Daily Mashriq

اسلام آباد ہائی کورٹ، مشتاق سکھیرا کی برطرفی کا حکم نامہ معطل

اسلام آباد ہائی کورٹ، مشتاق سکھیرا کی برطرفی کا حکم نامہ معطل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مشتاق سکھیرا کی بطور وفاقی ٹیکس محتسب برطرفی کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے صدر مملکت، وزیر اعظم اور سیکریٹری قانون سے اس معاملے کی رپورٹ طللب کرلی۔

تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے مشتاق سکھیرا کو آئندہ سماعت تک اپنے عہدے پر کام کرنے سے روک دیا۔

وزارت قانون نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے مشتاق سکھیرا کی وفاقی ٹیکس محتسب کے عہدے پر تعیناتی ختم کردی تھی۔

جس پر انہوں نے اپنی وکیل زینب جنجوعہ کے ذریعے اس حکومتی اقدام کو عدالت میں چیلنج کردیا تھا جنہوں نے عدالت میں درخواست جمع کروائی کہ وفاقی ٹیکس محتسب کی تعیناتی اور برطرفی ایف ٹی او آرڈیننس 2000 اور وفاقی محتسب ادارہ اصلاحاتی قوانین 2013 کے تحت کی گئی۔

ایف ٹو او آرڈیننس 2000 کی دفعہ 5، 6(2) کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ایک مرتبہ جب وفاقی محتسب اپنے عہدے کا حلف اٹھالے تو اسے صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہی برطرف کیا جاسکتا ہے۔

تاہم وزارت قانون نے اس معاملے کو سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس نہیں بھجوایا اور ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ان کی تعیناتی کو غلط قرار دے دیا۔

جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے صدر، وزیراعظم اور سیکریٹری قانون سے 15 یوم میں جواب طلب کرلیا اس کے علاوہ اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی نوٹس بھیجتے ہوئے سماعت 24 جون تک ملتوی کردی۔

ان تمام معاملات پر گہری نظر رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ مشتاق سکھیرا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قریبی تصور کیے جاتے تھے جنہیں ماڈل ٹاؤن سانحے کے الزامات کا بھی سامنا ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر افسران کے ساتھ ان کے اختلافات بھی ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ 6 ایف بی آر افسران نے صدر مملکت عارف علوی کے سامنے وفاقی ٹیکس محتسب کے خلاف رپورٹ پیش کی تھی۔

قبل ازیں سیکریٹری ان لینڈ ریونیو نے وفاقی ٹیکس محتسب کو ایک خط ارسال کیا تھا جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ خط ان کے اختیارات سے تجاوز تھا۔

مذکورہ خط کی کاپی ڈان کو موصول ہوچکی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ’وفاقی ٹیکس محتسب کے پاس ایسے معاملات کی تحقیقات کرنے کا اختیار نہیں جس پر نظرِ ثانی ہوچکی ہو‘۔

متعلقہ خبریں