Daily Mashriq

پاک بھارت تعلقات کی سرد مہری میں کمی لانے کی ضرورت

پاک بھارت تعلقات کی سرد مہری میں کمی لانے کی ضرورت

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان انتظار کر سکتا ہے مذاکرات ہوں گے تو باوقار طریقے سے ہوں گے لیکن اگر بھارت نے مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کی تو ہم ان کا تعاقب نہیں کریں گے۔ اگر بھارت مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے تو پاکستان کو بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔کرغستان کے دارالحکومت بشکیک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہندوستان کی سرکار ابھی تک الیکشن موڈ سے باہر نہیں آئی کیونکہ انتہا پسندی اور ہندوتوا کی بنیاد پر انہوں نے الیکشن جیتا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے وقت مناسب نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی وزیراعظم کا پاکستان کی جانب سے اجازت ملنے کے باوجود فضائی راستہ استعمال نہ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ابھی بات چیت نہیں چاہتے۔خیال رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 19ویں اجلاس کے لیے وزیراعظم عمران خان پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے بشکیک میں موجود ہیں۔کرغستان کے صدر کی جانب سے صدارتی محل میں ہی عشائیہ کے موقع پر وزیراعظم عمران خان بھارتی ہم منصب کے علاوہ سب سے ملے۔ذرائع کے مطابق جب عشائیے کے لیے سربراہان ہال میں داخل ہوئے تو پاکستانی اور بھارتی وزرا اعظم نے ایک دوسرے کو نظر انداز کیا۔سفارتی ماہرین کے مطابق پہلے پاکستان کی جانب سے بار بار مذاکرات کی دعوت دینا، مبارکباد کے فون کرنا، خط لکھنا لیکن بھارت کے سرد رویے کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے بھی اپنا رویہ تبدیل کیا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کے حوالے سے پالیسی پر نظر ثانی کی ہے۔یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی اور خرابی ہی ہے جس کے باعث بالاکوٹ کا واقعہ رونما ہوا۔ پاک بھارت کشیدگی اور تعلقات میں اتار چڑھائو نئی بات نہیں البتہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے بھارت مسلسل پاکستان کو نظر انداز کرنے اور پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کو اہمیت دینے پر آمادہ نہیں اگرچہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اس ضمن میںذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ جو بھارتی وزیراعظم ایک وقت میں بغیر کسی دعوت اور پیشگی اطلاع کے پاکستان آمد سے ہچکچاتا نہیں تھا وہ آج ہمارے وزیراعظم کا فون سننے پر آمادہ نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں تبدیلی کے باعث دونوں ممالک اپنی فضائی حدود تک کو کمرشل پروازوں کیلئے بند کر کے خود اپنے اور دوسرے ممالک کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے کے باوجود بھارتی وزیراعظم کا فضائی روٹ تبدیل کرنے کو ترجیح دینا بھارت پاکستان سے تعلقات کو معمول پر لانے میں دلچسپی نہ رکھنے کا واضح اعلان ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ ایک وقت میں نریندرمودی پر انتخابی بخار میں مبتلا ہونے کے الزام کی گنجائش تھی لیکن اب نہ صرف وہ بخار اتر چکا ہے بلکہ وہ ایک مرتبہ پھر بھارت کی حکمران جماعت کے سربراہ ہیں ۔ ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی ضرور آتی ہے لیکن اس وقت اگرچہ پاک بھارت تعلقات میں اگر بہت زیادہ کشیدگی کے آثار تو نہیں لیکن بھارت پاکستانی قیادت کو وقعت نہ دینے اور موجودہ حکومت سے بات نہ کرنے کا واضح عندیہ دے رہا ہے جس کے جواب میںوزیراعظم پاکستان کامثبت رویہ ، بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار اور روس کی ثالثی کو قبول کرنے پر آمادگی مثبت اور سنجیدہ اقدامات ضرور ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت کا رویہ معاندانہ کیوں ہے اور اس کا پس منظر کیا ہے اس پر بھی غور کرنے اور ان غلطیوں کا تدارک کرنے کی بھی ضروت ہے۔پاک بھارت وزرائے اعظم کا ایک بین الاقوامی فورم میں ایک دوسرے کو خلاف آداب محفل میں نظر انداز کرنے کا رویہ خطے کیلئے نیک شگون نہیں اس موقع پر ضرورت صدر جنرل مشرف کے واچپائی کی نشست پر جا کر ان سے مصافحہ کرنے کی متقاضی تھی جس سے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ایک مثبت اقدام سمجھا جاتا۔وزیرخارجہ کا بھارت کے حوالے سے بیان صورتحال سے مایوسی کا اظہار ہے اس موقع پر اس بات پر ضرور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ بھارت کے رویے میں یکا یک تبدیلی کیوں آئی اور بالاکوٹ کا واقعہ کیسے رونما ہوا۔ اس واقعے کے بعد بھارت کی قیادت کیلئے جو مشکل صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ یہ کہ بھارتی حکومت اب اپنے عقابوں اور عوام کے دبائو میں پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی پوزیشن میں نہیں پاکستان کی قیادت ہی بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے فضا ہموار کر سکتی ہے جس کیلئے مساعی کی بجائے وزیرخارجہ کا انتظار اور جلدی نہ ہونے کا بیان بہتر سفارت کاری نہیں پاکستان اور بھارت دونوں کا مفاد بہتر تعلقات اورباہم روابط میں ہے اس مقصد کیلئے اولین قدم کے طور پر دونوں ممالک کو اپنی اپنی حدود دوسرے ملک سے آنے یا دوسرے ملک سے جانے والی کمرشل پروازوںکیلئے کھول دینے کی ضرورت ہے تاکہ صورتحال معمول پر آنا شروع ہو جائے۔

متعلقہ خبریں