Daily Mashriq


سیاسی زعماء کارکنوں کو سنجیدگی سے روکیں

سیاسی زعماء کارکنوں کو سنجیدگی سے روکیں

سیاسی رہنمائوں پر جوتا پھینکنے کی جو روایت بدچلی ہے سیاستدانوں کی جانب سے اس کی لفظی طور پر مذمت ضرور کی جا رہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ کافی نہیں۔ علاوہ ازیں اس فعل بد کی سوشلستان میں دفاع کرنے والوں کی بھی تعداد کم نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو شعلے برسانے والے جملہ سیاسی زعماء جن الفاظ اور جس لہجے میں اس طرح کے واقعات کی مذمت کر رہے ہیں وہ کافی نہیں دلوں کا حال تو ایک ہی ذات ذی وقار کو معلوم ہے لیکن سیاستدانوں کی باڈی لینگویج اور لب و لہجہ کسی طور یہ یقین دلانے کو کافی نظر نہیں آتا کہ وہ دل سے اس فعل بد کی مذمت کریں اور اپنے اپنے سیاسی کارکنوں کو اس طرح کی کسی بھی حرکت میں ملوث ہونے سے سختی سے روکیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ(ن)کے رہنمائوں پر جوتا پھینکنے پر پی ٹی آئی اور جوابی وار پر مسلم لیگ(ن) کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ سیاست میں بد تہذیبی اور نا شائستگی کا رویہ صرف جوتا اچھالنا ہی نہیں سوشلستان میں اکثر اور جلسوں و بیانات میں بھی کبھی کبھار اس طرح کا اظہار خیال کیا جاتا ہے اور ایسے اشاروں کنایوں کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی سیاست میں گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ چور و ڈاکو اور نجانے کیا کیا الفاظ سیاستدانوں کا ورد بن جائیں تواس کی کارکنوں اور معاشرے میں سرایت فطری امر ہوگا۔ ماضی میں سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو نظم و ضبط آداب و شائستگی اور معاملہ فہمی عوام سے روابط مضبوط بنانے کا درس دیاکرتی تھیں اور ان کی تربیت اس نہج پر ہوتی تھی مگر بد قسمتی سے اب جو سیاسی کلچر مروج ہوتا دکھائی دے رہا ہے اگر اس کا راستہ نہ روکا گیا تو آئندہ عام انتخابات میں کوئی بھی سیاسی رہنما کسی جلسے سے خطاب نہیں کرسکے گا۔ بہتر ہوگا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت اس طرز عمل کی نہ صرف عملی طور پر شدید مذمت کریں بلکہ اپنے کارکنوں پر پہلے سے ہی یہ بات واضح کریں کہ ان کی اس طرح کی کسی حرکت پر پارٹی سے خارج کیا جائے گا اور کسی قسم کی ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ سیاسی قیادت کی طرف سے کارکنوں کو سخت اور سنجیدہ اور انتہائی پیغام دے کر اس طرح کی صورتحال کو آئندہ روکنا ممکن ہوگا۔ میڈیا بھی اگر اس طرح کے کسی واقعے کی ضرورت سے زائد کوریج نہ کرنے کا فیصلہ کرے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

ٹریفک پولیس کے تشدد کی تحقیقات کی ضرورت

خیبر پختونخوا کے حوالے سے اجتماعی طور پر یہ تاثر ضرور ہے کہ کے پی پولیس مہذب اور شائستہ رویہ رکھتی ہے لیکن کبھی کبھار اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں جس سے اس تاثر کی نفی ہونے لگتی ہے۔ پشاور صدر میں سگنل توڑنے پر شہری کا چالان اور جرمانہ قانون کی عین پاسداری ہوتی اگر شہری پر تشدد نہ کیا جاتا۔ عموماً ٹریفک وارڈن نہ صرف سلام کے بعد کلام کے عادی دیکھے گئے ہیں لیکن بعض بپھرے قسم کے اہلکار نجانے کیوں اس مجموعی تاثر کو بوٹوں تلے روندنے پر تل گئے ہیں۔ فی الوقت یہ امر واضح نہیں کہ معاملہ کیا ہوا تھا کیا شہری کی جانب سے کوئی توہین آمیز زبان کا استعمال کیا گیا تھا یا پھر کوئی اور وجہ ہوئی جس کے باعث ٹریفک پولیس اہلکاروں نے حدود سے تجاوز کیا۔ بہر حال یہ ایک افسوسناک واقعہ تھا جس کی تحقیقات اور محکمانہ کارروائی ہونی چاہئے اور اگر ٹریفک پولیس کے اہلکار قصور وار پائے جائیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے اور اگر ایسا نہیں تو میڈیا پر اس کی وضاحت اور اصل صورتحال سے آگاہی دی جائے تاکہ منفی تاثر کا ازالہ ہو۔

مضر صحت اشیاء کے خلاف مہم تیز کی جائے

مضر صحت مصالحے بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف اور صفائی کی ناقص صورتحال پر ضلعی انتظامیہ کا حرکت میں آجانا خوش آئند امر ضرور ہے لیکن ضلعی انتظامیہ کے کبھی کبھار کی اس طرح کے تکلف پر مبنی کارروائیوں سے اس امر کا یقین نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی کارروائیوں کے نتیجے میں عوام کو حفظان صحت کے اصولوں اور خلاف ماحول میں تیار کردہ مصنوعات سے نجات ملے گی۔ ہمارے تئیں صوبے میں جس بڑے پیمانے پر مضر صحت اشیاء تیار ہو کر مارکیٹ میں کھلے عام بک رہی ہیں حاص طور پر بچوں کے لئے تیار ہونے والی اشیاء کی جو صورتحال ہے وہ نہایت تشویشناک اور توجہ طلب ہے۔ جس بیمار بچے کو بھی ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے ڈاکٹر کی سب سے پہلی بات ان مضر صحت اشیاء سے بچوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دینا ہوتا ہے۔ ان اشیاء کے استعمال سے بچوں میں طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں مگر اس کے باوجود مارکیٹ میں ان اشیاء کی فروخت کا نوٹس نہیں لیا جاتا۔ خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کا قیام ہوا ہے گو کہ ادارہ عملہ کی تقرری کے مراحل میں ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان سے پر زور گزارش ہے کہ وہ سب سے پہلے اس امر پر توجہ دے تاکہ سب سے پہلے معصوم بچوں کو ایسی اشیاء کے استعمال سے ہر ممکن طور پر بچایا جاسکے جو مضر صحت ہوں۔

متعلقہ خبریں