Daily Mashriq


تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم کا مسئلہ

تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم کا مسئلہ

اللہ ! کس قدر خوبصورت جملہ ہے ۔ انسان غلطی سے نہیں غلطی پر اصرار کرنے سے تباہ ہوتا ہے ۔ عمران خان اور حریف سیاستدانوں کے طرز عمل میں بنیادی فرق ہی یہ ہے ۔ عمران خان غلطی کی اصلاح کرتا ہے جبکہ اس کے حریف سیاستدان اپنی غلطی چھپانے کے لیے مزید حیلے کرتے ہیں ۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں جہاں عمران خان کو غلطی کا احساس ہوا اُس نے فوری طور پر اصلاح کی تدبیر کی ۔ وہ واحد سیاستدان اور پارٹی سربراہ ہے جس نے اپنا نمبر جاری کیا تاکہ کوئی بااثر شخص ٹکٹ کی خریدوفروخت میں ملوث ہو تو اُسے خبر دی جاسکے ۔ یہاں تو رسم تھی کہ پارٹی فنڈ کے نام پر کھلم کھلا امیدواروں سے رقمیں بٹوری جاتی رہیں ۔ پارٹی سربراہ سے قریب تر لوگ اس کاروبار میں ملوث ہوتے ہیں اور وہ بھی جنہیں جماعتوں کے اکابرین تصور کیا جاتا ہے ۔ کھلے عام یہ معاملات چلتے ہیں اور کوئی ایکشن نہیں لیتا ۔ 2013کے الیکشن کا شور تھا ، ایک بڑی جماعت کے سربراہ ہر ضلع کے امیدوار وں کے اجتماعی انٹرو یوز بنفس نفیس خود لے رہے تھے ۔ ضلع سیالکوٹ کے ایک صوبائی حلقے کا ایک امیدوار اُٹھا اور اس نے بھری محفل میں کہہ دیا کہ ہمیں افسوس ہے کہ جس قائد کے پیچھے ہم برسوں سے ماریں کھا رہے ہیں اُس کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ امیدواروں سے پیسے کھاتا ہے ۔ وہاں موجود ایک شخص جو اُس حلقے سے پارٹی ٹکٹ کا مضبوط امیدوار ہونے کا تاثر دے رہا تھا اب ’’قائد 

جماعت‘‘کے نشانے پر تھا اور وہ آئیں بائیں شائیں کی گردان کرتے ہوئے وضاحت دے رہا تھا کہ میں نے اوورسیز فنڈ کے حوالے سے بات کی تھی اور میرا قطعاً مطلب نہ تھا کہ میںنے ڈائریکٹ کوئی لین دین کیا ہے ۔ سیاسی جماعت کے سربراہ نے اُس کے نام پر ’’کاٹا‘‘ لگایا اور بقیہ امیدواروں کو تسلی دی کہ حتمی امیدوار کا فیصلہ انہی میں سے ہوگا جس کے لیے فلاں صاحب کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے ۔ اس ساری ایکسرسائز کے بعد جب پارٹی امیدواروں کی حتمی فہرست شائع ہوئی تو اُس میں وہ صاحب شامل تھے جن کے نام پرپارٹی سربراہ نے ’’کاٹا ‘‘ لگایاتھا ۔ یہ ہے وہ دھوکہ جو سیاسی جماعتوں کے اندر ہورہا ہے ۔ تمام عمل آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہوتا ہے اور کب سے یہ دھول ہماری آنکھوں میں جھونکی جارہی ہے ۔تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل میں عمران خان اس بار خبردار رہے چنانچہ جہاں سے معمولی شکایت بھی موصول ہوئی اُنہوں نے ایکشن لیا ۔ ضلع سرگودھا کی ایک مثال میرے سامنے ہے ، کسی دن تفصیل لکھ دوں گا ۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عمران خان نے ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل میں اس مرتبہ کوئی ہینکی پھینکی نہیں ہونے دی اور سارے عمل کی باریک بینی سے خود نگرانی کی ۔ مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ عمران خان نے تمام ٹکٹ نئے آنے والوں کو دے دیئے ۔ سوشل میڈیا میں ایک جملہ گرم ہے ۔

نچ نچ ساڈھے گوڈھے رہ گئے ٹکٹا ں ساری لوٹے لے گئے

ایسا نہیں ہے ، قطعاً بھی ایسا نہیں ہے ۔ اب تک قومی اسمبلی کے 178حلقوں کے ٹکٹوں کا اعلان ہوا ہے ۔ ان میں سے 104ٹکٹ ان امیدواروں کو ملے ہیں جو 2017ء سے قبل تحریک انصاف کا حصہ ہیں ۔ جو نئے لوگ تحریک انصاف میںشامل ہوئے ہیں ان میں 19پیپلزپارٹی ، 18مسلم لیگ (ق) ، 7مسلم لیگ (ن) اور 30آزاد حیثیت والے امیدوار وں کو تحریک انصاف کا ٹکٹ ملا ہے ۔ یوں ٹکٹ حاصل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد امیدواروں کی ہے جو پہلے سے تحریک انصاف میں شامل تھے لہٰذا انکے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ہو ا کا رُخ دیکھ کر یا بقول مخالفین کسی خفیہ ہاتھ کے اشارے پر تحریک انصاف میں آئے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ اس وقت ہوا تحریک انصاف کی ہے اور ہر کوئی اس کوشش میں لگا ہے کہ اُسے کسی طرح تحریک انصاف کا ٹکٹ مل جائے ۔ ٹکٹ کے لیے ساڑھے چار ہزار درخواستیں وصول کرنے والی تحریک انصاف کا اصل امتحان یہ تھا کہ اس کے قائدین موزوں امیدواروں کا چنائو کرتے ۔ باہمی مشاورت سے جیت کی صلاحیت رکھنے والے بہترین امیدواروں کا انتخاب ایک مشکل ٹاسک تھا لیکن عمران خان اور پارلیمانی بورڈ کے دیگر اراکین نے ہر درخواست کا میرٹ پر جائزہ لے کر درست فیصلے کئے ہیں جسکی تائید غیر جانبدار مبصرین اور تجزیہ نگار کرر ہے ہیں ۔ کچھ حلقوں میں ردعمل بھی ہے ۔ کارکنوں کی جائز شکایات کے ازالے کے لیے پارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ارشد داد کی سربراہی میں فورم قائم کردیا گیا ہے جس نے اپنا کام شروع کردیا ہے ۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ نظرثانی کے عمل میں عمران خان نہایت سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں