Daily Mashriq

نفرت کی پھیلتی ہوئی آگ

نفرت کی پھیلتی ہوئی آگ

بلوچستان میں مسلم لیگ ن بغاوت نہ کرتی توحکمران جماعت آسانی سے سینیٹ میں فیصلہ کن اکثریت حاصل کر لیتی۔ آصف زرداری رضاربانی پر صاد کر دیتے تو بھی مسلم لیگ ن ایک بڑی کھینچاتانی سے بچ سکتی تھی لیکن شطرنج کی بساط پر شاطروں نے کھیل اتنی صفائی اور خوبصورتی سے کھیلا کہ حکمران جماعت سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود چکرا کر رہ گئی اور اس بیانئے کو اور تقویت ملی کہ کوئی تو ہے جو ’’نئے پاکستان‘‘ کی بنیاد رکھنے کیلئے نقوش کہن مٹانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ایک زمانے میں لوگوں کو صرف ظاہر سے دلچسپی ہوتی تھی، ’’نئے پاکستان‘‘ کے لوگ باطن میں جھانکتے ہیں، حالات وواقعات کی کڑیاں ملاتے اور ان سے حالات وواقعات کی تصویریں بناتے ہیں۔ چہروں پر تفکرات کی لکیریں اسی وقت تن گئی تھیں جب بلوچستان میں ’’اچانک‘‘ نوازشریف کیساتھ ہاتھ ہو گیا اور حکومت ان کی پارٹی کے ہاتھوں سے نکل گئی۔ لوگ اس وقت بھی گہری سوچ میں ڈوبے جب نوازشریف کی پارٹی صدارت کیساتھ ساتھ ان کے دئیے ہوئے ٹکٹ بھی نامعتبر ہوگئے اور مسلم لیگ ن کے اُمیدواران سینیٹ پارٹی بندشوں سے ’’ آزاد ‘‘ ہوگئے۔ حیرت کے در اس وقت بھی وا ہوئے جب بلوچستان کے وزیراعلیٰ قدوس بزنجو شٹل ڈپلومیسی کیلئے اسلام آباد آئے تو ’’بلوچستان کی محبت میں‘‘ زرداری اور عمران خان قدوس بزنجو سے لپٹ گئے اور سارے ووٹ ان کی جھولی میں ڈال دئیے۔ گیارہ مارچ کی رات ذمہ دار ذرائع ٹی وی کے سامنے جمے بیٹھے لوگوں کو یہ بتا رہے تھے کہ پی پی اجلاس میں رضاربانی پر اتفاق ہو رہا ہے۔ سینیٹرز کی اکثریت رضاربانی کی حمایت میں بول رہی ہے اور تھوڑی دیر میں بلاول ان کے نام کا اعلان کر دیں گے۔ پھر بلاول پریس کے سامنے آئے، سپیکر کیلئے سنجرانی اور ڈپٹی سپیکر کیلئے مانڈوی والا کا نام لیا تو حیرت دوچند ہوگئی، بیانئے پر مہر لگی اور اسے سر بہ مہر کر دیا گیا۔خواجہ آصف کے منہ پر پھینکی جانیوالی سیاہی سے جو تحریر لکھی گئی اس کی بات کرتے ہیں۔ اس جوتے کی بات کرتے ہیں جو نوازشریف کے منہ پر مارنے کی کوشش کی گئی۔ خواجہ آصف پاکستان کے وزیرخارجہ اور نوازشریف پاکستان کے سابق وزیراعظم اور دونوں پر غداری کی تہمت۔ ایک خاص سمت سے نمودار ہوتا بیانیہ کہ مودی کا جو یار ہے غدار ہے۔ گویا نہ خواجہ آصف پاکستان کا وفادار نہ نوازشریف ملک کا وفادار، تو کیا جنہوں نے یہ سرٹیفکیٹ جاری کیا وہ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی جیت اور حکومت سازی کی پوزیشن کو برداشت کریں گے؟ جو کھیل سینیٹ کے الیکشن سے پہلے کھیلا گیا کیا اس سے زیادہ بھیانک کھیل عام انتخابات سے پہلے نہیں کھیلا جائے گا؟ یقینی طور پر کھیلا جائے گا لیکن اس کے نتیجے میں اتنا گند پڑے گا کہ پورا ملک کچرا کنڈی بن جائے گا۔ لیڈروں کی طرف جوتے پھینکے جائیں گے، منہ پر سیاہی پھینکی جائے گی، گندے ٹماٹروں سے تواضع ہوگی اور بلاتخصیص ہوگی۔ ہر لیڈر اس کی زد میں آئے گا کیونکہ روایت پڑتی ہے تو کلچر بنتا ہے جیسے ایک سیاسی جماعت کے لوگوں نے بے شرم اور بے غیرت جیسے الفاظ استعمال کرنے شروع کئے تو دیکھا دیکھی ساری سیاسی جماعتوں میں یہ کلچر سرایت کر گیا اور آج پاکستانی سیاست قریب قریب گالی بن چکی ہے۔سوشل میڈیا آنیوالے وقت کی تصویر ہے۔ وہ کون سی گالی ہے جو مسلم لیگ ن کا کارکن عمران خان کو اور پی ٹی آئی کا کارکن نوازشریف کو نہیں دے رہا؟ عدلیہ کے بارے میں جو زبان استعمال کی جا رہی ہے کیا آج سے پانچ سال پہلے کوئی اس کا تصور بھی کر سکتا تھا؟ جرنیلوں پر جو ذومعنی جملے کسے جا رہے ہیں کیا یہ معمولی بات ہے؟ وہ جو اداروں کے وقار کی بات کرتے ہیں، احترام کی بات کرتے ہیں، کیا اس بابت غور فرمائیں گے کہ انہوں نے سیاسی مخالفت کی انتہا پر جاکر جس لغو کلچر کی بنیاد رکھی، یہ بدتمیزی اور یہ زبان درازی اسی کلچر کی انتہا ہے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ میں کسی کو گالی دیکر یہ اُمید رکھوں کہ وہ جواب میں مجھے گالی نہیں دے گا؟ میں کسی کی پگڑی اچھالوں اور یہ توقع رکھوں کہ جواب میں مجھے عزت ملے گی۔آج کی سیاست ردعمل کی تابع ہے۔ تیز ترین میڈیا کے اس دور میں گالی کھا کر خاموش رہنے والی جماعت نے کیا اپنی سیاست کا دھڑن تختہ کرنا ہے؟ کیا سچائی یہ نہیں کہ کپتان نے سوشل میڈیا کی ایک بڑی ٹیم بنا کر مسلم لیگ ن کو تگنی کا ناچ نچایا؟ اور کیا یہ بھی درست نہیں کہ مریم نوازشریف نے اس سے بڑی سوشل میڈیا ٹیم بنا کر کپتان کو یہ اعتراف کرنے پر مجبور کردیا کہ پی ٹی آئی کو اب اس سے مقابلے کی تیاری کرنی ہوگی؟فوری ردعمل کی حکمت عملی تحریک انصاف کا خاصا تھا لیکن کیا مسلم لیگ ن نے دانیال عزیز اور طلال چوہدری کی صورت اس کا توڑ نہیں کیا؟ تمام لیڈر یاد رکھیں اینڈرائیڈ فون اگر ان کی جماعت کے کارکن کے ہاتھ میں ہے تو ان کے مخالف سیاسی کارکنوں کے ہاتھوں میں بھی ہے۔ اداروں کی عزت اور توقیر کرانی ہے تو باہمی احترام کے کلچر کو فروغ دیں۔ اپنی عزت کرانی ہے تو دوسروں کی عزت کرنی سیکھیں۔ ہوش کے ناخن لیجئے اور سیاست کو گالی نہ بنائیے، اب اس زہریلی فصل کو کاٹئے جس کے زہریلے بیج بوئے تھے۔ اب جوتے، گالی اور سیاہی کی سیاست ہی ہوگی کہ کھیل ہی کھیل میں نفرت کی جلتی آگ پر اتنا پٹرول ڈال دیا گیا ہے کہ کوئی دامن جلنے سے نہیں بچے گا۔

متعلقہ خبریں