Daily Mashriq

محمد ہلال 35سال سے دریائے سوات میں ڈوبنے والے افراد کی لاشیں نکال رہاہے

محمد ہلال 35سال سے دریائے سوات میں ڈوبنے والے افراد کی لاشیں نکال رہاہے

سوات (فیاض ظفر) نفسا نفسی کے اس دور میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنی حلال کمائی سے انسانیت کی خدمت کا تہیہ کر رکھا ہے۔ ایسے لوگوں میں تحصیل کبل میں دریائے سوات کے کنارے گاؤں علی گرامہ کا رہائشی محمد ہلال بھی ہے جو گذشتہ35سال سے دریائے سوات میں ڈوبنے والے افراد کی لاشیں نکال کر ورثا کے حوالے کرتا ہے ۔ اب تک انہوں نے دریائے سوات سے سینکڑوں ڈوبنے والے افراد کی لاشیں نکالی ہیں۔ محمد ہلال جو پراپرٹی کا کام کرتے ہیں، موسم گرما میں جب دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ شروع ہوجاتا ہے، تو وہ گھر سے نہیں نکلتے۔ جب بھی ان کو خبر ملتی ہے کہ دریا میں کوئی شخص ڈوب گیا ہے، تو وہ اپنا ''جالہ''اپنی پک اَپ میں ڈال کر دریائے سوات کی طرف نکل جاتے ہیں اور اس وقت تک واپس نہیں آتے جب تک لاش کو برآمد کرکے ورثا کے حوالے نہیں کر دیتے۔ محمد ہلال کا کہنا ہے کہ وہ یہ کام فی سبیل اللہ کرتے ہیں۔اب تک اس کام کے بدلے انہوں نے کسی سے ایک پائی بھی نہیں لی۔ کام کے دوران میں کسی کا پانی تک نہیں پیتے۔ محمد ہلال کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ان کے والد کئی سال تک دریائے سوات سے نعشیں نکالنے کا کام فی سبیل اللہ کرتے تھے۔ جب وہ دس سال کے تھے، تو اپنے والد کے ساتھ دریا جاتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے کم عمری میں تیراکی، غوطہ خوری اور جالہ چلانا سیکھا۔ والد کے نقشِ قدم پر چل کر وہ اب انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ تجربہ ہونے کی وجہ سے سوات کے جس علاقے میں بھی کوئی شخص دریامیں ڈوب جاتا ہے، تو محمد ہلال کو اندازہ ہوتا ہے کہ ڈوبنے والے شخص کی لاش کون سے علاقے میں دریاسے ملے گی، جس کی وجہ سے وہ اس جگہ میں ہی لاش کی تلاش کرتے ہیں۔ محمد ہلال کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک سینکڑوں کی تعداد میں لاشیں دریائے سوات سے نکالی ہیں۔ تین سو کے قریب ایسی لاشیں نکالی ہیں جو ان کو یاد ہیں۔ ان میں مرد، خواتین اور سیاحوں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔ محمد ہلال کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات لاش نکالنے کے بعد لوگ ان کو انعام کی رقم پیش کرتے ہیں، لیکن وہ یہ رقم قبول نہیں کرتے اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ محمد ہلال نے مشرق کو بتایا کہ جب دریامیں کوئی شخص ڈوب جاتا ہے، تو تیز پانی کی وجہ سے ان کے رشتہ داروں کی امید ختم ہوجاتی ہے۔ جب کسی کا کوئی پیارا دریامیں ڈوب جائے اور لاش نہ ملے، تو اس کے رشتہ دار تمام عمر اپنے ڈوبنے والے رشتہ دار کے لئے ماتم کرتے ہیں۔ پھر جب کسی کو اس کے اپنے پیارے کی لاش ملتی ہے، تو وہ اس کو دفن کرتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد ان کا غم آہستہ آہستہ کم ہو جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں