Daily Mashriq

اپوزیشن رہنماؤںکی گرفتاریاں

اپوزیشن رہنماؤںکی گرفتاریاں

اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ان کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا الزام حکومت پر عائد کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے چونکہ بجٹ پیش کرنا تھا اوراپوزیشن کی طرف سے شدید احتجاج سے بچنے کیلئے اپوزشن رہنماؤں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی،حکومت کا مؤقف مگر یہ ہے کہ جن اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری پر حکومت کو موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے ان پر عائد کیسز سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ پیپلزپارٹی قیادت کے خلاف کیسز تو نواز حکومت میں قائم کئے گئے،اسی طرح مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف بھی کیسز کا تعلق موجودہ حکومت سے جوڑنا قرین انصاف نہیں ہے۔ایک لمحے کیلئے اگر حکومت کے اس دعویٰ کو درست مان بھی لیا جائے تو اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری بجٹ سے چند لمحات پہلے عمل میں لانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ عدالت عالیہ اسلام آباد نے پیر 10 جون کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت میں توسیع کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے نیب کو دونوں رہنمائوں کی گرفتاری کی اجازت دے دی۔ عدالت عالیہ نے یہ فیصلہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے ان رہنمائوں کے خلاف بنائے گئے جعلی اکائونٹس کیس میں سنایا۔ آصف علی زرداری چونکہ اس وقت بھی رکن قومی اسمبلی ہیں، اس لیے نیب حکام نے عدالت عالیہ سے گرفتاری کی اجازت ملنے کے باوجود پہلے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اس معاملے سے متعلق صورتحال سے آگاہ کیا، اور پھر اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر میں واقع زرداری ہائوس پہنچ کر آصف علی زرداری کو گرفتار کیا، اور راولپنڈی میں میلوڈی میں قائم اپنے دفتر منتقل کردیا۔ اس دفتر میں آصف زرداری کو زیر حراست رکھنے کے لیے ایک خصوصی کمرہ تیار کیا گیا ہے جس میں ایئرکنڈیشنر، ڈبل بیڈ اور ایک صوفہ لگایا گیا ہے۔ کمرے کے باہر بائیو میٹرک سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے۔ زیر حراست آصف علی زرداری کا ایک دن میں دوبار تفصیلی طبی معائنہ بھی کرایا گیا جس میں وہ مکمل طور پر صحت مند پائے گئے۔ اس کے باوجود نیب حکام نے ان کے زیرِ حراست رہنے کے عرصے کے لیے ایک ایمبولینس فراہم کرنے کی درخواست حکومت سے کی ہے۔ دوسری جانب آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ عدالت سے ضمانت منسوخ ہونے کے باوجود انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا بلکہ نیب کی خواتین افسران پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی جو سابق صدر کی ہمشیرہ کے گھر جاکر ان سے تفتیش کرے گی۔ادھر منگل 11 جون کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب، موجودہ قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی میاں شہبازشریف کے فرزندِ حمزہ شہبازشریف، جو خود بھی پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ہیں، مبینہ منی لانڈرنگ اور رمضان شوگر ملز کے کیس میں عدالت عالیہ لاہور کے دو رکنی بینچ کے روبرو پیش ہوئے اور اپنی ضمانت میں توسیع کی درخواست کی، جو عدالت نے منظور نہیں کی، جس کے بعد نیب حکام نے انہیں کمرہ عدالت ہی سے گرفتار کرلیا۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ان رہنمائوں کی گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب کہ حکومت نے ایک سخت اور عوام کے لیے مشکل سے ہضم ہونے والا بجٹ پیش کیا ہے اور خدشہ ہے کہ حزبِ اختلاف اس بجٹ کو بنیاد بناکر ملک میں احتجاجی تحریک منظم کرسکتی ہے، بلکہ حزبِ اختلاف کی قیادت رمضان المبارک میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی افطار پارٹی میں یہ عندیہ دے بھی چکی ہے کہ عید کے بعد مولانا فضل الرحمن کل جماعتی کانفرنس بلائیں گے جس میں حکومت کے خلاف تحریک کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ حزب اختلاف کے اہم رہنمائوں کی ایسے وقت میں گرفتاریوں کا ایک مقصد یقیناً یہ ہوسکتا ہے کہ ایسی کسی حکومت مخالف تحریک کو روکا جا سکے۔ تاہم اس امر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ خود یہ گرفتاریاں بھی حزبِ اختلاف کو مشتعل اور احتجاجی تحریک منظم کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ حکومت کا مؤقف اس ضمن میں البتہ یہ ہے کہ اس کا ان گرفتاریوں سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے۔ عدالت نے ان کی ضمانتیں منسوخ کی ہیں اور نیب کے آزاد و خودمختار ادارے نے انہیں گرفتار کیا ہے، اس لیے حکومت کو ان گرفتاریوں کا الزام دینا درست نہیں۔ اصولی اور قانونی طور پر حکومت کا یہ مؤقف درست ہے، مگر کاش عوام کو ملک میں اصول اور آئین و قانون کی حکمرانی کا یقین دلایا جا سکے۔ حکومت کے اس مؤقف کو درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر ان دونوں رہنمائوں کی گرفتاریوں کے بعد ان کے پارٹی کارکنوںکی جانب سے کیے جانے والے ہلکے پھلکے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا بھی یقیناً کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ احتجاج کے ضمن میں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف منگل گیارہ جون کو سندھ میں ’’یوم سیاہ‘‘ منایا، اس احتجاج کو اپنے زیر اقتدار ایک صوبے تک محدود کرکے گویا پیپلز پارٹی نے خود یہ تسلیم کرلیا ہے کہ وہ اب پورے پاکستان نہیں، صرف ایک صوبے کی جماعت بن چکی ہے۔سابق صدرآصف علی زرداری کی گرفتاری کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں صرف پیپلز پارٹی اور اس کے ہم نوا ہی شامل نہیں تھے بلکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور خصوصاً صدر اور قومی اسمبلی ، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں