Daily Mashriq


اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنوں کو دے

اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنوں کو دے

ایک جانب اسلام آباد میں وزیرخزانہ اسدعمر مزید مہنگائی اور عوام کو مزید سختیاں اور بوجھ برداشت کرنے کی تیاری کا عندیہ دے رہے ہیں تو دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ اور سپیکر کے مراعات سمیت اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں بے تحاشا اضافہ کی قرارداد چشم زدن میں منظور کرکے عوامی نمائندے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ عوام کے نہیں اپنے مفادات کے نمائندے اور مجاور ہیں۔ مراعات کی منظوری کی کسی ایک نے بھی مخالفت نہیں کی وگرنہ پنجاب اسمبلی اکثر وبیشتر مچھلی بازار کا منظر پیش کرتی ہے مگر جب مفادات کے حصول کا موقع آیا تو حزب اختلاف اور حکومتی اراکین اس طرح شیر وشکر ہوگئے کہ کبھی ان میں کسی بات پر ان بن تھی ہی نہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو عوام کا اس نظام اور اپنے ہی چنے ہوئے نمائندوں پر عدم اعتماد کا باعث بن رہا ہے۔ اگر ہم ان دو خبروں کا عوامی نقطۂ نظر سے جائزہ لیں تو بہت ہی مایوس کن صورتحال سامنے آتی ہے کہ ہمارے عوامی نمائندوں کو ملک اور عوام کا احساس نہیں وگرنہ اس قسم کی صورتحال میں پنجاب اسمبلی سے یہ قرارداد منظور نہ ہوتی۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ایک جانب وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر کا کہنا ہے کہ جب 600ارب روپے کا خسارہ ہوگا تو مہنگائی تو ہوگی اور شرح سود بھی بڑھے گی، قیمتوں میں اضافہ حکومت کیلئے چیلنج ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے لوگ تکلیف میں ہیں، آئی ایم ایف نے اخراجات کم بجلی گیس کے نقصان کو کنٹرول اور ڈالر کو مارکیٹ ریٹ پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیرخزانہ نے حالات کا یقینا حقیقت پسندانہ رخ پیش کیا ہے اور مالیاتی مشکلات سے عوام کو آگاہ اور مشکل حالات کیلئے خود کو تیار رکھنے کا مشورہ دیا ہے جس سے انکار ممکن نہیں لیکن دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں جس بل کی منظوری دی گئی ہے اس سے لگتا ہے کہ قومی خزانے میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ سے خزانے پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا اور نہ ہی عوامی منصوبے متاثر ہوں گے۔ پنجاب کے ایک دو شہروں کو چھوڑ کر وہاں کے عوام کا جو حال ہے وہ پسماندہ اضلاع کے عوامی مشکلات سے مختلف نہیں، اس کے باوجود پنجاب اسمبلی میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں نے وزیراعلیٰ اور اسپیکر سمیت دیگر اراکین کی تنخواہوں میں دگنا اضافے کیلئے محض ایک روز قبل پیش کئے گئے بل کی اپوزیشن کی غیرموجودگی میں منظوری دیتے ہوئے کسی نے یہ غور کرنا گوارا نہیں کیا کہ عوام کی حالت بدلنے کی بجائے وہ اپنی حالت آپ بدلنے کی سعی کیوں کر رہے ہیں۔ پنجاب سے اسمبلی میں بل کی منظوری کے بعد اب وزیراعلیٰ پنجاب کو4لاکھ25 ہزار، صوبائی اسپیکر کو2لاکھ60ہزار اور اسمبلی کے اراکین کو فی کس ایک لاکھ95ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اور مراعات کی مد میں ملیں گے۔ پنجاب اسمبلی نے نئے بل میں کہا ہے کہ اگر صوبے کے وزیراعلیٰ کا لاہور میں گھر نہیں ہو تو صرف دور حکومت مکمل کرنے کے بجائے تاحیات گھر بھی ملے گا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی کو اس بل کی منظوری کے بعد ماہانہ دو لاکھ60ہزار روپے تنخواہ ملے گی۔ پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں دگنا اضافے کے بعد انہیں ماہانہ ایک لاکھ95ہزار روپے ملیں گے جبکہ اس سے قبل اراکین کی ماہانہ تنخواہ88ہزار روپے تھی۔ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں دی گئی منظوری کے مطابق اراکین کو بنیادی تنخواہ80ہزار، رہائش کیلئے50ہزار روپے،4 ہزار روپے روزانہ الاؤنس، یوٹیلٹی20ہزار، مہمانداری الاؤنس20ہزار روپے اور ٹیلی فون الاؤنس 10ہزار نئی تنخواہ میں شامل ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ کو حکومت کے دوران سرکاری گھر کی سہولت دی جاتی تھی جو مدت ختم ہونے کے بعد واپس لی جاتی تھی۔ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین بھی کسی سے پیچھے نہیں، اس قسم کی تجویز منظوری کے مراحل میں ہے یا پھر اس کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان سارے حالات میں عوام اپنے نمائندوں سے خیر کی توقعات کیسے وابستہ کریں، اس کے قطع نظر سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ خود وزیراعظم عمران خان سادگی وکفایت شعاری کے سب سے بڑے پرچارک ہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی بھی شاہ خرچیوں کی کوئی کہانی نہیں، سادگی وکفایت شعاری تحریک انصاف کی جماعتی پالیسی اور منشور کا حصہ ہے لیکن خزانے میں وسعت نہ ہونے کے باوجود تنخواہوں میں بھاری اضافہ اور مراعات کیلئے اس قدر اشتیاق خود جماعتی پالیسی کی خلاف ورزی ہے اور عوام سے کئے گئے وعدوں کی نفی ہے جو یقیناً عوام میں حکومت اور تحریک انصاف کیلئے نرم گوشہ کا باعث نہ ہوگا۔ ارکان اسمبلی اور حکمرانوں کیلئے مراعات اور تنخواہوں میں اس قدر اضافے کے بعد حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کو مطالبات سے روکنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا جو ویسے بھی بجٹ کی تیاری کے دنوں میں معمول رہا ہے۔ ارکان اسمبلی اور حکمران اگر مہنگائی برداشت کرنے کے قابل نہیں تو عوام سے کیسے توقع رکھی جائے کہ وہ اس کے متحمل ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں