Daily Mashriq

کوچ نقارہ باج چکا

کوچ نقارہ باج چکا

میں سیاست ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے اور اسے میاں صاحبان نے مذاق بنا دیا ہے۔ کوئی نہ انہیں یہ بتاتا ہے کہ سیاست میں بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور اپنی ذاتی زندگی میں تو انہیں بس بادشاہت کی عادت ہے۔ اس وقت میں میاں نواز شریف اور مریم نواز کو لندن ہونا چاہئے کیونکہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت انتہائی ناساز ہے۔ ان کا کینسر پلٹ آیا ہے۔ دونوں باپ بیٹی پاکستان میں سیاست کیلئے موجود ہیں۔ مریم نواز کی تربیت میاں نواز شریف نے تین چنیدہ لوگوں سے تو خوب کروائی لیکن شاید وہ تینوں ہی مریم نواز کو یہ سمجھانے میں ناکام ہوگئے کہ باپ سے بے پناہ محبت کے باوجود بھی وہ کسی طور ایک کرپٹ‘ بدعنوان سیاستدان کو جس کی ضد اور انا کے بارے میں لوگ عجیب وغریب باتیں کرتے ہیں‘ قصے کہانیاں سناتے ہیں جن کے بارے میں عینی شاہدین کی گواہی ہے کہ وہ رشوت نہ لینے والے سے ناراض ہو جاتے ہیں‘ کو رسول پاکؐ سے قطعی نہیں ملا سکتیں۔ میں حیران ہوں کہ ابھی تک علمائے کرام میں سے کسی نے بھی ان صاحبہ کیخلاف فتویٰ کیسے نہیں لگایا۔ شاید ان کی باتوں کو اس لئے بھی صرف نظر کیا جا رہا ہے کیونکہ سب ہی جانتے ہیں مریم بی بی نہ تو رسول پاکؐ کی ذات کے حوالے سے پوری معلومات رکھتی ہیں اور نہ ہی ان کی باتوں کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے لیکن محض ان وجوہات کی بنا پر انہیں معاف نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں بات اگر صرف تاریخی مثال کے طور پر کی گئی ہو تو اس حوالے سے کسی حد تک معاملہ صرف نظر کیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔ صرف سیاسی حامیان ہونے کے باعث اگر نگاہیں دوسری جانب رکھی جا رہی ہیں تو یہ ایک الگ ہی معاملہ ہے اور یہ بھی خاصا بحث طلب ہے کیونکہ اس طور قطعی نہیں ہونا چاہئے۔سیاست اور مذہب دو انتہائی مختلف چیزیں ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے جدا رہنا ہی بہتر ہے لیکن افسوس اپنی کم علمی کو ہمارے سیاستدان کمال بے اعتنائی سے فراموش کئے رہتے ہیں اور کسی بھی موضوع گفتگو سے احتراز نہیں کرتے حالانکہ یہ بات بھی انہیں مسلسل یاد کرانی چاہئے کہ کچھ معاملات پر یہ اصحاب گفتگو نہیں کر سکتے۔ بات صرف اسی حد تک موقوف نہیں، ہمارے سیاسی حلقوں کی عقل وفہم کا عالم تو یہ ہے کہ مریم صاحبہ کو ہی تربیت دینے والے ایک صاحب ایک محفل میں یہ انتہائی رسان سے بتا رہے تھے کہ مریم صاحبہ انتہائی مذہبی رجحانات کی مالک ہیں۔ وہ اکثر تسبیح کرتی رہتی ہیں۔ اب وہ کس قسم کی تسبیح کرتی ہیں اس کے بارے میں ان کے پاس کسی قسم کی کوئی معلومات موجود نہیں تھیں۔ بہرحال ان کے مذہبی رجحانات یا تعلیم ہمارے لئے کسی اہمیت کی حامل نہیں لیکن ایک مسلمان ملک میں رہتے ہوئے، ایک ایسی مسلمان آبادی سے گفتگو کرتے ہوئے جن میں سے کئی لوگ تو انہی کی طرح نیم غافل ہیں لیکن چند لوگ علم رکھتے ہیں انہیں احتیاط برتنی چاہئے تھی۔ میں نے اس حوالے سے لکھنے سے پہلے کئی بار سوچا اور وہ جو جانتے ہیں کسی طور برابر نہیں ہو سکتے اور ان کی جہالت کی بات پر بحث کرنا، اس جہالت کی ترویج کے مترادف ہو سکتا ہے لیکن پھر سوچا کہ کم ازکم اتنا کہنا ضروری ہے کہ ان جیسے لوگوں کو ایسے حوالوں سے مثال دیتے ہوئے بھی سوچ بچار کرنی چاہئے۔اس سیاسی جماعت کا خیال یہ بھی ہے کہ انہیں ایک مخصوص طبقہ فکر کی جانب سے نشانہ بنایا جارہا ہے عین ممکن ہے کہ وہ درست بھی سوچتے ہوں لیکن بات تو یہ ہے کہ وہ کسی جانب سے متفکر نہیں ہوتے جن کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہوتا اور ان کے پاس دکھانے کو کچھ نہیں۔ یہ تو ہر ایک بات ہی چھپانے والوں میں سے ہیں۔ یہ جتنی بار بھی جو بھی کچھ کہیں، ان کی باتوں کا نہ جھوٹ چھپتا ہے اور نہ ہی اس سے فریب کی بو جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا کوئی عمل اس ملک وقوم کے سامنے لائے جانیوالا نہیں۔ یہ جو باتیں کرتے ہیں، حیرت ہوتی ہے کہ یہ خود اپنے ہی جھوٹ کیساتھ زندہ کیسے رہتے ہیں۔ انہیں خود یہ خیال تک نہیں آتا کہ لوگ ان کا جھوٹ جانتے ہیں اور ان کی باتوں پر منہ دوسری طرف کئے ہنستے بھی ہیں۔ آج کل بچہ بچہ مجھے کیوں نکالا کہہ کر مذاق اُڑاتا ہے کیسی حیران کن بات ہے اور جانے کیوں یہ لوگ ایسی کسی بات کو سمجھنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ میاںنواز شریف قائد مسلم لیگ (ن) بن گئے اور میاں شہباز شریف صدر، مریم نواز اپنے والد کی محبت میں کسی بھی حد سے کبھی بھی گزر جاتی ہیں اور اس ملک کے عوام سوچتے ہی رہتے ہیں کہ دراصل ان کیساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یہ لوگ آخر انہیں ایسا احمق کیوں سمجھتے ہیں! سینیٹ کے انتخابات کا اشارہ مسلم لیگ (ن) کیلئے کافی ہونا چاہئے، کسی کا بھی حکم ہو، کسی کی بھی ترکیب ہو لیکن اب مسلم لیگ (ن) چل چلاؤ کا وقت آگیا ہے۔ کوچ نقارہ باج چکا ہے۔

متعلقہ خبریں