Daily Mashriq

کوہستان بھرتیاں،بند پل اور جنڈولہ کے عوام کی فریاد

کوہستان بھرتیاں،بند پل اور جنڈولہ کے عوام کی فریاد

کوہستان جیسے دور دراز علاقے سے کسی قاری کا برقی پیغام دوہری خوشی کا باعث امر ہے ہمارے ایک قاری جو ایک سیاسی عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں وہ بالخصوص محکمہ صحت اور دیگر سرکاری اداروں میں کوہستان کے پسماندہ ودرماندہ لوگوں سے رشوت لیکر چھوٹی موٹی اسامیوں پر تقرری پر سخت برہم ہیں انہوں نے ڈی جی صحت سے لیکر وزیراعظم کے مرکز شکایات تک پوری تفصیل سے اسامیوں اور رشوت ستانی کی داستان بیان کی ہے اس سلسلے میں اس کالم میں بھی اس مسئلے کی طرف وزیراعلیٰ اور وزیر صحت سمیت متعلقہ اداروں کی توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ کوہستان کے پسماندہ ضلع میں پوچھنے والا کوئی نہیں ان کی بات کون سنے۔اس کالم کی وساطت سے مسئلے کی نشاندہی کرنے کی ذمہ داری اس امید پر کی جارہی ہے کہ اس کا نوٹس لیاجائے گا اور کوہستان میں سرکاری اسامیوں پر ہونے والی بھرتی شفاف طریقے سے کی جائے گی اور جو سرکاری اسامیاں نیلام ہو چکی ہیں اس کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو سزادی جائے گی۔ایک ناراض قاری کا سرکاری اداروں اور انتظامیہ کے رویے کے خلاف دکھ بھرا برقی پیغام ملا ہے ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ وقت پر کام مکمل کرانے اور منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے کا عادی نہیں انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو پاکستان پشاور کے سامنے پائپ لائن ڈالتے وقت مفتی محمود فلائی اور کو تقریباً ایک ماہ ہوگیا بند کردیا گیا تھا پائپ لائن ڈالتے ہوئے مشینری کی نقل وحرکت اور کسی ممکنہ حادثے سے بچنے کیلئے تو اس کی بندش کی ضرورت تھی مگر پائپ ڈال دیئے گئے سڑک کا وہ حصہ جو پل سے ٹریفک پولیس لائنز کے سامنے اترتی ہے وہ سڑک اپنی جگہ قائم ہے لیکن جو بلاک ایک مرتبہ پل پر رکھ کر بند کردیا گیا تھا ان کو ہٹایا نہیں جارہا جس کے باعث جہاں گاڑیوں کو دور سے مڑ کر واپس آنا پڑ تا ہے وہاں ٹریفک کا رش بھی بے تحاشا بڑھ جاتا ہے۔سرکاری محکموں کی اس قسم کی سست روی اور بے حسی کا رویہ واقعی ناقابل برداشت ہے۔برسوں گزرگئے یہاں پر بارش کے دنوں میں پانی کے جمع ہونے کا مسئلہ حل نہ ہوا اب جبکہ پائپ ڈال دیئے گئے اورسڑک کاایک حصہ ٹریفک کے قابل ہے تو وہ کھول کیوں نہیں دیا جاتا۔باقی جس سڑک پر پائپ ڈال دیئے گئے اس کو بنانے اور کھولنے کی پیشگوئی اس لئے نہیںکی جاسکتی کہ سرکاری ادارے اگر وقت پر کام کرنے لگیں تو پھر سرکاری ادارے کیسے کہلائیں؟سرکاری افسران کچھ تو حکومت اور بیوروکریسی کی لاج رکھیں کیا اس کا حکم بھی وزیراعلیٰ کو دینا پڑے گا کہ سڑک کھول دیں۔کل جنڈولہ وزیرستان سے ایک قبائلی بھائی کا ملنے والا ایس ایم ایس پڑھ کر آنکھیں نم ہوئیں ان کا ایس ایم ایس کچھ اس طرح ہے۔''خدا کی قسم۔۔۔اس وقت ننھی بھانجی انفال کو شدید قسم کا بخار ہے جنڈولہ میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں کہ انہیں دکھا سکیں(کچھ سنگین قسم کی شکایات مجبوراً حذف کی جاتی ہیں)''مریم آپی اب آپ ہی کچھ کرلیں دعا دیں گے غریب قبائلی لوگ''۔میں اس پیغام پر مزید کچھ کہنے کی طاقت نہیں رکھتی سوائے اس کے کہ میں ان کیلئے کیا کرسکتی ہوں سوائے ان چند حروف کی تحریر کے ۔حکومت رنگین اشتہارات شائع کر کے دعوے کررہی ہے کہ قبائلی عوام کویہ یہ سہولتیں دی جا رہی ہیں قبائلی عوام قسم کھا کر اپنی حالت زار بیان کررہے ہیں یہ قسم جان دینی ہے قسم کی بھی نہیں مبنی بر حقیقت ہے حکمرانو! کم از کم اتنا تو کیجئے کہ تڑپتے مریضوں کو کوئی دواہی ملے اور کوئی ڈاکٹر ان کا معائنہ کرنے کیلئے موجود ہو۔مجھے یقین ہے کہ ادہر لاہور میں بیٹھ کر میں کتنا بھی جنڈولہ کے لوگوں کی مشکلات کا تصور کرنا چاہوں ان کی مشکلات ومسائل بلکہ مصائب کا میں درست اندازہ نہیں کرسکتی حکمرانو!دنیا میں نہیں تو روز قیامت کی جوابدہی ہی کا کچھ خیال کرو اور قبائلی اضلاع سمیت صوبے کے دیگر پسماندہ اور دوردراز علاقوں کے عوام کی مشکلات پر کچھ تو توجہ دو۔شگئی ہندکیان سے ایک ڈاکٹر صاحب نے ڈبگری گارڈن میں ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں کو بے تحاشا دردکش ادویات لکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ بے تحاشہ دردکش ادویات کے استعمال سے بہت ساری پیچیدگیا اور دیگر امراض پیدا ہوتی ہیں جس میں کالایرقان خاص طور پر قابل ذکر ہے۔انہوں نے اس کے سدباب کی ضرورت پر زوردیا ہے۔میرے خیال میں یہ صرف ڈبگری گارڈن ہی کے ڈاکٹرنہیں کرتے بلکہ پورے پاکستان میں خواہ مخواہ کے اضافی ٹیسٹ،ایکسرے اور بلا ضرورت ادویات لکھنے کا رواج ہے۔جس کی وجہ سے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا محاورہ پوری طرح صادق آتا ہے۔طب کی دنیا میں کس کس بات کو روئیں اور جگر کو پیٹیں۔کیا ڈبگری گارڈن میں دونمبر کے ڈاکٹر نہیں بیٹھتے جن کے دلال ہر قسم کے مریض پکڑ کر لاتے ہیں اور یہ ڈاکٹرصرف ایم بی بی ایس ہوتے ہوئے ہر قسم کے مریضوں کا سپشلسٹ بن کر علاج کرتے ہیں۔ایک مرتبہ مریض ان کے چنگل میں آئے تو تمام قسم کی لیبارٹریوں کا چکر لگوائے اور کمیشن والی ادویات کے استعمال کی ہدایت کئے بغیر نہیں چھوڑاجاتا۔ایسی ادویات لکھی جاتی ہیں جو مخصوص سٹورز پر ہی ملتے ہیں ڈاکٹر دوائی منگوا کر تصدیق کے بعد ہی مریض کو رخصت کرتا ہے تاکہ مخصوص دوائی کی فروخت کا کوٹہ پورا ہو اور ان کی ملی بھگت پوری ہو۔اتائیوں کی بھر مار،جعلی وغیرہ معیاری ادویات قدم قدم پر لوٹ مار اور پھر دعویٰ مسیحائی کا کس کس کو روئیں اور کب تک؟کون سنے گا فریاد اور کب ہوگی کارروائی؟۔ہر بدھ کو شائع ہونے والے اس کالم کیلئے قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں