Daily Mashriq

سینیٹ انتخابات اور ن لیگ

سینیٹ انتخابات اور ن لیگ

سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں سبھی پارٹیوں نے حصہ لیا۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب ہو گئے۔ ماضی کی طرح ا س انتخاب میں بھی ہارس ٹریڈنگ کاشور ہوا۔ اوردونوں عہدیدار ماضی کی طرح ہی سمجھوتے کی بنا پر منتخب ہوئے لیکن اس بار ہارس ٹریڈنگ کا شور زیادہ ہے۔ حکمران مسلم لیگ کے اتحادی سینیٹر حاصل بزنجو اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچک زئی اس میںنہ صرف پیش پیش نظر آئے بلکہ انہوں نے ایسی باتیں کیں جن میں پاکستان کی جمہوریت اور ایوان بالا کی توہین کا عنصر غالب نظر آیا۔اگلے روز حکمران مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے بھی اس انتخابی عمل پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ایک دوسرے کے مخالف زرداری اور عمران خان ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہو گئے ۔ ایک ہی جگہ سے ان کی مراد کیا ہے۔ آج ان کے عمومی بیانیہ کے باعث سب کی سمجھ میں آتا ہے۔ ان کے ایک اور اتحادی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک زرداری سب پر بھاری کی بجائے جو زرداری پر بھاری ہے وہ سب پر بھاری ہے۔ اس سے ان کی کیا مراد ہے ، یہ سب کو معلوم ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ نواز شریف پر لاہور میں ایک مذہبی نقطۂ نظر کی حامل تنظیم کے ارکان کی طرف سے جوتا پھینکنے کے واقعہ کے بعد(جس کی عمران خان سمیت سب نے مذمت کی ہے) ان کے سیاسی حریف عمران خان پر جوتا پھینکنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔حالانکہ نواز شریف پر جوتا تحریک انصاف کے کسی کارکن نے نہیں پھینکا تھا اور جس نے جوتا پھینکا تھا اس نے اپنی شناخت چھپانے کی بجائے کھڑے ہو کر نعرہ لگایا تھا۔جب کہ عمران خان پر جوتا پھینکنے والے کے بارے میں مسلم لیگ کے رانا ثناء اللہ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ان کی پارٹی کاکارکن ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلم لیگ کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ کسی آئینی ادارے کے فرد پر بھی جوتا پھینکا جا سکتا ہے ، ا س سے خطرناک رجحان کی بو آ رہی ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر ضروری ہے کہ سینیٹ کے انتخابات پر ایک بار پھر نظر ڈالی جائے اور دیکھا جائے کہ جس انتخابی عمل کو حکمران لیگ اور اس کے حامی جمہوریت کا قتل کہہ رہے ہیں وہ جمہوری طریق کار کے مطابق ہوا تھا یا نہیں۔

چیئرمین صادق سنجرانی نے انتخاب کے بعد اپنے مخالف امیدوار راجہ ظفر الحق کو تقریر کی دعوت دی۔ راجہ صاحب نے نہایت مختصر تقریر میں تین باتیں کیں۔ (۱)۔ نئے چیئرمین کو مبارک باد دی۔ (۲)۔ انتخاب کے بارے میں کہا کہ یہ جمہوری طریقہ سے ہوا۔ (۳)۔ اور نئے چیئرمین کے بارے میں اس امید کا اظہار کیا کہ وہ ایوان کو اعلیٰ روایات کے مطابق چلائیں گے۔ راجہ ظفر الحق حکمران مسلم لیگ کے امیدوار تھے۔ کیا راجہ صاحب کا بیانیہ حکمران مسلم لیگ کا بیانیہ ہے؟ یہ اہم سوال ہے۔ لیکن اس کا جواب نفی میں ہے۔ کیوں؟ اس پر غور کرنے سے بہت سی باتیں سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ حکمران مسلم لیگ اپنے اور اپنے سکہ بند اتحادیوں کے 46ووٹوں کے بل پر سینیٹ کا انتخاب جیتنے کی پوزیشن میں تھی۔ اس کے بعد انہیں فاٹا اور بلوچستان کے 16آزاد ووٹوں اور ایک ایک دو دو ووٹ والی پارٹیوں میں سے مطلوبہ چھ یا سات ووٹ حاصل کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے تھا جب کہ میاں نواز شریف مفاہمت کی سیاست کی خاطر حمایت حاصل کرنے کے لیے سیاسی اور انفرادی وسائل کا فراخدلی سے استعمال کرنے کی شہرت رکھتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ زرداری اور دیگر اہل سیاست نے بھی انہی سے یہ فن سیکھا ہے۔ میاں نوا ز شریف اور ان کے بھائی یعنی حکمران لیگ کے دونوں روح رواں ووٹ حاصل کرنے کی مہم سے غائب نظر آئے۔ پھر مسلم لیگ نے اپنے امیدوار کے نام کا اعلان بھی ووٹ حاصل کرنے کی مہم کے دوران نہیں کیا۔ ن لیگ کے جن رہنماؤں نے دیگر پارٹیوں اور آزاد سینیٹرز سے جو رابطے کیے ان میں امیدوار کا نام بتانے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ راجہ ظفر الحق کا اعلان اگر پہلے کر دیا جاتا تو ممکن ہے کہ ان کے سیاسی قد کی بنا پر کوئی ووٹ حاصل ہو جاتے ۔ لیکن نواز شریف نے گومگو کی کیفیت برقرار رکھی ۔ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے رضا ربانی کا نام لیا تھا لیکن پیپلز پارٹی ان سے اپنی راہیں جدا کر چکی تھی ۔ عمران خان نے اپنے ووٹوں کی کم تعداد کے پیشِ نظر اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لیے بلوچستان سے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا جس سے زرداری نے فائدہ اٹھایا۔ لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جہاں زرداری اور عمران خان انتخابی عمل میں فعال اور سرگرم رہے وہاں میاں نواز شریف اور شہاز شریف غائب رہے۔ شریف برادران کی انتخابی مہم سے غیر حاضری اور راجہ ظفر الحق کے نام کا عین انتخاب کے دن اعلان کرنے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا نتیجہ وہی نکلا جو نواز شریف چاہتے تھے۔ اب یہ بات سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ میاں صاحب کیوں اپنے حریفوں کو للکار رہے ہیں کہ تم جیت کر بھی نہیں جیتے اور ہم ہار کر بھی جیت گئے ہیں۔ راجہ ظفر الحق بھلے آدمی ہیں ، ن لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے انہوں نے انتخاب کے جمہوری طریق کار کی تصدیق کی اور ووٹ کو عزت دی ۔ نواز شریف اور ان کے اتحادی سینیٹ کے انتخابات میں راجہ ظفر الحق کی تائید کرنے اور’’ ووٹ کو عزت‘‘ دینے کو تیار نہیں۔ وہ ان کے اتحادی ہر قیمت پر محاذ آرائی کا ماحول پیدا کرنے پر تلے ہوئے نظرآتے ہیں۔ حاصل بزنجو نے کہا کہ انہیں ایوان میں بیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے لیکن انہوں نے ایوان سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔ اچکزئی نے کہا کہ جمہوریت قتل ہو گئی ہے ، اس طرح انہوں نے ایوان بالا کی توہین کی ہے۔ نواز شریف اور ان کے اتحادی ووٹ کو عزت دینے کی بجائے محاذ آرائی کے راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔آگے آگے دیکھئے۔

متعلقہ خبریں