Daily Mashriq

مشرف غدار نہیں ر ہے

مشرف غدار نہیں ر ہے

پرویز مشرف کیس میں سزا سنانے والی عدالت کی تشکیل غیر قانونی قرار دیئے جانے کے فیصلے کو ان کے حامی اور مخالف اپنے اپنے انداز میں دیکھ رہے ہیں لیکن عمومی تاثر یہی ہے پرویز مشرف کو سزا ملنے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔ ماہرین قانون وآئین کی رائے کے مطابق اس فیصلے کے خلاف صرف حکومت ہی اپیل کر سکتی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت اور پرویز مشرف کے وکلاء کے اس کیس میں ایک ہی صفحے پر ہونے کی وجہ سے اس فیصلے کے خلاف اپیل کے امکانات بھی معدوم لگ رہے ہیں۔لاہور ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کوغیرقانونی قرار دیا ہے۔جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکلاء کے مطابق اس فیصلے کے بعد خصوصی عدالت کی تمام کارروائی بھی کالعدم ہو گئی ہے اور اس کے نتیجے میں سنائی گئی سزا بھی ختم ہو گئی ہے۔ دوسری طرف نامور وکیل اشتر اوصاف کا کہنا ہے کہ عدالت نے تیکنیکی بنیادوں پر فیصلہ سنانے والی عدالت کی تشکیل کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ پرویز مشرف نے اپنے جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے۔گویا ایک نئی قانونی اور آئینی بحث چھڑ گئی ہے۔پاکستان کے ممتاز تجزیہ نگار نوید چوہدری نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ ان کے بقول عملی طور پر اب یہ کیس مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے،کیونکہ کوئی متاثرہ فریق باقی نہیں بچا ہے، پاکستان میں زمینی حقائق یہی ہیں اور پیپلز پارٹی اور نون لیگ جیسی جماعتیں بھی اس حقیقت کو اب تسلیم کر چکی ہیں: ''اب سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ مستقبل میں آئین کے آرٹیکل چھ پر کس طرح عملدرآمد کرانا ممکن ہو سکے گا کیونکہ سارے اختیارات لے کر اگر ایک آمر اپنا نام چیف ایگزیکٹو رکھ لے تو قانونی موشگافیوں سے اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ آئین کو معطل کیے بغیر بھی سارے اختیارات لے کر سب کچھ کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اس پر آئین کا آرٹیکل چھ کیا کرے گا۔''

ملک کے چو ٹی کے وکلا ء نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اکثریت نے رائے دی ہے کہ لا ہو ر ہائی کو رٹ کے یہ دائر ہ اختیا ر میں نہ تھا کہ وہ اپنے اسٹیٹس کے برابر خصوصی عدالت کا فیصلہ آجا نے کے بعد اس معاملے کی سما عت کرتی یا فیصلہ دیتی اس قسم کا فیصلہ دینے کی مجاز سپریم کورٹ ہے ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کو نسل نے سنجیدگی سے صورت حال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں 16جنو ری کو بار کو نسل کے ہو نے والے اجلا س مشاورت کی جا ئے گی جس میں اس بات کا امکا ن ہے کہ اس فیصلے کے خلا ف سپریم کو رٹ سے رجو ع کیا جا ئے تاہم زیادہ امکا ن اسی بات کا ہے ۔پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین سیدامجد شاہ کے مطا بق مشرف کو سزا سنا نے والی خصوصی عدالت کا اسٹیٹس چونکہ ہائی کو رٹ کے برابر تھا الہذا اس کے خلا ف اپیل صرف سپریم کو رٹ میںکی جا سکتی تھی ۔ اپیل کی صورت میں سپر یم کو رٹ ہی اس طرح کا فیصلہ دینے کی مجاز تھی ۔ علاوہ ازیں امجد شاہ کا یہ بھی مئوقف ہے کہ اگر پر ویز مشرف کے وکلا ء ہائی کو رٹ کے اس فیصلے سے مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی قرار دینے سے سزائے مو ت کا فیصلہ کا لعدم ہو گیا ہے اور وہ سپریم کو رٹ میں اپیل نہیں کر تے تو مقرر تیس دن کی مدت برائے اپیل ختم ہو جانے کے بعد مشرف اپیل کے حق سے بھی محروم ہو جائیں گے واضح رہے کہ گزشتہ سال 17دسمبر کو خصوصی عدالت نے سزا سنائی تھی اب چند رو ز ہی باقی بچے ہیں ، پی ٹی آئی کے سابق مر کزی رہنما ء جسٹس (ر)وجیہ الدین کی رائے ہے کہ یہ فیصلہ بنیا دی طور پر تکنیکی فیصلہ معلو م ہو تا ہے ، تاہم عام طور پر ایک ہی سطح کے جج جب کوئی فیصلہ کر تے ہیں تو دوسری عدالت اس معاملے اپنا فیصلہ دینے سے گریز کر تی ہے بلکہ اگر ایک بڑی عدالت فیصلہ کرتی ہے تو اس کے برابر یا ہم پلہ عدالت میں کیس نہیں لے جا یا جا تا بلکہ اس سے بڑی عدالت سے رجوع کیا جا تا ہے ، مشرف کے کیس میں سپر یم کو رٹ میں اپیل کر نے کا آپشن مو جو د ہے وہیں رجو ع کر نا چاہیے تھا۔وجیہ الدین کے مطا بق حالیہ دنو ں میں دو مثالیں اس عدالتی روایت کے برعکس آئی ہیں پہلے اسلا م آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے بارے میں ایک حکم جا ری کیا اور اب لاہو ر ہائی کو رٹ نے خصوصی ٹریبونل کے فیصلہ کے خلا ف ایک فیصلہ دے دیا ۔ادھر اس فیصلے کے بعد ایک نئی بحث یہ بھی چھڑگئی ہے کہ بعض اوقات صرف سیکشن افیسر کے دستخط سے بھی فیصلے ہو تے رہتے ہیں اور بعض اوقات متعلقہ محکمہ کا سیکرٹری کے حکم نا مے پردستخط ہو تے ہیں تو کیا اب سارے فیصلے کابینہ کی منظور ی سے کیے جا ئیں گے ، جو نا ممکن سی بات ہے سابق چیف جسٹس افتخار چودھر ی کے ترجما ن احسن الدین شیخ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جر م کا ارتکا ب اسلا م آبا د میں ہو ا ، خصوصی ٹریبونل اسلام آباد میں تشکیل پایا ، شکا یت کنندہ وزارت داخلہ بھی اسلا م آبا د میںہے پھر یہ مقدمہ کیسے لا ہو ر ہائی کو رٹ کے دائر ہ کار میں کیسے آگیا علا وہ ازیں خصوصی ٹریبونل سپریم کو رٹ کے حکم پر بنایاگیا تھا جس پر حکومت وقت نے عمل کیا اور اس کو عدالت کے فیصلے پر عمل کر نا ہی تھا ۔ بہر حال کئی وکلاء نے لاہور ہائی کو رٹ کے فیصلے کے بارے مثبت رائے بھی دی ہے آنے والا وقت ہی صورت حال واضح کر پائے گا ۔

متعلقہ خبریں