ گزر چکا تھا۔ ایک دن فیزن کی بیٹی نے قلعہ کے کسی سوراخ یا جگہ سے سابور کو دیکھ لیا جو انتہائی خوبصورت اور طاقتور تھا۔فیزن کی بیٹی نے کسی طریقے سے سابور کی طرف پیغام بھیجا کہ '' تم مجھے پسند آگئے ہو اس لئے میں قلعہ کا دروازہ کھول دیتی ہوں''

فیزن کی بیٹی نے قلعہ کے محافظوں کو کوئی ایسی چیز کھلائی جس سے سب بے ہوش ہوگئے اور اس لڑکی نے قلعہ کا دروازہ کھول دیا۔ سابور نے قلعہ فتح کرلیا ۔ فیزن گرفتار ہوگیا' جب اسے سابور کے پاس پیش کیا گیا تو اس وقت اس کی بیٹی بھی اس کے پاس ہی بیٹھی تھی جسے دیکھ کر فیزن کی عجیب سی کیفیت ہوگئی۔ وہ کپکپانے لگا اور فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔جب ہوش میں آیا تو اپنی بیٹی سے کہنے لگا: '' خدا تعالیٰ تیرا منہ اس طرح سیاہ کرے جس طرح تو نے مجھے ذلیل کردیا ہے۔''

سابور نے فیزن کو فوراً قتل کروا دیا۔یہ لڑکی اس کے پاس ایک سال تک رہی۔

اسے کوئی چیز چبھتی محسوس ہوئی۔جب بستر کو دیکھا تو درخت کا پتہ پڑا تھا جو کافی کھردراتھا۔اس کی وجہ سے اس کے جسم پر نزاکت کی وجہ سے نشان پڑ چکا تھا۔ سابور بہت حیران ہوا کہ اس معمولی پتے کی وجہ سے اس کے جسم میں نشان کیسے پڑ گیا۔ پھر وہ اس سے پوچھنے لگا کہ تیرا باپ تجھے کیا کھلایا کرتا تھا تو وہ بولی مجھے صرف جانوروں کا دماغ بھیجا اور خالص سفید آٹا کھلایا جاتا تھا۔ اس پر سابور بولا پھر بھی تو اپنے باپ کی اتنی غدار نکلی۔ اب تجھے اس غداری کا مزہ چکھایا جائے گا۔پھر سابور کے حکم پر باپ سے غداری کرنے والی اس لڑکی کے بالوں کو گھوڑے کی دم سے باندھ کر گھوڑے کو بھگادیاگیا جس سے اس کا جسم راستے ہی میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھرتا گیا۔ یوں باپ کی بد دعا ایک سال میں ہی پوری ہوگئی۔ '' بحوالہ: (عجائب القصص 92تا93)

منذر بن سعید اپنے دینی امور میں بہت سخت تھے' خلیفہ وقت ناصر بھی ان کی بڑی عزت و تکریم کرتا تھا۔جب اس نے قصر زہرا تعمیر کیا تو حضرت منذر بن سعید کو ناصر کی یہ دنیاوی مشغولیت پسند نہ آئی۔ ایک مرتبہ جمعہ کے خطبے میں جبکہ ناصر بھی موجود تھا آپ نے اپنا خطبہ قرآن مجید کی اس آیت سے شروع فرمایا:

(ترجمہ)'' آپ فرما دیجئے دنیاوی فائدہ بہت تھوڑا ہے اور آخرت خیر ہی خیر ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔''اس کے بعد منذر بن سعید نے دنیاوی لذتوں میں مصروف رہنے والوں اور آخرت سے بے خبری برتنے والوں پر ایک پر اثر وعظ کہا' راوی کا بیان ہے کہ پورا مجمع فرط خوف سے زار و قطار رو رہا تھا اور خود ناصر بھی اشکبار تھا۔

(معجم الادباء ج 7صفحہ نمبر182)

متعلقہ خبریں