Daily Mashriq


ٹکٹو ں کی ریوڑیاں اور سیاسی جماعتیں

ٹکٹو ں کی ریوڑیاں اور سیاسی جماعتیں

اندھے ریوڑیاںبانٹ رہے رہیں ، نتیجہ ظاہر ہے ، ایسے میں سیاپا بریگیڈز کی فریاد یں کون سنتا ہے ، ابھی عام نشستوں کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا غصہ فرو ہو نے کے امکانات اگر معدوم نہیں ہورہے کہ ٹکٹ تقسیم کرنے والوں نے بھی ان شکایات پر کچھ زیادہ کان نہ دھرنے کی حکمت عملی اختیار کرلی ہے اور اگر کہیں زیادہ شور مچ ہی گیا تو شاید اکا دکا تبدیلی کا فیصلہ کر کے جان چھڑالی جائے گی ۔ کہ اب خواتین کی نشستوں پر نئے سوال اٹھ رہے ہیں ۔ اور وہ جو ہم ایسے قلم گھسیٹئے ہمیشہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ لگ بھگ ساری جماعتیں شہنشاہیت کے اندازمیں چلائی جارہی ہیں اور اصل وارثوں کے اشارہ ابرو پر ہی سارے معاملات طے ہوتے ہیں یعنی اردو محاورے کے مطابق جسے پیا چاہے وہی بنے دلہنیا ، مگر اب انتخابی سیاست کے حوالے سے معاملہ مزید تنگ دائرے میں سمٹتا دکھائی دے رہا ہے اور جماعتیں صرف خاندانی کمیٹیوں کی شکل اختیار کرتی جارہی ہیں ، ایسے میں اگر صورتحال پر یہ تبصرہ کر بھی لیا جائے تو کیا فائدہ کہ

کیا پوچھتے ہو حال مرے کاروبا کا

آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں

چونکہ اندھوں کے شہرمیں ریوڑیاں ہی بٹتں ہیں سو یہی کچھ تو ہورہا ہے ۔ معلوم نہیں یہ تگڑم بازی قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں نے کیوں نہیں سیکھی تھی ؟ حالانکہ وہ چاہتے تو اپنی زندگی ہی میں اپنی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو یا تو قانون ساز اسمبلی کی رکنیت دلوادیتے (انہیں کون روک سکتا تھا ) یا پھر کم از کم اپنے بعد اپنا جا نشین ہی مقرر فرما دیتے ، مگر انہوں نے جس طرح جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے کیلئے آزادی کی جنگ لڑنے کے بعد پاکستان کو جمہوریت کے فروغ کیلئے اقدام اٹھائے اس کے بعد تو ذرا تا ریخ پر نگاہ ڈالیں تو شرمندگی کا احساس دو چند ہوجاتا ہے کہ کس طرح بعض سیاسی جماعتوں پر موروثیت کو مسلط کر دیا گیا اور اس پر بھی ڈھٹائی اور بے شرمی سے فخر ہی کیا جارہا ہے ، مگر گزشتہ کچھ مدت سے تو ’’کچھ حیا، کچھ شرم ‘‘ کے صرف نعرے ہی لگائے جارہے ہیں اور وہ جو پہلے سیاس جماعتوں میں بے لوث کارکن خواتین کو مخصوص نشستوں پر منتخب کر وا کر آگے لانے کا سیاسی کلچر تھا اب وہ بھی ریوڑیوں کی تقسیم کی نذر ہو چکا ہے ، اس کی ابتداء کب ہوئی اس کیلئے زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے ۔ تاہم تھوڑا سا پیچھے جا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا م میںبھی مذہبی جماعتوں نے خصوصی کامیابی کے جھنڈے گاڑے جب مشرف کے دور میںایم ایم اے کے قائدین نے اکثر ٹکٹس اپنی بہو بیٹیوں اور قریبی رشتہ داروں میں بانٹیں ، اس کے بعد تو یہ معاملہ چل سوچل والا ہو گیا اور آنے والے مہ و سال میں یہ کلیہ لگ بھگ پوری سیاست پر منطبق ہوتا چلا گیا ، تاہم اب کی بار تو حد ہی ہوگئی جب ایک مولانا صاحب نے اطلاعات کے مطابق اپنی دو خواہران نسبتی کے ساتھ ساتھ اپنے دیگر رشتہ دار مردوں کو بھی ٹکٹ دلوانے کا ریکارڈ قائم کرلیا اور یوں اپنے ہی ’’گھر‘‘ میں سات ٹکٹ تقسیم فرمادیئے ، اسی طرح دیگر سیاسی قائدین بھی پیچھے ہرگز نہیں رہے ، ان میں بھی چار ٹکٹوں کی بندر بانٹ کی خبریں سامنے آچکی ہیں ، اس حوالے سے یہاں تفصیل دیکر ہم اپنے قارئین کرام کا وقت کیوں ضائع کریں کہ پوری تفصیل سے اخبارات کے کالم سیاہ ہورہے ہیں ، یہ تو صوبہ خیبرپختونخوا کا حال ہے اور ریوڑیوں کے اس کاروبار میں سابق وزرائے اعلیٰ ، سپیکر ، صوبائی وزراء اور دیگر جماعتوں کے سربراہ بھی پوری طرح ملوث ہیں جبکہ رخصت ہونے والی حکومتوں میں بلوچستان کے ایک اہم رہنماء پروہاں کی صوبائی حکومت میں گورنر سے لیکر دیگر اہم حکومتی عہدوں پر اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھر پور حصہ دلوانے کی اطلاعات بھی کسی ثبوت کی محتاج ہر گز نہیں ہیں ۔ یہی حال پنجاب میں بھی ہورہا ہے ،اور اب وہاں سابق حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والی ٹکٹوں سے محروم خواتین نے سیا پا ڈالا ہوا ہے کہ کئی برس سے پارٹی کیلئے خدمات انہوں نے انجام دیں ، جیلوں تک میں گئیں ، ماریں کھائیں ، اپنے بچوں کو نوکریاں تک نہیں دلواسکیں مگر اب خواتین کیلئے مختص نشستوں پر باہر سے درآمد شدہ امیدواروں کو ٹکٹ تھما دیئے گئے ، ادھر ایم ایم اے کے پہلے دور میں جب قاضی حسین احمد حیات تھے تو ان کے خاندان کی خواتین کو بھی اہمیت دی گئی تھی مگر اب کی بار ان کی صاحبزادی سمعیہ راحیل قاضی کو قومی اور صوبائی اسمبلی کیلئے فہرست میں انتہائی نچلے درجے پر رکھنے کی اطلاعات ہیں تاکہ وہ کسی بھی طور منتخب نہ ہو سکیں ، حالانکہ گزشتہ دور میں ان کی کارکردگی بہت اچھی تھی ، اسی طرح اے این پی کی بعض خواتین کے بارے میں بھی یہ اطلاعات ہیں کہ انہیں اب کی بار نظر انداز کر دیا گیا ہے ، حالانکہ یہاں یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ پارٹی نے اگر کسی اور خاتون کے آگے آنے کا موقع دیا ہے تو اس پر اصولی طور پر اعتراض نہیں کیا جانا چاہیئے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جن کو آگے لایا گیا ہے وہ پارٹی کی عام ورکر کے علاوہ کسی خاص خاندان سے تعلق تو نہیں رکھتیں ، تاہم اگر صرف قریبی عزیزوں کو نواز نے کیلئے سابقہ ممبران کو قربانی کی بھینٹ چڑھا یا گیا ہے تو پھر یہ اعتراض بے جا نہیں ہے ، اس لئے کہ ان مخصوص نشستوں پر صرف اپنے ہی خاندان یا برادری کی خواتین کی منتخب کروانے کی مختلف جماعتوں کی حکمت عملی ان جماعتوں پر جمہوریت کے منافی پالیسیاں اختیار کرنے کے الزامات کو تقویت دے رہے ہیں ، اس کے بعد ملک میں حقیقی جمہوریت کے دعوے کہاں تک درست قرار دیئے جا سکتے ہیں اس پر دوآرا نہیں ہو سکتیں ، ہم تو پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ یہ سیاسی جماعتیں نہیں ہیں بلکہ فین کلب ہیں ، جنہیں خاندانی آمریت کی بنیادپر چلا یا جارہا ہے ، اور ملک میں جمہوریت کے نام پر کاروبار ہورہا ہے جس میں لوٹوں کی بھر مار ہے ، جو ہرانتخابی معرکے سے پہلے ہواکارخ دیکھ کر لڑھکتے ہوئے ادھر ادھر آتے جاتے رہتے ہیں ، اور کروڑوں روپے خرچ کر کے بعد میں اربوں کھرے کرنے کارسک لیتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں