Daily Mashriq

سیاسی جماعتیںتوقف کریں اور ذراسوچیں

سیاسی جماعتیںتوقف کریں اور ذراسوچیں

جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اور حسب توقع حزب اختلاف کی جماعتوں کو اپنے حامیوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس تنقید کا سب سے بڑا میدان سوشل میڈیا بن چکا ہے۔اب اس تنقید سے کیا سیاسی جماعتیں اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی لاتی ہیں یا نہیں، یہ ایک الگ معاملہ ہے البتہ حزب اختلاف سے وابستہ سیاسی رہنماؤں میں اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ہم پیپلز پارٹی کی مثال لیں تو بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں منظور ہونے والی آرمی ایکٹ کی ترمیم میں اپنی جماعت کے کردار کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے اسے پارلیمانی روایات کی فتح قرار دیا ہے مگر اسی جماعت کے کئی رہنما مجھ سے ذاتی طور پر اس اقدام پر اپنی شرمندگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ پارٹی میں ایک بڑی تعداد اسے جیت نہیں سمجھتی۔ البتہ حیرت انگیز طور پر اختلاف رائے رکھنے والے رہنماؤں میں سینٹر رضا ربانی شامل نہیں تھے کہ جو پاکستان میں عوامی بالادستی کی جدوجہد کا ایک استعارہ سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اسمبلی میں کم و بیش انہی خیالات کا اظہار کیا جن کا ان کے چیئر مین بلاول اس سے پہلے کر چکے تھے۔ دوسری جانب قمر زمان کائرہ اس حوالے سے ناخوش دکھائی دیے مگر وہ اپنی اس ناراضی کا اظہار کھل کرکرنے سے قاصر تھے۔پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما راناء ثنااللہ نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلے کے حوالے سے پارٹی کے حامیوں میں پائی جانے والی ناراضی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ناراضی کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پارٹی قیادت کی جانب سے اس فیصلے کی وجہ کھل کر بیان نہیں کی گئی۔ایک طرف جہاں رانا ثناء اللہ کا رد عمل دلچسپ رہا وہیں خواجہ آصف نے پارٹی ناقدین کو خاصا آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے لیے ملک سے باہر بیٹھ کر ٹویٹ کرنا آسا ن ہوتا ہے کیونکہ انہیں اس کے نتائج بھگتنا نہیں پڑتے ۔شاید وہ اس بات کو فراموش کر بیٹھے کہ ابھی ماضی قریب میں ہی مسلم لیگ نواز کے سوشل میڈیا پر متحرک کئی کارکنان کو چند سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے تحویل میں لیا اور انہیں کئی دن تشدد کرنے کے بعد رہا کیا۔ انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بی جے پی کے غیر منصفانہ قانون کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں جبکہ یہاں نواز شریف جب شدید بیماری کے دوران اسپتال میں تھے، اس وقت ایک سو کے قریب افراد بھی سڑکوں پر نہیں نکلے۔ کیا آپ کوپارٹی قیادت کی جانب سے کسی احتجاج میں شرکت کے لیے دی گئی کوئی ایک کال بھی یاد ہے؟ کم از کم مجھے تو یاد نہیں ہے۔ آج کے خواجہ آصف 2000ء کی اسمبلی کے خواجہ آصف سے یکسر مختلف نظر آتے ہیں۔ کون ہے جسے ان کی اسمبلی میں وہ گھن گرج یاد نہیں جب انہوں نے ملک کے اصل حکمرانو ںکو بغیر کوئی ڈھکے چھپے الفاظ استعمال کیے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس پر انہوں نے مثالی داد و تحسین سمیٹی تھی اور اب یہ وہی خواجہ آصف ہیں جو اپنے ان حامیوں پر تمام الزامات دھر رہے ہیں جنہیں پہلے ہی پارٹی قیادت کی طرف سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کیاا نہیں کوئی وہ دن یاد دلائے گا جب نواز شریف اپنی بیٹی مریم کے ساتھ احتساب عدالت سے سزا پانے کے بعد وطن لوٹے تھے؟ کیا اس وقت لاہور میں ان کے استقبال کے لیے ایک جم غفیر نہ اُمڈ آیا تھا؟ شہباز شریف جو اس ریلی کی قیادت کر رہے تھے، اس وقت تک ہوائی اڈے سے دور رہے جب تک کہ ان کے بھائی کو گرفتار کر کے اسلام آباد لے جانے کے لیے طیارے میں نہ منتقل کر دیا گیا۔ایسی صورتحا ل میں پارٹی سپورٹر پر الزام دھرنا زیادتی سے کم نہیں جو اپنی قیادت سے مبہم اشارے ملنے کے باوجود تمام تر مجبوریوں کے بعد بھی جماعت اور جمہوری عمل سے وفادار رہتا ہے ۔ جب پارٹی قائد اور ان کی بیٹی تو ڈٹی نظر آئیں لیکن قائد کا اپنا بھائی کسی قسم کی مزاحمت کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو ایسے میں بیچارے کارکن کو کیسے الزام دیا جا سکتا ہے؟ممکن ہے کہ پارٹی کے کچھ خاموش لوگوں کو یہ نوید دی گئی ہو کہ اگر انہوں نے اچھے بچوں جیسابرتاؤ رکھا توانہیں پنجاب میں حکومت کرنے دی جائے گی جو کہ ہمیشہ سے ہی مسلم لیگ نواز کے لیے سر کا تاج رہا ہے۔ موجودہ حالات میںایسے وعدے پر یقین کر لینا مشکل ہے کہ زمینی حقائق ایسی کسی صورتحال کے لیے موافق دکھائی نہیں دیتے۔ بہر حال جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اب آگے بڑھنے کے دو ہی راستے ہیں۔ پہلے تو خود کو جمہوریت کی علمدار کہنے والی جماعتوں کو پہلے اپنی صفوں میں جمہوریت لانا ہو گی۔ اب اگر نواز شریف اور مریم نواز مسلم لیگ نواز کی قیادت کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں تو کیوں نہ یہ کام کسی دوسرے کو سونپ دیا جائے؟اس جماعت میں شاہد خاقان عباسی جیسے لیڈ ربھی ہیں جنہوں نے مختصر دورانیے کے لیے وزیر اعظم بننے کے باوجود بہترین کارکردگی دکھائی اور ایک ٹھوس شخصیت اور دیانتدار جمہوریت پسند ہونے کا ثبوت دیا۔ اب وہ یا ان جیسے کسی دوسرے رہنما کو پارٹی قیادت سونپنے کا کیوں نہیں سوچا جا سکتا؟ یقیناً ایسی چیزوں کے فیصلے جماعتو ںمیں اندرونی طور پر ہی ہونے چاہئیں البتہ اگر جماعتیں خود اپنے لیے طاقت کے کھیل میں کسی ''چھوٹے'' کے کردار پر اکتفا کرتی ہیں اور اپنے عظیم تر آئینی اہداف کو پس پشت ڈالے رکھتی ہیںدوسری صورت میں ہمیں ایک ایسے طویل مدتی حکومتی ڈھانچے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا جس میں طاقت کا منبع اورجوابدہی کا مرکز ایک سے زائد ہو۔

(بشکریہ ڈان، ترجمہ خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں