Daily Mashriq

6ارب ڈالر ہرجانہ ۔۔۔ ذمہ دار کون؟

6ارب ڈالر ہرجانہ ۔۔۔ ذمہ دار کون؟

عالمی بینک کے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (اکسڈ) نے ریکوڈک ہرجانہ کیس میں پاکستان پر تقریباً 6ارب ڈالر کا جرمانہ ایسے وقت میں عائد کیا ہے کہ جب پاکستان شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔ یاد رہے ٹیتھیان کمپنی کو 1993ء میں بلوچستان کے علاقے چاغی میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا لائسنس جاری کیا گیا تھا لیکن سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2011ء میں بلوچستان میں سونے اورتانبے کے ذخائر کی تلاش کے لیے ٹیتھیان کمپنی کو دیا جانے والا لائنس منسوخ کرکے پراجیکٹ کالعدم قرار دیا تھا۔ کمپنی نے عدالتی فیصلے کے خلاف عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل سے رجوع کیا تھا اور پاکستان سے 16ارب ڈالر ہرجانہ وصول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان کو ریکوڈک کیس میں مختلف مرحلوں پر تین بین الاقوامی لاء فرمز کی خدمات حاصل کرنا پڑیں ۔ ریکوڈک کیس پر مجموعی طورپر پاکستان کو کئی ملین ڈالرز اخراجات کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑا۔ یاد رہے ٹیتھیان کمپنی کے خلاف 5سال تک کیس سپریم کورٹ آ ف پاکستان میں بھی زیرِ سماعت رہاتھا‘ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریکوڈک کیس کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ 33لاکھ 47ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہدہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہواتھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کواعتمادمیںلیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کر لیا اورکوشش کی کہ گوادر کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا ‘ اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف 25فیصد ملنا تھا۔ اس پس منظر کے بعد دیکھا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ پاکستان کی جانب سے معاہدہ منسوخی کا فیصلہ احسن امر تھا لیکن آٹھ سالوں بعد جا کر عقدہ کھلا ہے کہ پاکستان عالمی قوانین سے بے خبر تھا لہٰذا معاہدہ منسوخی کی بنا پر اب پاکستان کو 6ارب ڈالر ہرجانہ اداکرنا ہو گا۔یاد رہے کہ پاکستان طویل انتظار اورمذاکرات کے بعد آئی ایم ایف سے صرف 6ارب ڈالر لینے میں کامیاب ہوا ہے۔ 6ارب ڈالربھی یکمشت نہیں بلکہ تین سال کی مدت میںملیں گے جب کہ ہرجانے میں ہمیں 6ارب ڈالر اداکرنے ہوں گے۔ اگرچہ پاکستانی حکومت اکسڈ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہے اور حکومت نے فیصلے کاتفصیلی جائزہ لے کر اسے چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ‘تاہم ہمارے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر واقعی ہمیں 6ارب ڈالر ادا کرنے پڑ گئے تو اس ہرجانے کا ذمہ دار کون ہو گا؟ ہم ہر دفعہ ٹھوکر کھانے کے بعد ہی کیوں بیدار ہوتے ہیں ‘ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں توانائی بحران کے پیشِ نظر ترک کمپنی سے ہیوی رینٹل پاور ہاؤس خریدے گئے جس پر پاکستان کی خطیر لاگت آئی لیکن بعد ازاں معلوم ہواکہ رینٹل پاور ہاؤس سے پیدا ہونے والی بجلی بہت مہنگی ہو گی کیونکہ فرنس آئل سے چلنے تھے ‘یوں رینٹل پاور ہاؤس سے بجلی پیدا نہ ہو سکی اور اُس کا نقصان قومی معیشت کو اٹھانا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے ہی دور میں چین سے ریلوے کے انجن خرید لیے گئے ۔جب وہ پاکستان آئے تو معلوم ہوا کہ وہ پاکستانی ریلوے ٹریکس سے مطابقت نہیںرکھتے۔کیا ہی اچھا ہو کہ جلد بازی میں معاہدے کرنے کی بجائے ہم خوب غور و خوض کر لیا کریں اور اطمینان ہو جانے کے بعد معاہدے کیا کریں تو ہم نقصان سے بھی سے بچ سکتے ہیں اور شرمندگی سے بھی۔

15روپے کی روٹی۔۔وزن میں بھی کم

جب ریاست کی رٹ کمزور ہو جائے تو دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ گراں فروش اپنی من مانی پر اُتر آتے ہیں گو یہ کام زیادہ عرصہ تک نہیں چلتا لیکن ریاست کی رٹ پرسوالیہ نشان ضرور لگ جاتا ہے۔’’ روٹی بنیادی ضرورت ہے‘‘ کو بنیاد بناتے ہوئے پشاور کے شہری نے پرائس ریونیو کمیٹی اور منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیے بغیر روٹی کی قیمت میں 5روپے اضافے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ دوسری طرف پشاور کے متعدد علاقوں میں روٹی کی قیمت میں اضافے کے باوجود وزن میں کمی کر دی گئی ہے ۔پشاور کے نان بائیوں کے ایکا سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ روٹی کی قیمت تو 15روپے مقرر کی جائے لیکن وزن 190گرام کرنے کی شرط قبول نہیں ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ روٹی کی قیمت میں یکمشت 5 روپے اضافہ کر دیا گیا ہے ‘ اس سے قبل ایک روپیہ ‘ دو روپے ہی اضافہ دیکھنے میں آتا تھا۔جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے دو وقت کی روٹی چونکہ ہر شہری کی ضرورت ہے اس لیے اس کی قیمت نہایت مناسب رکھی جائے جو مزدور اور عام غریب کی پہنچ میںہو۔ اگر مہنگی روٹی کے ذمہ دار نان بائی ہیں تو انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جلد از جلد ریاست کی رٹ کو قائم کرتے ہوئے سرکاری نرخ کے مطابق روٹی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔اگر نان بائی اس کے براہِ راست ذمہ دار نہیںہیں تو اس سلسلے میں سبسڈی دے کر روٹی کی قیمت اتنی رکھی جائے جو عام شہری کی قوتِ خرید میںہو۔

متعلقہ خبریں