Daily Mashriq

انتخابی عمل کے مراحل اور اجتماعی ذمہ داریاں

انتخابی عمل کے مراحل اور اجتماعی ذمہ داریاں

2018ء کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا سلسلہ شروع ہے جبکہ دوسری طرف وطن عزیز کے سیاسی درجہ حرارت میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اضافہ ہوتاجارہا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت مسلمانوں کی بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی مملکت کے رائے دہندگان کو انتخابی عمل کے چوتھے مرحلے میں مستقبل کے لئے اپنی قیادت چننے کا موقع ملے گا۔ تب یقینا رائے دہندگان اپنے حال اور آئندہ نسلوں کے بہتر مستقبل کے لئے ایک جمہوریت پسند عوام د وست اور استحکام و ترقی کے اہداف حاصل کرنے کا پروگرام رکھنے والی قیادت کو حق حکمرانی عطا کریں گے۔ انتخابی عمل کے پہلے مرحلے کی طرح دوسرا بھی انتخابی قوانین کے مطابق طے ہوگا اور ہم سب کو یہ امید کرنی چاہئے کہ اس مرحلے میں بھی امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ تیسرے اور اہم مرحلے میں امیدوار اور ان کی جماعتیں انتخابی مہم چلائیں گے۔ انتخابی مہم کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے جہاں ریاستی اداروں کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھنی چاہئے وہیں انتخابی عمل میں شریک سیاسی جماعتوں اور پزاد امیدواروں پر بھی فرض ہے کہ وہ ایسی تقاریر‘ سرگرمیوں اور الزام تراشی سے گریز کریں کہ جن سے شہری امن متاثر ہو۔ انتخابی عمل کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے ہر خاص و عام کو یہ امید ہے کہ انتخابی قوانین پر عمل کرتے ہوئے سزا یافتہ مجرموں‘ کرپٹ عناصر‘ قرضے اور ٹیکس ہڑپ کرنے والوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی میں کسی بھی طرح ملوث عناصر کو حصہ نہیں لینے دیا جائے گا۔ اصولی طور پر یہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملکی قوانین اور انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروائیں یہ تاثر نہیں ملنا چاہئے کہ کہیں کسی پسند و نا پسند کی کھچڑی پک رہی ہے۔ ایک مہذب جمہوری معاشرے کے قیام کا خواب آنکھوں میں سجائے پاکستان کے (عوام) ان دنوں آزاد عدلیہ‘ الیکشن کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ امر بھی اپنی جگہ بجا ہے کہ جمہوریت کا مطلب قانون کی حکومت‘ مساوات‘ انصاف اور شہریوں کی عز ت نفس کا تحفظ ہے۔ ماضی میں جمہوریت‘ مساوات‘ انصاف اور شہریوں کی عزت نفس کے تحفظ کے حوالے سے حکومتوں نے کیا کیا اس پر اب بحث اٹھانے کا موقع نہیں پھر بھی یہ عرض کردینا از بس ضروری ہے کہ اگر انتخابی قوانین اور ضابطہ اخلاق پر بلا امتیاز عمل ہوا تو رائے دہندگان آزاد فضا میں کسی دبائو کے بغیر اپنی قیادت کا انتخاب کر سکیں گے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ داخلی و خارجی مسائل پر لاکھ پردے ڈالے جائیں لیکن صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔ ان حالات میں سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان مسائل کے حل کے لئے اپنا منشور عوام کے سامنے رکھتے ہوئے منشور پر عملدرآمد کا روڈ میپ بھی دیں۔ الزام تراشی اور فتوے بازی سے ماحول کو خراب کرنے کی بجائے سیاسی جماعتیں عوام کو بتائیں کہ آخر وہ ایسا کیا کریں گی کہ بیروزگاری‘ غربت‘ نا انصافی‘ عدم مساوات‘ میرٹ کے قتل سمیت دوسرے مسائل کم سے کم وقت میں حل ہوں۔ صوبوں کے درمیان پچھلے پانچ برسوں کے دوران پیدا ہونے والی بد اعتمادی کی خلیج کم ہو صوبائی خود مختاری پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو اور یہ تاثر زائل ہو کہ 18 ویںترمیم کے باوجود اقتدار و اختیارات کا کلی مرکز اسلام آباد ہے۔ بنیادی طور پر یہ سیاسی جماعتوں کا ہی فرض ہے کہ وہ عوام کے حق حکمرانی کے تحفظ میں کوئی کسر نہ اٹھا چھوڑیں اور عوام وفاق و صوبوں میں جن جماعتوں کو بھی حق حکمرانی عطا کریں وہ ان کی توقعات پر پورا اتریں۔ بد قسمتی سے اس حوالے سے چند استثنائوں کے علاوہ کلی طور پر کوئی بھی جماعت ماضی میں ان وعدوں کی تکمیل نہیں کر سکی جو انہوں نے 2013ء کی انتخابی مہم کے دوران کئے تھے۔ پاکستان آج جن حالات اور مسائل سے دو چار ہے یہ کسی سے مخفی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ماضی کے تجربوں سے سبق سیکھا جائے اور اس سبق سے مستقبل میں رہنمائی لی جائے۔ مودبانہ طور پر سیاسی قیادتوں کی خدمت میں عرض کرنا لازم ہے کہ وہ انتخابی عمل کے تیسرے مرحلہ انتخابی مہم کے دوران خوابوں کی تجارت کریں نہ الزامات کی آندھی چلائیں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے اور اس کے نفع و نقصان میں بھی سبھی برابر کے شریک ہیں۔ ایک اور اہم بات جس کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ سیاسی عمل کے انتخابی مراحل کو جتنا مہنگا بنا دیاگیا ہے اس سے معاشرے کے عام طبقات کے وہ باشعور لوگ بہت دکھی ہیں جو اپنی ذہانت اور صاف ستھری سیاسی سوچ کی روشنی میں عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن کروڑوں روپے کے انتخابی اخراجات نے سیاسی عمل میں ان کی شرکت کے راستے بند کردئیے ہیں۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلی قومی اسمبلی میں جب انتخابی اصلاحات کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی اپنا کام کر رہی تھی تو اس کمیٹی کسی بھی رکن نے عملی و شعوری طور پر عوام دوستی کامظاہرہ نہیں کیا۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان نے سیاسی عمل میں عام آدمی کی شرکت کے دروازے بند کرنے اور سیاست کو اشرافیہ کے لئے خاص کردینے کے جرم کا ارتکاب کیا۔ بہر طور اب جبکہ ملک میں انتخابی سیاست کے ہنگام ہیں 95 فیصد زیادہ امیدواروں کا تعلق بالا دست طبقات سے ہے یا سیاسی جماعتوں کے قائدین کے عزیز و اقارب میں سے کسی تبدیلی کی امید تو نہیں پھر بھی ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ 25جولائی کے انتخابات کے بعد معرض وجود میں آنے والی پارلیمان سیاسی عمل اور نظام حکومت پر اشرافیہ کی گرفت کو کمزور کرنے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ عملی سیاست اور نظام حکومت میں شریک کرنے کے لئے اقدامات کرے گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ انتخابی عمل کے باقی کے مراحل میں بھی اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ عوام الناس کا امن و جمہوری نظام حکومت ختم نہ ہو۔

متعلقہ خبریں