Daily Mashriq


’’مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ‘‘

’’مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ‘‘

دنیا میں ایک نئے عالمی نظام کی بنا پڑنے کو ہے۔ ڈائی پولر کی ٹوٹ پھواٹ سے قائم ہونیوالا یونی پولر عالمی نظام اپنی آخری ہچکیاں لے رہا ہے ۔ کہن زدہ، مغربی نظام اور طاقتیں عشروں تک بے مثال اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے بعد اب سوتنوں اور حاسد پڑوسنوں کی طرح ایک دوسرے کو کوسنے دے رہی ہیں۔ اس بار کینیڈا میں طاقتور جی سیون ملکوں کی کانفرنس کچھ اسی انجام سے دوچار ہوئی۔ رکھ رکھاؤ، نظم وضبط اورا ختلافات کی پردہ پوشی کیلئے مشہور جدید مغرب کے حکمران ایک دوسرے کو برسرعام بے نقط سناتے پائے گئے۔ جی سیون کی بارات کے دولہا ڈونلڈ ٹرمپ کو اجلاس میں شریک ہوکر احساس ہوا کہ وہ غلط مقام پر آپھنسے ہیں۔ وہ میزبان ملک کینیڈا کے وزیراعظم پر گرجتے برستے رہے، بات یہیں نہیں رکی ٹرمپ مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے بغیر کانفرنس سے نکل کھڑے ہوئے اور جہاز سے ٹویٹ کرکے اپنے نمائندوں کو اعلامیہ پر دستخط نہ کرنے کے احکامات دیتے رہے۔ یہ کینیڈا اور یورپی ملکوں کے حکمرانوں کیلئے انتہائی توہین آمیز رویہ تھا۔ ایک طرف دنیا پر راج کرنیوالے طاقتور ملکوں کا اجلاس جوتیوں میں دال بٹنے کا منظر پیش کر رہا تھا تو دوسری طرف عین انہی لمحات میں شنگھائی تعاون تنظیم کے نام سے آٹھ ملکوں کی ایک اور سرگرمی چین میں ہو رہی تھی جس میں پاکستان اور بھارت جیسے حالت جنگ میں کھڑے دو ملک بھی شریک تھے اور یہ ایک پروقار اجلاس تھا جہاں دلوں کی کدورتیں چہروں پر مصنوعی مسکراہٹوں اور مصافحوں کی شکل میں نمایاں تھیں۔ ان دونوں اجلاسوں کا یہی فرق چین کے ایک اخبار نے بہت طنزیہ انداز میں واضح کیا ہے یعنی ایک تصویر میں چہروں پر اضطراب اور مایوسی تھی تو دوسری تصویر میں چہرے امید سے تمتما رہے تھے۔ چین کے شہر کنگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سترہویں اجلاس کی اہم ترین بات صدر ممنون حسین اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا مصافحہ اور سرِراہگذار ہونیوالی ہلکی گپ شپ ہے۔ اس مصافحہ کے پیچھے کچھ عرصے سے ہونیوالی غیر محسوس سرگرمیاں تھیں جو خلاؤں کے مسافر نریندر مودی کو زمین تک لانے کا باعث بنیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے بانی ارکان میںچین، روس، قازقستان، تاجکستان، کرغزستان اور ازبکستان شامل ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت گزشتہ برس اس تنظیم کے رکن بنائے گئے تھے۔ افغانستان کو شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کا درجہ حاصل ہے۔ مستقل رکنیت ملنے کے بعد بھارت کے وزیراعظم پہلی بار شنگھائی تعاون تنظیم کے کسی اجلاس میں شریک ہوئے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا سترہ صفحات پر مشتمل اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں دہشتگردی کی ہر شکل کی مذمت کرنے کیساتھ ساتھ چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی بھی حمایت کی گئی۔ بھارت واحد ملک تھا جس نے اپنا اختلافی نوٹ لکھا اور یہ نوٹ سی پیک کے حوالے سے تھا۔ اس اعتراض کی بنیاد بھارت کا یہ روایتی دعویٰ تھا کہ سی پیک گلگت بلتستان سے گزرتا ہے جو بھارت کا حصہ ہے۔ اس جزوی اعتراض کے سوا بھارت نے ون بیلٹ ون روڈ کی تمام بین البراعظمی راہداریوں کی حمایت کی۔ بھارت کی طرف سے سی پیک کو اس کی علاقائی سا لمیت کیخلاف قرار دیا گیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے بنیادی اصولوں میں یہ بات شامل ہے کہ رکن ملک اپنے باہمی اختلافات کے پروپیگنڈے کیلئے یہ پلیٹ فارم استعمال نہیں کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس میں اختلافی مسائل پر بات کرنے سے احتراض ہی کیا گیا۔ نریندر مودی نے گھما پھرا کر تان دہشتگردی کی اصطلاح پر ہی توڑی مگر وہ پاکستان کا نام نہ لے سکے اور ممنون حسین اس ریاستی دہشتگردی کا ذکر نہ کر سکے جس کا سامنا اس وقت کشمیری عوام بھارت کے ہاتھوں کر رہے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان اور بھارت تو شامل ہو چکے ہیں مگر ان کے اختلافات خطے کی ایک زمینی حقیقت ہے۔ اجلاس میں تجارت، انفراسٹرکچر، تعلیم وصحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے معاملات چھائے رہے مگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی گونج بھی مختلف انداز سے سنائی دیتی رہی۔ تنظیم کے دو اہم ارکان روس اور چین کی قیادتوں کی طرف سے جو اظہار خیال کیا گیا اس کے مطابق شنگھاتی تعاون تنظیم پاکستان اور بھارت کے درمیان ’’پیس پلیٹ فارم‘‘ بھی بن سکتی ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی تنازعات موجود ہیں مگر دونوں ملک کے شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ہونے کے بعد انہیں اپنے مسائل کے بہتر انداز سے حل کے مواقع میسر آئیں گے۔ دونوں ملک اس پلیٹ فارم سے امن کی طرف بڑھیں گے جس سے علاقائی امن اور استحکام کو تقویت ملے گی۔ روسی صدر ولادی میرپیوٹن نے پاکستان اور بھارت کو اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے اپنے اختلافات کو کثیرالجہتی انداز میں حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں مودی اور ممنون مصافحہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی منجمد برف کو کس حد تک پگھلاتا ہے؟ اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا مگر چین اور روس دونوں ملکوں کے تعلقات کو دوبارہ نارملائزیشن کی طرف لانے کیلئے پس پردہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ جی سیون ملکوں کی کانفرنس کے انجام کے برعکس شنگھائی تعاون کانفرنس امید کا ایک پیغام دے رہی تھی اور دونوں کا احوال بتا رہا تھا کہ دنیا میں ایک نئے نظام کے سورج کو طلوع ہونے سے روکنا کسی کے بس میں نہیں۔

متعلقہ خبریں