Daily Mashriq

وزن گھٹانے کےلیے روزانہ ورزش کیجیے... لیکن کب؟

وزن گھٹانے کےلیے روزانہ ورزش کیجیے... لیکن کب؟

رہوڈ آئی لینڈ: موٹاپے کے شکار اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ تو روزانہ چہل قدمی اور ورزش کرتے ہیں لیکن ان کے موٹاپے اور وزن میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اب ماہرین نے اس شکایت کی وجہ دریافت کرلی ہے۔

رہوڈ آئی لینڈ، امریکا کے براؤن ایلپرٹ میڈیکل اسکول میں کی گئی ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ورزش/ چہل قدمی سے بہتر نتائج حاصل کرنے کےلیے اگرچہ یہ ضروری ہے کہ روزانہ بیس سے پچیس منٹ تک جسمانی مشقت کی جائے، تاہم اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ جسمانی مشقت کب کی جائے۔

موٹاپے میں مبتلا 375 افراد پر کی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ جنہوں نے ورزش/ چہل قدمی کےلیے دن میں ایک خاص وقت (مثلاً صبح سات بجے یا شام چھ بجے وغیرہ) مقرر کر رکھا تھا اور وہ وقت کی پابندی بھی کررہے تھے، ان کا موٹاپا اور وزن بتدریج کم ہورہے تھے۔

اس کے برعکس، وہ لوگ جو روزانہ ورزش/ چہل قدمی یا ایسی کوئی دوسری جسمانی مشقت کیا کرتے تھے لیکن اس کا نظام الاوقات مقرر نہیں کیا ہوا تھا، انہیں اپنی جسمانی مشقت سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔

اس مطالعے کی بنیاد پر طبّی ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جب ہم کسی کام کو روزانہ، وقت کی پابندی کے ساتھ کرتے ہیں تو ہمارا ذہنی اور جسمانی نظام بھی خود کو اس پابندی کا عادی بنا لیتا ہے؛ اور اس طرح سے ایک ہی عمل بار بار دہرانے سے فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ وقت کی پابندی نہ کرنے سے ایسا کچھ نہیں ہوتا؛ اور نتیجتاً ہمیں اس کام کے مفید نتائج بھی نہیں ملتے۔

خاص بات یہ ہے کہ ورزش/ چہل قدمی صبح کی جائے یا شام میں، اس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا؛ بلکہ روزانہ مقررہ وقت کی روزانہ پابندی کرنا اس معاملے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

آج دنیا بھر میں موٹاپے کو بیماری کا درجہ دیا جاچکا ہے جس کی شدت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے کیونکہ اکثر لوگوں نے جسمانی مشقت کم کردی ہے اور آرام زیادہ کرنے لگے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ صحت مند اور چاق و چوبند رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو پورے ہفتے میں مجموعی طور پر 150 منٹ (ڈھائی گھنٹے) کی جسمانی مشقت (ورزش یا چہل قدمی) کرنی چاہیے۔

اب اس مشورے میں وقت کی پابندی کا اضافہ کرنے کی تجویز بھی ہے تاکہ وزن کو قابو میں رکھنے کی کوششیں بھی کارگر ثابت ہوں۔

متعلقہ خبریں