Daily Mashriq

وزیراعلیٰ کی صوبے میں آئی ٹی کے شعبے میں گہری دلچسپی

وزیراعلیٰ کی صوبے میں آئی ٹی کے شعبے میں گہری دلچسپی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی صوبے کی ترقی اور اہم منصوبوں کی تکمیل پر توجہ کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ اداروں اور محکموں میں متعارف کرانے کے حوالے سے دلچسپی خاص طور پر توجہ کا حامل امر ہے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعلیٰ کو اس امر سے آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں ارلی ایج پروگرامنگ کے تحت صوبے کے 300 سرکاری سکولوں کے بچوں کو انوویشن، ٹیکنالوجی اینڈ آئیڈیاز کے حوالے سے ٹریننگ دی گئی جس کے نتیجے میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں منعقدہ مقابلے میںان بچوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ درشل پروگرام کے تحت صوبے میں سات درشل قائم کئے گئے ہیں، بھرتیوں کیلئے آن لائن اپلیکیشن اینڈ شارٹ لسٹنگ کا نظام آئی ٹی بورڈ میں فعال کیا جاچکا ہے جس کے تحت شارٹ لسٹنگ بھی سسٹم خود کریگا، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ شفافیت بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔ یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت دس ہزار آئی سی ٹی گریجویٹس تیار کئے گئے ہیں جن میں سے معقول تعداد مختلف کمپنیوں اداروں میں ملازمت حاصل کر چکی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نہ صرف سرکاری محکموں میں اجراء اور متعارف کرانا کافی نہیں بلکہ آئی ٹی بورڈ کو نوجوانوں کو اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ تربیت کی فراہمی پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ آن لائن جاب اور فری لانسگ کے فروغ اور اس شعبے میں نوجوانوں کو اس مہارت کے قابل بنانے کیلئے اقدامات یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ بین الاقوامی نیٹ ورک پر جاکر کام حاصل کر کے خود روز گار کے قابل ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کیلئے بھی قیمتی زرمبادلہ کماسکیں۔

جعلی انجن اور موبل آئل کا مکروہ دھندہ

ڈیرہ شہر و گردونواح میں جعلی موبل آئل و انجن آئل کی فروخت کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا، غیر معیاری استعمال شدہ اور ناقص انجن آئل کو معروف کمپنیوں کے ڈبوں میں بھر کر دوبارہ فروخت کیا جانے لگا ہے۔ گاڑی مالکان کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ انجن آئل کے باعث ان کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ناقص و غیر معیاری انجن آئل کے استعمال سے گاڑیاں آئے روز خراب ہور ہی ہیں جن کو ٹھیک کروانے پر ہزاروں، لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ گاڑی کی کارکردگی اور رفتار کا دارومدار انجن آئل پر ہوتا ہے لیکن اگر وہی غیر معیاری ہو تو گاڑی اپنی مدت سے پہلے ہی خراب ہو کر استعمال کے قابل نہیں رہتی جبکہ آٹو موبائل دکاندار استعمال شدہ آئل کے کارروبار کو محض افواہ قرار دیتے ہیں۔ ان کاموقف ہے کہ انجن آئل کی فروخت باقاعدہ نظام کے تحت ہوتی ہے اور زیادہ تر کمپنیاں سیل بند آئل کے ڈبے خود متعلقہ دکانوں تک پہنچاتی ہیں۔یہ صرف ڈیرہ شہر ہی کے شہریوں کا مسئلہ نہیں بلکہ صوبہ بھر میں یہ کاروبار منظم طریقے سے جاری ہے۔ پشاور میں شعبہ بازار کو اس کاروبار کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ انتظامیہ کو اس ساری صورتحال کا بخوبی علم ہے لیکن اس کے باوجود کبھی کبھار ہی دکھاوے کے لئے کاروائی ہوتی ہے۔ جعلی انجن اور موبل آئل کی فروخت کمپنیوں کے لئے بھی خسارے اور نقصان کا باعث ہے ۔ صارفین اصلی قیمت پر جعلی چیز حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ صورتحال کا تقاضا ہے کہ صوبہ بھر میں استعمال شدہ تیل صاف کرکے دوبارہ فروخت کرنے والوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائے اوران تمام دکانوں پر تالا لگا دیاجائے جہاں یہ کاروبار ہوتا ہے۔

قابل تقلیدمثال کی تقلید بھی ہونی چاہئے

ریسیکو 1122کے تیراک ظاہر شاہ نے اپنی بہن کے جنازے پر ڈوبنے والی بچیوں کی نعشوں کی تلاش کو مقدم رکھ کر جو مثال قائم کی ہے ان کا جذبہ قابل تحسین اور قابل تقلید ہے اس قسم کے جذبے ایثار اور قربانی کا مظاہرہ حصول رزق حلال کی روح ہے جس سے بد قسمتی سے احتراز کی کیفیت پوری طرح پائی جاتی ہے۔واقعی جو لوگ دوسروں کیلئے جیتے ہیں وہی اشرف کہلانے اور قدردانی کے حقدار ہیں۔ یہ ایک مثال جہاں ہمارے لئے سنہرا ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ بہت تاریک اور بھیانک ہے ہمارے سرکاری ادارے ہوں یا کارپوریشنز یہاں تک کہ نجی اداروں میں بھی لوگ ڈنگ ٹپائو ہی کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں کسی کو اپنے فرائض کی بہتر سے بہتر طریقے سے ادائیگی میں دلچسپی نہیں یہ رویہ اورانداز جہاں عوام کی شکایات میں اضافے کا باعث ہے وہاں یہ اداروں کیلئے تباہی کا باعث بھی بن رہا ہے ہم ایک سنہری مثال کو سراہتے ضرور ہیں لیکن کیا ہم اس سے سبق حاصل کر کے اپنی اصلاح پر بھی آمادہ ہیں شاید ایسا نہیںریسکیو کے محکمے کے اہلکاروں کی ذمہ داریاں خاص طور پر اس قسم کے کردار وعمل کی متقاضی ضرور ہیں لیکن ہم سب کے بھی فرائض منصبی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم حتی المقدوراپنے فرائض کی انجام دہی کو مقدم رکھیں اور اسی جذبے کا مظاہرہ کریں۔

متعلقہ خبریں