Daily Mashriq


خواتین، تخلیق ادب اور معاشرہ

خواتین، تخلیق ادب اور معاشرہ

خداجانے اکادمی ادبیات والوں کو کیا سوجھی کہ اتنی بہت ساری خواتین کی محفل میں اساطیری کہانیوں کے کردار شہزادہ گلفام کے طور پر اس ایک ہیچمندان کو ہی بولنے والوں کی فہرست میں شامل کر لیا حالانکہ من آنم کہ من دانم، یعنی اب وہ رعنائی خیال کہاں، ان سفید بالوں کیساتھ کوئی کب تک خود کو شہزادہ گلفام سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو سکتا ہے، اسلئے میں نے تو یہی گمان کرنے پر خود کو آمادہ پایا کہ منتظمین نے پشتو محاورے کے درست اور حقیقی معنے سمجھانے کیلئے آج کی یہ محفل برپا کی اور تختہ مشق بھی مجھے ہی بنایا اب وہ محاورہ بھی سن لیجئے مگر شکر ہے کہ ہمارے ایک نوجوان قلمکار نے ایک کتاب لکھ کر اس محاورے کو اب مشرف بہ شرافت کر دیا ہے اور اس کا ذکر بلاخوف وخطر کیا جا سکتا ہے یعنی اصل محاورے کو تبدیل کرکے اسے نئے معنی پہنا دیئے ہیں اور وہ ہے ’’گڈو کے اوخ‘‘۔ میرا مسئلہ مگر یہ بھی ہے کہ میرا قد اوخ یعنی اونٹ سے بہت کم ہے تاہم اتنا ہے کہ اگر اس پشتو محاورے میں تبدیلی کو قبول کر لیا جائے تو اُردو اور فارسی ادب میں بھی بہت سی تبدیلیاں لانی پڑیں گی بلکہ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو، کے مصداق ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور کو بھی زیرنظر رکھ کر اس مشہور فارسی شعر کو تبدیلی کے عمل سے گزارنا پڑے گا کہ

اوخ عیسیٰ اگر بہ مکہ رود

چوں بیاید ہنوز اوخ باشد

اب اونٹ کے بارے میں اور بھی بہت سی باتیں مشہور ہیں یعنی، شترکینہ، اونٹ کا کسی کروٹ بیٹھنا، یا پھر اونٹ سے کسی نادان سیانے کا یہ سوال کہ اسے اونچائی کی طرف جاتے ہوئے یا پھر اُترائی کی جانب اُترتے ہوئے زیادہ تکلیف ہوتی ہے، احمقانہ قرار دیا جائے تو کیا مضائقہ ہے، حالانکہ اونٹ کیساتھ شاعرانہ برتاؤ تو مشہور مزاح نگار شفیق الرحمن نے ایک شعر بدل کر یوں کیا تھا کہ

پتہ دیتی ہے شوخی نقش پا کی

گیا ہے اونٹ کوئی اس طرف سے

بات ہو رہی تھی پشتو کے محاورے کی جس کیساتھ مماثلت کے خوف سے میں نے اس میں تبدیلی کی چھتری کا سہارا لیا، حالانکہ جس جانور کا تذکرہ اصل محاورے میں ہے اس کی اہمیت سے ہمیں ہمارے ہمسایہ اور بھائیوں سے بھی زیادہ دوستی نبھانے والے ملک چین نے آگاہ کیا اور ہمارے صوبے کی حکومت کیساتھ ایک معاہدہ کر کے محاوراتی جانور کی پرداخت اور بعد میں ان کو چین برآمد کرنے پر آمادہ کیا۔ یہ تو اب جاکر معلوم ہوا کہ یہ جانورکس قدر کارآمد ہے کہ وہاں اس کی کھال سے خواتین کیلئے طرح طرح کی مصنوعات خصوصاً آرائش وزیبائش کیلئے کریم، لوشن، صابن وغیرہ وغیرہ بنا کر دنیا بھر میں فروخت کی جاتی ہیں، ادھر ہماری قوم بھی کسی سے کم نہیں، یہ بات سن کر کئی شہروں میں صرف کھالوں کی تجارت شروع کر دی گئی اور اس کی باقیات کو اپنے ہی ہم وطنوں کو کھلانا شروع کر دیا۔

آپ یقیناً یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آج میں موضوع سے بھٹک گیا ہوں، حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، مجھے احساس ہے کہ آج کی تقریب یوم خواتین کے حوالے سے ہے اور اس کا موضوع ہے، خواتین، تخلیق ادب اور معاشرہ۔ تو چلئے اصل موضوع کی جانب لوٹتے ہیں جس پر میرا پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ موضوع قدرے طویل ہے، یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس میں ایک لفظ اضافی ہے، جس کی وجہ سے خواتین کے اصل کردار کو صرف ایک شعبے تک محدود کر دیا گیا ہے، حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ زندگی کا وہ کونسا شعبہ ہے جہاں خواتین کا عمل دخل نہیں ہے، اللہ رب العزت نے خواتین کو ماں کے عظیم درجے پر فائز کر کے انسانی تخلیق کا جو فرض ان کو سونپ دیا ہے، اسی سے تو زندگی رواں دواں ہے، ماں کے قدموں تلے جنت رکھ کر رب کائنات نے انسانوں کو یہ سمجھا دیا ہے کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ، اور ان رنگوں کی بوقلمونی کا وصف صرف عورت ذات کیساتھ مخصوص ہے۔ رہ گیا تخیلق ادب میں خواتین کا کردار تو جیسا کہ گزارش کر چکا ہوں کہ تخلیق انسان کیساتھ ہی عورت تخلیق ادب میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیتی ہے، یعنی وہ اپنی اولاد کی تربیت کے کٹھن مراحل سے گزرتے ہوئے اسے زبان وبیان کے محتاط استعمال کا درس دیتی ہے، معاشرے میں قدم قدم پر بچے کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان سے نبرد آزما ہونے، ان سے برتنے کا درس ادب کی تخلیق نہیں تو اور کیا ہے اور کیا یہ ضروری ہے کہ عورت اپنے قلم ہی کے ذریعے معاشرے کی تربیت کا فریضہ ادا کرے؟ جب وہ پنگوڑے میں لیٹے ہوئے اپنے بچے کو لوریاں دیتی ہے تو قدیم زمانے سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی ہوئی ان لوریوں میں زندگی برتنے کا درس ہی تو وہ اپنے بچوں میں منتقل کرتی ہے۔ یوں ایک غیر محسوس انداز میں عورت ادب اور معاشرے کے تعلق کو مربوط انداز میں جوڑتی ہوئی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ رہ گئیں وہ خواتین جنہیں اللہ تعالیٰ نے تخلیق ادب کے وصف سے بہرہ ور کیا ہے، وہ اپنی ان صلاحیتوں کو مقدور بھر کام میں لاتی ہوئی اپنی ذمہ داریوں کا بھرپور انداز میں اظہار کرتی ہیں۔ آج جب ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑاتے ہیں تو مردوں کے شانہ بشانہ بہت سی خواتین تخلیق ادب کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتے ہوئے زندگی کی دوڑ میں شامل ہیں اور پاکستان میں بولنے، پڑھنے اور لکھی جانیوالی کسی بھی زبان کے ادب کا جائزہ لیا جائے تو خواتین کا کردار نمایاں نظر آتا ہے، ان خواتین کی تخلیقات آج ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں اور انہیں ادبی حلقوں میں پذیرائی بھی مل رہی ہے جو پاکستان جیسے ایک قدامت پرست معاشرے میں قابل تعریف ہے اور معاشرے کو درست سمت میں لے جانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں