Daily Mashriq

عزم وہمت کی داستان

عزم وہمت کی داستان

بینک بنگلہ دیش کے بانی محمد یونس سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو گرامین بینک بنانے کا خیال کیسے آیا؟ ان کا جواب انتہائی سادہ اور عام فہم ہے۔ میں نے ضرورت مند لوگوں کو دیکھا اور ان کی ضرورت پوری کرنے کا ارادہ کیا اور یوں یہ سب کچھ ہوگیا لیکن بات اتنی سادہ نہیں ہے! پروفیسر محمد یونس یونیورسٹی آف چٹا گانگ میں پڑھا رہے تھے، بنگلہ دیش میں قحط جیسی کیفیت تھی عام آدمی خاص طور پر دیہات میں رہنے والے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں میں امریکہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر آیا تھا اور کلاسوں میں بڑے جوش وخروش سے اکنامکس کی جدید تھیوری پڑھاتا مگر جب کلاس سے باہر آتا تو مجھے اپنے چاروں طرف ڈھانچے چلتے پھرتے نظر آتے جو موت کے انتظار میںجی رہے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ جو کچھ میں نے سیکھا ہے اور پڑھا رہا ہوں یہ سب تو ایسی کہانیاں ہیں جن کا لوگوں کی زندگی کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے کالج کیمپس کیساتھ ملحقہ گاؤں میں جا کر یہ جاننا چاہا کہ لوگ کیسے زندگی گزار رہے ہیں، میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ میں ان غریب لوگوں کیلئے کیا کرسکتا ہوں؟ میں نے گاؤں کے غریب لوگوں کا بڑی گہری نظر سے مشاہدہ کیا۔ وہاں ایک معمر خاتون سے ملاقات ہوئی جو بانس سے چھوٹے چھوٹے سٹول بناتی تھی اس سے معلوم ہوا کہ وہ دن بھر کی تھکا دینے والی مشقت کے بعد صرف دوpenny جس کی شرح 1/100 امریکی ڈالر (بہت معمولی سکہ) ہے روزانہ کماتی ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ اتنی کڑی مشقت کے بعد صرف دو معمولی مالیت کے سکے! اس نے بتایا کہ بانس خریدنے کیلئے اس کے پاس رقم نہیں ہے اور یہ رقم وہ ٹھیکیدار سے ادھار لیتی ہے جس کی یہ شرط ہے کہ وہ سٹول صرف اس پر بیچے گی اور قیمت بھی اس کی مرضی کی ہوگی۔ میں نے سوچا کہ لوگ اتنی معمولی رقم نہ ہونے کی وجہ سے کتنی مشقت اور تکلیف میں ہیں اور کوئی ان کیلئے کچھ بھی نہیں کرتا۔ میں نے اپنے ساتھ ایک طالب علم لیا اور گاؤں میں کئی دن سروے کرنے کے بعد 42غریب کاریگروں کی ایک فہرست تیار کی۔ وہ رقم جو ان تمام کاریگروں کو دینی تھی جب جمع کی تو وہ صرف 27ڈالرز بنتے تھے۔ مجھے اپنی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ اور شر مندگی ہوئی کہ تم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہو جو 42 محنت کشوں کو صرف 27ڈالرز بھی نہیں دے سکتا! میں نے اپنے شاگرد کو وہ رقم دی اور اسے کہا کہ یہ ان محنت کشوں کو دو اور ان سے کہو کہ وہ یہ رقم جو قرضہ حسنہ ہے اپنی سہولت کو دیکھتے ہوئے واپس لوٹا دیں۔ اس دوران وہ جہاں مناسب سمجھیں اپنے سٹول فروخت کرتے رہیں۔ جیسے ہی انہیں رقم ملی انہوں نے ایک نئے جذبے کیساتھ کام شروع کر دیا، ان کے اس جذبے کو دیکھتے ہوئے میں سوچنے لگا کہ میں ان کیلئے مزید کیا کر سکتا ہوں؟ میں یونیورسٹی کیمپس میں موجود بینک کے مینیجر سے ملا اور ان غریب محنت کشوں کیلئے قرضے کی بات کی، وہ میری بات سن کر بڑا حیران ہوا اور کہا ہم ان غریب لوگوں کو کیسے قرض دے سکتے ہیں یہ ناممکن ہے یہ اعتماد کے قابل لوگ نہیں ہیں، اس نے میری ضمانت کو بھی ٹھکرا دیا اور کہا آپ بینک ہیڈ کوارٹر جا کر بات کریں، ان کا بھی یہی جواب تھا۔ کئی دنوں کی بھاگ دوڑ کے بعد وہ میری ضمانت لینے پر تیار ہوگئے لیکن وہ باربار کہتے تھے کہ یہ لوگ رقم واپس نہیں کریں گے۔ حیران کن بات یہ ہوئی کہ انہوں نے مجھے پوری رقم بہت جلد واپس کر دی۔ میں نے جا کر منیجر کو بتایا تو وہ کہنے لگا یہ تمہیں بیوقوف بنا رہے ہیں، زیادہ رقم ملی تو واپس نہیں کریں گے لیکن وہ لوگ وقت پر رقم واپس کرتے رہے۔ اس طرح میں دوسرے گاؤں گیا، وہاں پر بھی یہی کچھ ہوا، انہوں نے رقم لی اور مقررہ وقت پر واپس کردی اور پھر میں گاؤں گاؤں جاتا رہا اور یوں بات ایک سو گاؤں تک جا پہنچی لیکن سب رقم واپس کرتے رہے۔ بینک والے حیران رہ گئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے! میرے ذہن میں ایک نئے خیال نے جنم لیا کہ کیوں نہ ایک ایسا بینک قائم کیا جائے جو محنت کشوں کو چھوٹے چھوٹے قرضہ جات دے بنگلہ زبان میں گرامین چھوٹے کو کہتے ہیں۔ گرامین کریڈٹ کا مطلب ہے چھوٹا قرضہ! مجھے حکومت کو قائل کرنے کیلئے دو برس کا عرصہ لگا اور یوں 2اکتوبر1983ء کو ہم اپنا خودمختار بینک قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے!۔ ایک اچھی سوچ نے غریب محنت کشوں کو فرش سے اُٹھا کر عرش پر پہنچا دیا۔ یہ ہے بنی نوع انسان اور دکھی انسانیت سے محبت کا وہ جذبہ جو حیران کن کارنامے سرانجام دیتا ہے۔ یہ ایک ایسے پرعزم انسان کی کہانی ہے جس نے اپنے اردگرد موجود محنت کشوں، ہُنرمندوں کا دکھ محسوس کیا، ان کے مسائل کا نہ صرف بغور مشاہدہ کیا بلکہ بڑی نیک نیتی اور سچے ارادے کیساتھ ان کی حالت بدلنے کی کوشش کی اور اللہ پاک کے فضل وکرم سے وہ کامیاب رہے! خالق کائنات نے ہر انسان کو بہت سی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے بس اپنی صلاحیت کو جاننے کی بات ہے، اپنے آپ کو دریافت کرنے کی بات ہے۔ آپ ایک مرتبہ اپنے آپ کو دریافت کرلیں پھر دیکھیں کیسے کیسے کارنامے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ پروفیسر محمد یونس نے یہی کچھ کیا، وہ اکنامکس کے پروفیسر تھے اور غریب لوگوں کی اقتصادیات کو بہتر بنانے کیلئے کام کر سکتے تھے۔ انہوں نے خلوص دل اور عزم صمیم کیساتھ کام کیا اور کامیابی ان کا مقدر ٹھہری! آج ان کے لگائے ہوئے پودے سے ہزاروں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں