Daily Mashriq


کیا انتخابات ۔۔۔۔۔؟

کیا انتخابات ۔۔۔۔۔؟

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمر ان خان جب سے 2013ء کے انتخابات ہا رے ہیں تب سے مسلسل دو کام انجا م دے رہے ہیںیا تو وہ خبر بن جا تے ہیں یا پھر خبر بنا تے ہیں۔ اب کچھ دن کی بات ہے نئے انتخابات ہونے جا رہے ہیں مگر ان کا یہ تسلسل نہیں ٹوٹا ہے ، وہ عمر ہ کی ادائیگی کے لیے سعودیہ تشر یف لے گئے ، عمر ہ ایک عبادت ہے مگر اس میں بھی وہ خبر یں بنا گئے اور خبر بن بھی گئے ، عمر ان خان جو ایمانداری ، اہلیت یعنی میر ٹ ، انصاف کا علم بلند کر کے میدان سیاست میں وارد ہوئے تھے اور بات بات پر برطانیہ اور امر یکا کی مثالیں دیا کر تے تھے کہ وہا ںقانو ن سے ماوراء کوئی اقدام نہیں ہو تا یہا ں قانو ن کی دھجیا ں بکھر جا نے کا ما تم کرتے ، مگر جب خود کچھ چاہنا ہو یا کرنا ہو تو کر گزرتے ہیں ، کسی بندھن کو قبول نہیں کرتے ۔ اب عمر ہ کے لیے جا تے ہوئے کئی خبر یں بھی بنا ڈالیں اور خودخبر بھی بن گئے۔ وہ اس طرح کہ اپنے ہمر اہ جن افر اد کو اس عظیم عبادت کے لیے لے گئے ان کے حوالے سے کئی خبریں جنم لے چکی ہیں اور اس نے کئی سوال بھی اٹھا دیئے ہیں ان میں سب سے بڑاسوال اپنے ایک اے ٹی ایم دوست زلفی بخاری کو بھی ہمر اہ لے گئے۔ جب وہ روانہ ہو رہے تھے کہ اسی لمحہ سوشل میڈیا پر آنا شروع ہو گیا تھا کہ خان نیا زی تین گھنٹے سے زلفی بخاری کو ہمر اہ لے جا نے کے لیے مسلسل فون پر اعلیٰ حکا م سے رابطے میں ہیں ، خیر یہ کوئی خبر نہیں ہے کہ وہ مسلسل رابطہ حکام سے کیے ہوئے تھے اور جہا ز کی روانگی میں تاخیر برتی جا رہی تھی، خبریں تو یہ نکلیں کہ جب خان صاحب جا نتے تھے کہ بخاری بلیک لسٹ ہیں اور قانو ن وآئین اس امر کی اجا زت نہیں دیتا کہ کسی کو ایک مرتبہ بھی بیر ون ملک جا نے کی اجا زت نہیں مل سکتی جب تک اس کا نا م بلیک لسٹ میں شامل ہے ، پھر عمر ان خان کو کونسی چاہت تھی کہ وہ ان کو ہمر اہ لے جانے کے لیے اپنی خواہش کو قانو ن سے ماوراء جا نتے تھے ، اگر بخاری صاحب نہ جا تے تو قانو ن کی بالا دستی رہتی اور واہ واہ ہو جا تی کہ امیگریشن والو ں نے فرائض منصبی نبھا یا اور خان صاحب نے بھی تحسین کے ساتھ قبول کیا ، دوسری اہم خبر یہ ہے کہ کہا یہ جا رہا ہے کہ جہا ز پا رٹی کی انتخابی مہم چلانے کے لیے چارٹرڈ کیا گیا تھا ، ماشاء اللہ تحریک انصاف اقتدار میں آنے سے قبل ہی اتنی دولت مند جما عت ہے کہ انتخابات کے لیے غیر ملکی جہا زانتہا ئی مہنگے کر ایے پر حاصل کیا ہو ا ہے۔ خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو کروڑ روپے کر ایہ ادا کیا جا ئے گا ۔ ان سب باتو ں سے ہٹ کر اس خبر کی بھی خبرلینے کی ضرورت ہے کہ وزارت داخلہ نے کس قانو ن کے تحت زلفی بخاری کو اجا زت دی۔ اجا زت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وزیر داخلہ کی مہر بانی سے یہ قصہ پا ک ہو ا ہے اور وزیر داخلہ کے بارے میں یہ چونکا دینے والی خبر ہے کہ وہ عمر ان خان کی فائونڈشن کے بور ڈ آف ڈائریکٹر ز میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں یہ وضاحت ہوئی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ بورڈ کے ایک اجلاس میں شرکت کے سواآئند ہ کے اجلا سو ں میں شرکت نہیں کی ، شرکت یا عدم شرکت بھی کو ئی سوال نہیں بلکہ یہ رشتہ بتا رہا ہے کہ بخاری کو بیرون ملک جا نے کی اجا زت ملنے کا جو از کیا تھا پس پر دہ کیا عوامل تھے ۔ عبوری حکو مت کے بارے میں بھی مختلف حلقے قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ یہ عبوری حکومت عمر ان خان کی من پسند حکومت ہے اگر اس میں ذرہ برابر بھی نا پسندید گی شامل ہو تی تو عمر ان خان انتخابی مہم کی بجائے دھر نا مہم چلا دیتے ، وزارت داخلہ ایک انتہائی اہم وزارت ہو تی ہے اسی لیے عموما ًوزراء اعلیٰ ا س محکمے کا قلمدان اپنے قبضہ میں رکھا کرتے ہیں اور اعظم خان کے نا تے عمر ان خان کا رشتہ آشکا ر ہو گیا ۔ عمر ان خان کے نا قدین اب کہہ رہے ہیں کہ جب عمر ان خان کے دباؤ میں آکر مو جو د ہ حکومت اتنا بڑا کا م کرسکتی ہے تو انتخابات کے مو قع پر کیا صورت حال ہوگی۔ اس کے علا وہ ایک با ت یہ بھی کہی جا رہی ہے کہ وزیر اطلا عات علی ظفر بھی اعظم خان کی طر ح پوزیشن رکھتے ہیں۔ ابھی تک براہ راست کو ئی عمل سامنے نہیں آیا مگر علی ظفر پا کستان کے ممتا ز قانو ن د ان ایس ایم ظفر کے صاحبزادے ہیں ، ایس ایم ظفر ماضی میں ایو ب خان کی کا بینہ کے وزیر قانون تھے ، ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی سرسبز کتا ب میںرہے ہیں ان ہی کی ہدایت پر نعیم بخاری نے نو از شریف کے خلا ف پانا ما کیس کی پیر وی کی۔ نعیم بخاری آغاز وکالت میں ایس ایم ظفر کے لا ء چمبر ز سے وابستہ ہوئے، کا روان مقد س میں بخاری صاحب کے علا وہ عمر ان خان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جنہو ں نے اپنے سابق شوہر کے حوالے سے بنے ہو ئے پا سپو رٹ اور شنا ختی کا ر ڈ پر سفر کیا ۔ عمر ان خان کی زوجیت میںآنے کے بعد یہ دستاویز ات قانو ن کے دائر ہ سے باہر ہو جاتی ہیں، کیوں کہ اب زوجہ عمر ان خان ہیں ، ویسے اسلا م میں کہیں کسی خاتون کا نا م اس کی زوجیت کے حوالے سے کسی ورق پر نہیں ملتا جتنی صحابیا ت کا ذکر ملتا ہے وہ سب اپنے والد کے نا م کے حوالے سے شنا خت ہو تی ہیں حتیٰ کہ امّ المومینن بھی اس میںشامل ہیں۔ شا دی کے بعد خاتون کے نا م کے ساتھ شوہر کے نا م کی پخ لگ جا تی ہے ، جبکہ اس کی تعلیمی اسناد میں اس کا وہی نام ہو تا ہے جو تعلیمی ادارے میں درج کر ایا جا تا ہے اوریہ ہی اصلی نا م گردانا جا تا ہے۔ اس بارے میں حکومت کو چاہیے کہ قانو ن سازی کر ے کہ شادی کے بعد خاتون کے نا م کے ساتھ شوہر کا نا م شامل نہ کیا جائے،بلکہ زوجیت کے خانے میں شوہر کا نا م اور ولدیت کے خانے میں والد کا نا م درج ہو نا چاہیے اور لڑکی کا اصلی نا م ہی تما م سرکا ری کا غذات میں درج ہونا چاہیے ۔ تاہم یہ بات درست ہے کہ وزارت داخلہ نے جو اقدام کیا ہے اس بارے میںکئی حلقوںکے انتخابات کے بارے میں تحفظات پیدا ہوچکے ہیں۔ اب گیند وزیر اعظم کے کو رٹ میں ہے کہ انہوں نے رپورٹ ما نگی ہے دیکھیں اس رپو رٹ کی روشنی میں کیا ردعمل سامنے آتا ہے ۔

متعلقہ خبریں