Daily Mashriq

ملک بھر میں طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ

ملک بھر میں طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ

شارٹ فال 6ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرجانے کی وجہ سے ملک بھر کے دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں لوڈشیڈنگ نے جو قیامت توڑ رکھی اس کا اندازہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے پالیسی ساز‘ بجلی کی ترسیل کے ذمہ داران اور نگران حکومت کے وہ بڑے جو چند دن قبل ایک پریس کانفرنس میں ’’بہتر صورتحال‘‘ کی نوید دے رہے تھے نہیں لگا سکتے۔ رمضان المبارک اور شدید گرمی کے موسم میں بڑے شہروں میں 4‘ چھوٹے شہروں میں 6 اور ملک بھر کے دیہی علاقوں میں 10سے16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر اس سوال کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے کہ اگر پیداواری صلاحیت 28ہزار میگا واٹ ہے تو وہ کیا گورکھ دھندہ تھا جس سے نون لیگ کے دور میں صورتحال قدرے بہتر تھی؟ اس سوال پر غور کرتے ہوئے یہ بھی ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ نون لیگ نے میڈیا مینجمنٹ کے ذریعے اور دیہی علاقوں کو قربانی کا بکرا بنا کر اس ایشو کو دبا رکھا تھا۔ دوسری طرف رخصت ہونے والی حکومت 1940 ارب روپے کا بوجھ صرف انرجی سیکٹر کے حوالے سے چھوڑ گئی۔ سوال یہ ہے کہ 28 ہزار میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت اگر واقعتا موجود ہے تو پھر کیا امر مانع ہے کہ پیداواری یونٹ ایک ہی وقت میں کام نہیں کرسکتے؟ بہر طور یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دو چار شہریوں کی داد رسی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ آنے والے دنوں میں بجلی کے صارفین کو ان کی ضرورت کے مطابق بجلی سپلائی ہو ۔نگران حکومت کا فرض ہے کہ وہ روز مرہ کے امور نمٹاتے وقت اس مسئلہ کو خصوصی اہمیت دے۔

ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بلاجواز اضافہ

عیدالفطر سے چند دن قبل گرائے جانے والے پٹرولیم بم سے صارفین کے اوسان خطا تو تھے ہی کہ ان کے لئے حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر شہروں کے درمیانی رابطوں کی مسافت کے کرائے بڑھا دئیے جانے سے ایک نیا مسئلہ پیداہوگیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں حالیہ اضافہ ان کے کاروبار پر بوجھ ہے جسے کم کرایوں میں اضافہ کرکے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح سارا بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ شہریوں اور دور دراز کے علاقوں کی طرف عید کے موقع پر سفر کرنے والے مسافروں کی شکایت یہ ہے کہ ٹرانسپورٹروں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور عیدی کے نام پر مسافروں پر اضافی کرایوں کا جو بوجھ ڈالا ہے یہ حسب روایت اگلے مرحلہ میں باقاعدہ ہو جائے گا۔ یہ شکایت اور خدشہ بلا وجہ ہر گز نہیں۔ ماضی میں ہمیشہ یہ ہوا کہ رمضان المبارک کے ایام میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں اور عید پر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں جو اضافہ ہوا یہ عید کی تعطیلات کے بعد مستقل ہی ہوگیا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک بھر میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے لئے اضلاع کی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیوں کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ اسی طرح چاروں صوبوں میں ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیاں قائم تو ہیں مگر ان کا کردار بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر سطح پر ایک خاموش معاہدہ ہے کہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے اور ان کے استحصال پر بلند ہوتی احتجاجی آوازوں پر کوئی بھی توجہ نہیں دے گا۔ عجیب بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں مقدس ایام کے دنوں میں ہر ادارہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرتا ہے لیکن پاکستان میں استحصالی ایجنڈے پر تندہی سے عمل شروع ہو جاتا ہے۔ عوام یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ کس کے دروازے پر اپنی فریاد لے کر جائیں۔ہر صورت میں بیچارہ عام آدمی ہی پس رہا ہے اور اس کی دادرسی کرنے والا کوئی نہیں ۔

متعلقہ خبریں