Daily Mashriq

’’رن مرید ہوٹل‘‘

’’رن مرید ہوٹل‘‘

گھر ایک ادارہ ہے اور بھرپور ادارہ ہے زندگی کا سفر اسی ادارے سے شروع ہوتا ہے ہم روتے ہوئے اس دنیا میں آتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلا سائبان ماں کی گود کی شکل میں میسر آتا ہے یہ ماں ہی ہوتی ہے جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر ہماری خبر گیری کرتی ہے اگر ہماری طبیعت خراب ہو تو اس کی جان پر بن جاتی ہے جن چہروں پر سب سے پہلے ہماری نظرپڑتی ہے وہ ماں باپ کے شفیق چہرے ہوتے ہیںماں کی مامتا اور با پ کی شفقت کے سائے تلے ہم پروان چڑھتے ہیںاگر ان دونوں میں سے کسی ایک میں بھی کسی بھی قسم کی کوئی کمی ہو تو ہماری شخصیت یقینا متاثر ہوتی ہے بلکہ ادھوری رہ جاتی ہے میاں بیوی کے رشتے کی اہمیت بہت زیادہ ہے یہ معاشرے کاوہ یونٹ ہے جس پر سارے معاشرے کی تعمیر ہوتی ہے ! یہ رشتہ جتنا خوبصورت ہے اتنا ہی نازک بھی ہے! دنیا کی بہت سی تہذیبوں میں میاں بیوی کے تعلقات اور ادب و احترام کے حوالے سے بڑا دلچسپ لٹریچر پڑھنے کو ملتا ہے سائنس کی بے تحاشہ ترقی نے اس دنیا کو چھوٹے سے گلوبل ویلج میں تبدیل تو کردیا ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی دنیا کے ہر خطے کے اپنے اپنے رسم و رواج ہیں اپنی اقدار ہیں اپنی تہذیب ہے اور اپنی تاریخ ہے اوران میں اتنی بوقلمونی ہے کہ حیرت ہوتی ہے !اس دلچسپ رشتے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جاچکا ہے میاں بیوی کو عام طور پر ایک ہی گاڑی کے دو پہیے بھی کہا جاتا ہے کہتے ہیں اگر ایک پہیہ پنکچر ہوجائے تو گاڑی کے لیے آگے کا سفر ناممکن ہو جاتا ہے : جب کوئی شوہر اپنی بیوی کا احترام کرتا ہے گھر کے کام کاج میں اس کے ساتھ تعاون کرتا ہے تو اس بیچارے کو زن مریدیا رن مرید کا خطاب مل جاتا ہے اس کا تمسخر اڑایا جاتا ہے اس پر پھبتیاں کسی جاتی ہیں طرح طرح کے لطیفے بنائے جاتے ہیں اس قسم کے سنگین مذاق سے عبرت حاصل کرتے ہوئے شوہرصاحبان شروع دن ہی سے اپنی بیوی کے سامنے تیوری چڑھائے رکھنے کی کوشش کرتے ہیںیہ اور بات کہ ہر بندے کا اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے فرمانبردار بے زبان بیوی اور میٹھا خربوزہ نصیب والوں کے مقدر میں ہوتے ہیں بیوی زبان دراز ہو یا دوسرے لفظوں میں وہ اپنے حقوق کے لیے لڑنا جانتی ہو تو چند دنوں میں ہی خاوند صاحب اپنی اوقات میں واپس آجاتے ہیں بصورت دیگر یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے اس مقدس رشتے کی بقا کے لیے بڑے حوصلے صبر و تحمل کی ضرورت ہوتی ہے! ایک بھتیجے نے اپنے پیارے چچا جان سے ان کی کامیاب ازدواجی زندگی کا راز پوچھا تو چچا جان کہنے لگے بیٹے ہم نے شادی کے شروع دنوں میں ہی آپس میں ایک معاہدہ کر لیا تھا کہ جب میرا موڈ خراب ہوگا تو آپ کی چچی باورچی خانے میں چلی جائے گی اور جب ان کا موڈ خراب ہوگا تو میں چھت پر چلا جایا کروں گا بیٹا اس سمجھوتے کے بعد ہماری ازدواجی زندگی بڑے شاندار انداز سے گزر رہی ہے میں پچھلے تیس سال سے چھت پر ہی ہوں !میاں بیوی کے نرم ونازک رشتے میں اس وقت دراڑ پڑ جاتی ہے جب باہر سے مداخلت کا عمل شروع ہوجاتا ہے:

تو آپ میں اور مجھ میں مت دے کسی کو دخل

ہوتے ہیں فتنہ ساز یہی درمیاں کے لوگ

اس حوالے سے ملتان کی ایک بہادر اور ذہین بیٹی نے روایت کو توڑتے ہوئے ایک خوبصورت قدم اٹھایا ہے اس کی یہ کاوش یقینا قابل تحسین ہے ۔ ملتان کی زرعی یونیورسٹی کے عقب میں واقع نسبتاًکم گنجان گلی میں ایک ہوٹل ملتان کی عروشیہ امتیاز کا ہے جس کا سائن بورڈ دیکھ کر لوگ زیرلب مسکرانے لگتے ہیںسائن بورڈ پر لکھا ہے’’ رن مرید ہوٹل‘‘ عروشیہ امتیاز کے ذہن میں یہ انوکھا نام کیسے آیا ؟ وہ کہتی ہیں کہ بابا کو ان کے بھائی رن مرید کہتے تھے کیونکہ وہ گھر کے کام کاج میں ماما کی مدد کرتے تھے مجھے یہ لفظ بڑا مزاحیہ لگا لیکن ماما نے بتایا کہ یہ ہنسنے کی بات نہیں ہے یہ ایک سنجیدہ بات ہے بس اسی وقت میں نے سوچ لیا تھا کہ بیوی کے مددگار شوہر ہونے پر مجھے فخر ہے اور ان کے اعزاز میںہوٹل کا یہی نام رکھا جائے گا والدین اور چند دوستوں نے اس کا ساتھ دیا جبکہ شروع میں اکثر لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا عروشیہ کے والد امتیاز الحسن کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اپنی بیویوں کے گھر کے کام کاج میں جو مرد تعاون کرتے ہوں یا کسی کے سامنے ان سے محبت کا اظہار کر بیٹھیں تو لوگ کہتے ہیں یہ رن مرید ہوگیا ہے اب تو میرے دوست بھی یہی کہتے ہیں کہ بیٹی نے تم پر رن مرید کا لیبل پکا کردیا ہے لیکن مجھے فرق نہیں پڑتا !رن مرید ہوٹل میں طلبہ کی ایک کثیر تعداد کھانا کھانے آتی ہے جب ان سے رن مرید نام پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو ان کا جواب بڑا خوبصورت تھا: اگر بیوی تمام دن شوہر کی خدمت کرے تو اسے کوئی شوہر مرید نہیں کہتا لیکن اگر مرد بیوی کے گھریلو کام کاج میں اس کا ہاتھ بٹائے تو اسے رن مرید کہہ کر شرمندہ کیا جاتا ہے! رن مرید نام کا ہوٹل کھولنا یقینا ایک بہت ہی جرات مندانہ قدم تھا جو ایک لڑکی نے اپنے باپ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اٹھایا وہ ایک غلط تاثر کو صحیح معنوں میں غلط ثابت کرنا چاہتی تھی جس میں وہ کامیاب رہی ہے اس نام کا کرشمہ دیکھئے کہ ایک طالب علم نے تو سینہ ٹھونک کر کہا کہ شادی کے بعد تو وہ ضرور رن مرید کہلوانا پسند کرے گا اس حوالے سے عروشیہ امتیاز کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ لوگ اس نام کے ساتھ جڑے شرمندگی کے احساس پر قابو پا رہے ہیںہوٹل کھولنے کے بعد سے مذاق میں ، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں