Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک مرتبہ حضرت عمر فارق ؓ دوپہر کو سخت گرمی میں ، سر پر چادر ڈالے ، ایک اونٹ کی تلاش میں جارہے تھے ۔ اس وقت حضرت عثمان غنی ؓ اپنے بالا خانے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ دور سے دیکھا تو خیال ہوا کہ شاید امیر المومنین جارہے ہیں ۔ قریب آئے تو پکارا ۔ اے امیر المومنین ! آپ اس دھوپ اور لُو میں کہاں جارہے ہیں ؟ فرمایا بیت المال کا ایک اونٹ گم ہوگیا ہے ۔ اس کی تلاش میں جارہا ہوں ۔ عرض کیا کہ تھوڑی دیر بعد بھی تلاش ممکن تھی ۔ اس دھوپ میں کیوں تکلیف کی ؟ ، فرمایا ، جہنم کی آگ اس سے بھی سخت ہے ۔

حضرت عثمان ؓ نے عرض کیا : میں اپنے غلام کو بھیج دیتا ہوں ۔ آپ یہاں آرام کیجئے ۔ فرمایا قیامت میں تم سے یا تمہارے غلام سے باز پرس نہ ہوگی ۔ بیت المال کے متعلق تو باز پرس مجھ سے ہوگی ۔ اسی دھوپ میں اونٹ تلاش کیا ۔ ‘‘

سلطان ملک شاہ ایک مرتبہ اصفہان میںجنگل میں شکار کھیل رہا تھا ، کسی گائوں میں قیام ہوا ۔ وہاں ایک غریب بیوہ کی گائے تھی ، جس کے دودھ سے تین بچوں کی پرورش ہوتی تھی ۔ بادشاہ کے آدمیوں نے اس گائے کو ذبح کر کے اس سے اپنے طعام کا بندوبست کیا ، غریب بڑھیا کو خبر ہوئی ، وہ بد حواس ہوگئی ، بادشاہی آدمیوں کا مقابلہ ، کوئی داد فریاد سننے کو تیا ر نہ تھا ، اس پر لاوارث اور غریب عورت نے ساری رات پریشانی میں کاٹی ۔ صبح ہوئی دل میں خیال آیا کہ کوئی نہیں سنتا تو نہ سہی ، کیا بادشاہ بھی نہ سنے گا ، جس کو خداوند کریم نے غریبوں کو ظالموں سے نجات دینے کے لیے اتنی بڑی سلطنت دی ہے ۔ بادشاہ تک پہنچنے کی کوشش کی ، مگر ناکام رہی ۔ معلوم ہوا بادشاہ فلاں راستے سے شکار کو نکلے گا ۔ چنانچہ زندرود (اصفہان کی مشہور نہر ) کے پل پر جا کر کھڑی ہوگئی ۔ جب سلطان پل پر آیا تو بڑھیا نے ہمت اورجرأت سے کام لے کر کہا :

’’اے الپ ارسلان کے بیٹے میرا انصاف اس نہر کے پل پر کرے گا یا پل صراط پر جو جگہ پسند ہو ، انتخاب کر لے ‘‘۔

بادشاہ کے ہمراہی یہ بے باکی دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئے ۔ بادشاہ گھوڑے سے اتر پڑا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس عجیب و غریب اور حیرت انگیز سوال کا اس پر خاص اثر ہوا اور بڑھیا سے کہا : ’’پل صراط کی طاقت نہیں ہے ، میں اسی جگہ فیصلہ کرنا چاہتا ہوں ، کہو کیا کہتی ہو ؟ ‘‘ بڑھیا نے اپنا سارا قصہ بیان کیا ۔ بادشاہ نے لشکریوں کی اس نالائق حرکت پر افسوس ظاہر کیا اور ایک گائے کے عوض اس کو ستر گائیں دلائیں اور مالا مال کر دیا اور جب اس بڑھیا نے کہا ۔ تمہارے عدل و انصاف سے میں خوش ہوں اور میرا خدا اور رسول ؐ خوش ہے ۔ تو گھوڑے پر سوار ہوا ۔

موجودہ تہذیب و شائستگی کے زمانے میں کوئی شخص اس طرح حاکم کی سواری روک لے اور ایسی آزادانہ گفتگو کرے ، شاید پاگل خانے بھجوادیا جائے یا اسے عبرت ناک سزا دی جائے ۔

(خطبات شیخ الاسلام)

متعلقہ خبریں