Daily Mashriq


محاذ آراءی کے حق میں نہیں،لیکن ملک میں آئین کی حکمرانی ہونی چاہیے، نوازشریف

محاذ آراءی کے حق میں نہیں،لیکن ملک میں آئین کی حکمرانی ہونی چاہیے، نوازشریف

ویب ڈیسک:سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ  ہم کسی قسم کی محاذ آرائی کے حق میں نہیں لیکن ملک کو آئین کے مطابق چلنا چاہئے۔

احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے بات چیت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ سب ایکھ رہے ہیں کہ کیا چل رہا ہے، بہت کچھ دیکھا ہے آدھی زندگی گزر گئی، اس دوران اچھے اور برے تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، دیگر سیاستدانوں کو بھی اچھے اوربرے تجربات سے کچھ نہ کچھ سیکھنا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کے لئے جو اچھا ہو اس سے دل خوش ہوتا ہے۔

اعتزاز احسن کی جانب سے سازش کرنے والے کا نام لینے پر ساتھ کھڑے ہونے کی بات پر ان کا کہنا تھا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ ساتھ کھڑے ہوں گے؟میرے سوا جن سیاستدانوں کے مقدمات ہیں ان پرکرپشن اورکِک بیکس کے الزامات ہیں، میرا مقدمہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں ایسا کوئی الزام نہیں۔

 نوازشریف نے کہا کہ ملک کو آئین کے مطابق چلنا چاہئے، سینیٹ انتخاب میں جوتماشا ہوا اس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، آئین پرعملدرآمد کی خواہش کوئی بری تونہیں، عمران خان اور زرداری صاحب کو سنجرانی ہاوٴس کا پتہ کس نے بتایا اور کون سا جی پی ایس تھا کہ سارے مخالفین ایک جگہ اکٹھے ہوگئے، ہم کسی قسم کی لڑائی کے حق میں نہیں تاہم محمود اچکزئی نے قبائل کے احتجاج میں جو بات کی اس پر انکوائری ہونی چاہئے۔

نوازشریف نے کہا کہ وہ نظام لے کرآئیں گے جوملک کی ضرورت ہے، موجودہ نظام میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے، جامع نظام عدل لانے کے لئے کام کررہے ہیں، انصاف نہ ملنا یا دیرسے ملنا ملک کا بڑا مسئلہ ہے۔

متعلقہ خبریں