Daily Mashriq

اصل مسئلہ بجٹ نہیں

اصل مسئلہ بجٹ نہیں

بجٹ تقریر کے بعد ہر شخص گہری سوچ میںڈوبا ہوا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اس حکومت کو ووٹ دیا ہے وہ سوچ رہے ہیں کہ انہیں کیا سوچنا چاہیئے کیا کہنا چاہیئے ۔ حکومت میں آنے سے پہلے پی ٹی آئی نے لوگوں کو مستقبل کی ساری سنہری امیدوں کی ہر ایک تفصیل سے آگاہ کیا۔ لیکن ان سنہرے خوابوں تک پہنچنے کے راستے کس قدر کٹھن ہونگے، یہ کسی نے نہ بتایا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ انہیں خود بھی ان کھٹنائیوں کا اندازہ نہ تھا۔ اگر اندازہ تھا تو مکمل نہ تھا۔ یہ راستے کتنے دشوار گزار ہونگے اور اس میں کیسی کیسی کھائیاں اور گڑھے ہونگے، انکے حوالے سے تو انہیں کسی نے بھی آ گاہ نہ کیا تھا۔ اس بجٹ میں وہ ساری پریشانیاں ،ساری اداسیاں اور دشوار گزار راستے منہ کھولے،دانت نکو سے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ جو انکے مخالف ہیں وہ ان پر مسلسل طنز کررہے ہیں۔بھپتیاںکس رہے ہیں، پریشان حال لوگوں کے چہرے انہیں دکھا کر، انہیں ہی قصور وار ثابت کر رہے ہیں۔اور یہ مسلسل اپنے دفاع کے دلائل تیار کرتے رہتے ہیں۔ کبھی غصہ دکھاتے ہیں کبھی کسی دلیل کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں گزشتہ حکومتوں نے ملک کو لوٹ لیا۔ لیکن ان کی سب باتوں میں ایک نو آموز کی گھبراہٹ ہے جو انکی سچی بات کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ نوآموز کو سیاست کے دائو پیچ بھی معلوم نہیں ہوتے سواسے نہ میڈیا سنبھالنا آتا ہے اور نہ ہی اپوزیشن۔ طبیعت کی گھبراہٹ اکثر ہی غصے میں بدلتی ہے جو حالات کو اور بھی بگاڑ دیتی ہے۔بجٹ کے بعد اس حکومت کی مشکلات میں کوئی خاص اضافہ ہونے والا نہیں۔ویسے ہی حالات رہیں گے جیسے پہلے ہیں ۔اس ملک کے عوام نہ پہلے کبھی مہنگائی سے گھبرائے ہیں نہ اب اس بات کا کوئی امکان ہے ۔ یہ نہ پہلے کبھی چیزوں کی قیمتیں بڑھنے سے سڑکوں پر آئے ہیں نہ آج آئینگے اگر ایسا ہوتا تو90کی دہائی میں دو دو بار پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی حکومتیں بد عنوانی کے الزامات پر صدر پاکستان کے حکم پر نہ گرائی جاتیں، انکے لیے عوام احتجاج کرتے ۔آئی جے آئی کا دھرنا بھی صرف معاملات کو مہمیز ہی کرسکا تھا۔ اب بھی مہنگائی ،حکومت کو کمزور کرنے میں خاطر خواہ کردار ادا کرنے سے قاصر رہے گی ۔بجٹ پر اعتراضات تو بہت کیے جارہے ہیں لیکن اس حکومت کو منتخب کرنے والے ، ابھی اس حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں ۔ وہ واقعی اس وقت جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہیں اورکہتے ہیں کہ ٹیکسوں کا پیسہ کم از کم ملک کی جیب میں ہی جائے گا، انہیں اس بات کا یقین ہے اور یہ یقین انکے لئے معاملات کی کڑوی گولی نگلنے میں ممدومعاون ہے۔ اس یقین میں شاید اکثریت کو کوئی شک نہ ہو گزشتہ حکومتوں پر غصہ بھی ہو لیکن سیاسی حکومتوں کی دلپزیری کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ ان پہلوئوں میں کئی بار اصل وجوہات پر توجہ کم مرکوز رہتی ہے جبکہ ان وجوہات کا وزن بڑھتا چلا جاتا ہے جن کی حیثیت سطحی اور فروعی ہی ہوا کرتی ہے۔ گزشتہ حکومتوں کے داعی بھی اسی کیفیت کا شکار ہیں۔ ہر پڑھا لکھا شخص یہ جانتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کیفیت کچھ ایسی تھی کہ

قرض کے پیتے تھے مئے اور سمجھتے تھے

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

اور فاقہ مستی جو رنگ لائی وہ اب سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ اس حکومت نے قرض کی مے کو مجبوری میں منہ تو لگایا ہے لیکن ان کا سیاسی بچپنا اور اپوزیشن میں رہنے کی طویل العمری دونوں ہی انہیں کسی کادوست نہیں بننے دیتیں۔ بیورو کریسی میں لوگوں کو اعتماد میں لینا ہی پڑتا ہے ورنہ حکومتیں نہیں چلا کرتیں۔ ابھی تک یہ حکومت بیورو کریسی میں اپنی ٹیم بنانے میں ناکام ہے اور یہ جسے ٹیم سمجھتے ہیں انہیں بیورو کریسی کا الف بے تک معلوم نہیں۔ پھر ایک عرصہ اپوزیشن میں رہنے کے باعث انہیں اپنے دشمن بہت زیادہ دکھائی دیتے ہیں حالانکہ بات ایسی بھی نہیں۔ معاملات ابھی تک سلجھ نہیں سکے۔ یہ تبھی بہتری اختیار کرنا شروع کرینگے جب حکومت وقت یہ بات سمجھ لے گی کہ انہیں بیورو کریسی میں ایک ٹیم بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر ایف بی آر میں افسروں کو یہ کہا جائے گا کہ یہ شکل ہی سے بدعنوان اور منحوس لگتے ہیں تو وہ حکومت کی ٹیم نہ بن سکیں گے اور وہ کسی طور بھی حکومت کی مدد نہ کریں گے۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اگر پی ٹی آئی کی حکومت یہ سمجھ نہیں سکی تو یہ بات انتہائی افسوسناک ہے اور خاصی حد تک پریشان کن بھی۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ابھی تک اتنی سادی سی بات بھی انہیں کیوں سمجھ میں نہیں آرہی۔ بجٹ کا سخت یا قابل برداشت ہونا اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ اس حکومت کے رویے ہیں۔ ان کے رویوں میں ایک عجب خود سری بھی شامل ہے جو پاکستان کے لئے معاملات کو بگاڑ رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے لوگوں کی محبت میں اتنی شدت نہیں جتنی ان کے رویوں کے باعث ان سے لوگ متنفر ہو رہے ہیں۔ اور اگر یہ اب بھی نہ سنبھلے تو بگاڑ کی رفتار روکنا نا ممکن ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں