Daily Mashriq

صحراؤں پر چلتے ہوئے دریا نہیں ملتا

صحراؤں پر چلتے ہوئے دریا نہیں ملتا

جان کا صرفہ ہوتو ہو لیکن

صرف کرنے سے علم بڑھتا ہے

عہد رفتہ میں بچے کی عمر جیسے ہی 5 برس کی ہوتی ، انہیں اسکول میں داخلہ دلانے کے لئے لیجایا جاتا ۔بچے کو پہلے کچی میں داخل کیا جاتا۔ ایک سال بعد وہ پکی میں پہنچتا اور یوںجب وہ اپنی ابتدائی تعلیم کی پہلی جماعت میں پہنچتا تو وہ تو وہ زندگی کے چھٹے یا ساتویں سال میں پہنچ چکا ہوتا۔ گویا اس کی زندگی کے ابتدائی چند سال اپنے تعلیمی سفر شروع ہونے کی تیاری ہی میں ضائع ہوجاتے اورسچ پوچھیں تو ماہرین نفسیات کسی بچے کے 6 یا 7 برس پر مبنی اس کی زندگی کے ابتدائی عرصہ ہی کو اس کے سیکھنے اور سمجھنے کا عرصہ کہتے ہیں کیونکہ بقول ان کے ' بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی سات برس کے دوران جتنا علم حاصل کر سکتا ہے وہ زندگی بھر کے حاصل کئے ہوئے علم کا 70 فی صد ہوتا ہے۔

گویا ہم اس کے 70 فی صد اقتباس فیض یا حصول علم کے عرصہ کو بڑی بے دردی سے ضائع کردیتے ہیں۔ ایک ماہر تعلیم کے مطابق جاپان اور چین جیسے ترقی یافتہ ممالک میں 6یا 7سال کی عمر کا بچہ اپنی مادری زبان کے علاوہ کم از کم چار زبانیں سیکھ لیتا ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں6 یا 7 سال کی عمر تک کچی اور پکی کا چکر چلتا رہتا ہے، کہنے کو تو ہم تعلیم حاصل کرنے والے بچے کی باقاعدہ تعلیمی سفر کا آغاز اس کی جماعت اول سے شروع کرتے ہیں۔ لیکن اس دوران اس بات کا قطعی خیال نہیں رکھتے کہ ہم اس کے سیکھنے کی عمر کا وہ حصہ کتنی بے دردی سے ضائع کردیتے ہیں جس حصہ میں ترقی یافتہ ممالک کے لوگ اسے تعلیم یافتہ بنانے کیلئے اس سے کتنے زینے طے کرواچکے ہوتے ہیں ، ابھی بچہ ہے ، اس کی کھیلنے کودنے کی عمر ہے ،

پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب

جو کھیلو گے کودو گے ہوگے خراب

جیسی سوچ کے برعکس ہم بچے کو کھیلتا کودتا دیکھنا پسند کرتے ہیں اور یوں وہ شروع روز ہی سے کھیلنے کودنے کا رسیا ہوکرکھیل کود کے لئے فرصت یا چھٹی کے لمحا ت کی تلاش میں رہتا ہے ، اور جب اس کی چھٹیاں کرنے کی عادت پختہ ہو جاتی ہے تو ہم اسے اسکول بھیج کر اس زعم کا شکار ہونے لگتے ہیں کہ وہ اسکول جارہا ہے ، لیکن وہ اسکو ل جا کر کرتا کیا ہے ، آدھی چھٹی یا ریسس کا انتظا ر تاکہ اس دوران وہ خوب ہنگامہ کرسکے ، اچھلے کودے ، ناچے گائے اور خوب موج اڑائے ، اور پھر دوتین پیریڈ کے بعد پوری چھٹی ، اسکول جانے کی کہانی ختم ، ہمارے بچے اپنے تعلیمی اداروں میں دل لگا کر پڑھنے کی بجائے آدھی ، پوری اور بہت سی چھٹیوں پر بے تحاشا خوش ہوتے ہیں ، اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم انہیں زندگی کے ابتدائی ماہ و سال کے دوران ہی نہیں تعلیمی سفر کے دوران بھی بہت سی چھٹیوں کا عادی بنادیتے ہیں ،سال کے تین سو پینسٹھ دنوں کے دوران ہمارے بچے ہفتہ وار چھٹیوں کے علاوہ گرمی ، سردی، بہار، جشن میلے اور تہواروں کی وجہ سے اتنی زیادہ چھٹیاں کرتے ہیں کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق انہیں سال بھر میں صرف 140دن اسکول جانا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر سال گرمی کے موسم میں کم و بیش تین مہینے کے لئے اسکول بند کر دئیے جاتے ہیں ، سردیوں کے موسم میں ہفتہ بھر اسکول بند رہتے ہیں ، لیکن اس بار تو شدید سردی کے بہانے اسکولوں کو یکم جنوری کو کھولنے کی بجائے 22روزہ تعطیلات کے بعد 13جنوری کو کھولا گیا ، اس دوران پل کے نیچے سے کتنا پانی گزرا ، بچوں کی تعلیم کا کتنا حرج ہوا ، سردیوں کے یخ بستہ موسم میں کتنے والدین اپنے بچوں کو مری اور سوات میں برفباری کی سیر کرانے لے گئے ،اس کا تخمینہ لگانا مشکل ہے ۔ہمارے ہاں سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں نجی اسکول سسٹم چل ر ہا ہے جس کی کامیابی کا عالم یہ ہے کہ سرکاری اسکول کے اساتذہ بھی اپنے بچوں کو نجی تدریس سسٹم میں داخل کروانا مناسب سمجھتے ہیں ، سرکاری اسکولوں میں عالم بے سرو سامانی کار ونا رویا جاتا رہا ہے ، جب کہ نجی اسکول سسٹم میں ایسا نہیں ہوتا، بہت سے مقام ایسے ہیں جہاں سرکاری اسکول نہیں جس کا احساس کرتے ہوئے حکومت نے عوام کو طفل تسلی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی جگہوں پر حکومت اپنے خرچہ ہ پر بچوں کو نجی اسکولوں میں تعلیم دلوا ئے گی ، یہ خبر حصول تعلیم کے پرائیویٹ سیکٹر کی کامیابی دلیل ہے ۔ لیکن اس کے برعکس حال ہی میں بے حساب دی جانے والی سردیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے ہونے والے تعلیمی نقصان سے بچنے کے لئے پرائیویٹ ایجوکیشن سیکٹر کے جن تعلیمی اداروں نے بچوں کو ان کے تعلیمی نقصان سے بچانے کے لئے اسکول کھولنے کی کوشش کی ، ان کو اس نیکی کے عوض جرمانہ بھرنا پڑا ، اور یوں وہ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق اپنے ٹوٹے ہوئے دل سے کہتے رہ گئے کہ

جرمانہ ہو جس پر اسے تحفہ نہیں ملتا

صحراؤں پر چلتے ہوئے دریا نہیں ملتا

متعلقہ خبریں