Daily Mashriq


ترقیاتی فنڈکے سیاسی استعمال کا معاملہ

ترقیاتی فنڈکے سیاسی استعمال کا معاملہ

انتخابات سے قبل قومی اسمبلی‘ سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز دینے کے عمل کیخلاف ازخود نوٹس کیس کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے جو ریمارکس دئیے ہیں وہ نہ صرف صورتحال کی حقیقت پسندانہ عکاسی ہے بلکہ ان معاملات پر کنٹرول نہ صرف بہت بڑے مسئلے کا حل ہے بلکہ اس سے ترقیاتی کاموں کو سیاست زدہ کرنے کی لعنت کا بھی خاتمہ ہوگا۔ چیف جسٹس کے یہ ریمارکس کہ عام انتخابات سے قبل قومی اسمبلی‘ سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کی بندربانٹ کس قانون کے تحت کی جاتی ہے اس کا جواب اٹارنی جنرل ہی دے سکتے ہیں۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ یہ انتخابات سے قبل دھاندلی نہیں عدالت اس بارے کیا فیصلہ کرتی ہے وہ اپنی جگہ، ہمارے تئیں تو یہ دھاندلی اور ترقیاتی فنڈز کو بطور سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کا کوئی منشور ودستور نہیں۔ کاغذوں میں ان کا جو دستور چھپا ہوتا ہے وہ کاغذوں کی حد تک ہی ہے یا پھر الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کی حد تک ہی دکھائی دیتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت آخری بجٹ ہی انتخابی بجٹ بناتی ہے۔ جس ملک میں عوامی خزانے کی رقم برائے فلاح وبہبود عوام نہ ہو اور برائے سیاست وگروہ ہو اور جس ملک میں عوام کے مسائل پر توجہ کا پیمانہ سیاسی مفادات ہوں اس ملک میں عام آدمی کی حالت میں تبدیلی کیسے ممکن ہے۔ یہاں ہم معزز عدالت کی توجہ اس امر کی جانب بھی مبذول کرانا چاہیں گے کہ وطن عزیز میں آنیوالی تقریباً ہر حکومت میں سرکاری‘ خودمختار ونیم خودمختار اداروں میں سرکاری ملازمتوں کی بندربانٹ بھی سیاسی بنیادوں پرکی جاتی ہے جس سے وطن عزیز میں اہل دیانتدار اور محنتی افراد ہمارے نظام کا حصہ نہیں بن رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اعلیٰ ملازمتوں میں بااثر افر اد کے بچوں کو انٹرویو میں زیادہ سے زیادہ نمبر دیکر تحریری امتحان میں اپنے سے کہیں زیادہ نمبر لینے والے اُمیدواروں سے بہتر گروپ میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ صوبائی سطح کے پبلک سروس کمشنز‘ این ٹی ایس اور ایٹا کے حوالے سے ناانصافی کی شکایات کسی سے بھی پوشیدہ امر نہیں۔ ہمیں سرکاری ملازمتوں کیلئے این ٹی ایس اور ایٹا کے نظام کے شفافیت کے اہم ہونے سے انکار نہیں لیکن اس میںشامل اُمیدواروں کا احتجاج اور نتیجے میں ٹیسٹ کی منسوخی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ خیبر پختونخوا میں محکمہ بلدیات کی آسامیوں کیلئے امتحان میں پرچہ فیس بک پر آنا کوئی کہانی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ترقیاتی فنڈز کے سیاسی استعمال کیساتھ ساتھ چاروں صوبوں میں جتنے بھی محکموں میں بھرتیاں ہوئی ہیں یا مختلف محکمے جو بھرتیاں کرتے ہیں عدالت عظمیٰ اس سلسلے میں بھی مناسب اقدام کرکے لاکھوں نوجوانوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور ملکی نظام میں اہل اور استعداد کے حامل افراد کو آگے آنے کا موقع دلوائے۔ جہاں تک ترقیاتی فنڈز کے سیاسی استعمال کا تعلق ہے اس ضمن میں بالعموم جو ہوتا ہے وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں لیکن جن جن حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوتے ہیں ان حلقوں میں اچانک سے ترقیاتی کام شروع ہوتے ہیں، سوئی گیس کی لائنیں اور بجلی کے پول لگنے لگتے ہیں۔ سڑکوں‘ نالیوں کی پختگی اور گلیوں کی فرش بندی دکھائی دیتی ہے۔ جیسے ہی انتخابات کاانعقاد ہوتا ہے سارا سامان اُٹھا لیا جاتا ہے، کام نامکمل چھوڑے جانے کی درجنوں نہیں سینکڑوں مثالیں موجود ہوں گی۔ اس ضمن میں عدالت اگر مناسب سمجھے تو ضمنی انتخابات کے دوران ہونیوالے ترقیاتی کاموں اور فنڈز کا ریکارڈ ملاحظہ فرمائے تاکہ حقیقت حال سامنے آئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب اس امر کا عملی تعین ہو جانا چاہئے کہ ترقیاتی فنڈز کا درست استعمال ہو اور ارکان اسمبلی کو قانون سازی کے فریضے تک قانونی اور عملی طور پر محدود کر دیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کے ادوار میں جس طرح بلدیاتی نمائندوں اور نظام کو عضو معطل بنا دیا جاتا ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ سرکاری خزانے کی رقم عوام کی امانت ہے اس کا تحفظ لازمی ہونا چاہئے۔ جہاں تک سیاسی معاملات میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کردار اور تعلق ہے اگر الیکشن کمیشن اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہوتا اور انتخابات کے دنوں میں سرکاری فنڈز کی اس بندربانٹ کا موثر نوٹس لیکر کارروائی کے حامل ہوتا تو محولہ صورتحال کی نوبت تک نہ آتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک الیکشن کمیشن اپنے معاملات میں سنجیدگی اختیار کرنے پر نہیں آتا اس وقت تک سیاستدانوں کی طرف سے ایسے معاملات میں ملوث ہونے کی راہ پر قدغن کی کوئی صورت نظر نہیں آئے گی جو ان کیلئے سدراہ بنے۔ حال ہی میں ہونیوالے سینیٹ کے انتخابات میں ایک ایسے شخص کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی جو پاکستان میں موجود ہی نہ تھا۔ ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے اس کے باوجود وہ سینیٹ الیکشن لڑنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر حلف اٹھانے بھی نہ آسکے یا نہ آئے۔ یہ ساری صورتحال ملک وقوم کیلئے لمحہ فکریہ اور یکبارگی طے کرکے اس پر سختی کیساتھ کھڑا ہونیوالے معاملات ہیں جس میں عدلیہ اور مقننہ دونوں کا کردار اہم ہے۔

متعلقہ خبریں