Daily Mashriq


بدعنوانی کی تحقیقات کرانے کا موزوں فیصلہ

بدعنوانی کی تحقیقات کرانے کا موزوں فیصلہ

خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان کا پشاور یونیورسٹی کے سالانہ بجٹ میں مبینہ کرپشن کا نوٹس لینے اور معاملے کو نیب کے حوالہ کرنے کا فیصلہ صوبے کے قدیم مادرعلمی کے حوالے سے پریشان کن اور افسوسناک امر ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے فیسوں میں بے تحاشا اضافہ پر بھی چانسلر نے یونیورسٹی انتظامیہ کی سرزنش کر کے بالواسطہ طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کی ترجمانی اور ان سے اتفاق کیا ہے۔ اس امر کی واقعی کوئی توجیہہ ممکن نہیں کہ جاری اخراجات کی مد میں اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد ان کی منظوری لی جائے۔ کرپشن کی شکایات اور یونیورسٹی کے مختلف منصوبوں کے ٹھیکے بھی قواعد وضوابط کے برعکس منظورنظر افراد میں بانٹنے کے الزامات اگر درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ناقابل برداشت اور قابل تعزیر صورتحال ہوگی۔ جملہ معاملات کی تحقیقات کے بعد کیا صورتحال سامنے آتی ہے وہ ایک الگ بات ہے لیکن گورنر جیسے ذمہ دار عہدیدار کی جانب سے تحفظات کا اظہار اور معاملے کا نیب سے تحقیقات کا عندیہ بلاوجہ نہیں بلکہ اس کی شدت سے ضرورت محسوس ہونے کے بعد ہی کیا جانے والا فیصلہ ہوگا۔ کسی بھی ادارے میں ایک خاص شرح اور قابل قبول حد تک کے اضافی اخراجات ہوتے بھی ہیں اور اس کی منظوری بھی دی جاتی ہے لیکن جب بات کروڑوں تک پہنچ جائے تو پھر اس کی تحقیقات سے صرف نظر بدعنوانی کے تحفظ اور بدعنوانی کی سرپرستی کے زمے میں شمار ہوگا جس کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ گورنر خیبر پختونخوا کی بطور رئیس الجامعات یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یونیورسٹیوں کے اخراجات، ترقیاتی کاموں اور تقرریوں سبھی پر کڑی نظر رکھیں اور جہاں جہاں بھی غیرمعمولی معاملات علم میں آئیں وہاں سخت اقدامات میں تامل نہیں ہونا چاہئے۔ جامعات کو اپنے اخراجات میں کفایت اور چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے پر اکتفا کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ طالب علموں پر کم سے کم بوجھ پڑے اور وہ اپنی فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کیخلاف احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہ ہوں۔

ڈاکٹروں کی تعیناتی کی تجویز درست، مؤثر کیسے بنایا جائے؟

خیبر پختونخوا کے تمام بنیادی مراکز صحت پر ڈاکٹروں کی سوفیصد تعیناتی کیلئے محکمہ صحت نے سرکاری ہسپتالوں میں تعینات تمام ڈاکٹرز کا تبادلہ ڈومیسائل کے مطابق آبائی اضلاع میںکرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ تمام ڈاکٹرز اور سپیشلسٹ کو اپنے ڈومیسائل والے علاقوں میں تعینات کیا جائے گا اور آئندہ کیلئے ان کی تقرری کا اختیار ڈی جی اور سیکرٹری کے پاس نہیں رہے گا اور یہ تبادلے ضلع اور ریجنل اتھارٹیز کے دائرہ اختیار میں ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں اصولی فیصلہ کافی نہیں کیونکہ متحدہ مجلس عمل کے دورحکومت میں بھی اس سے ملتا جلتا فیصلہ کر لیا گیا تھا لیکن عملدرآمد کی نوبت نہیں آئی یا پھر چند ایک تبادلوں کے بعد اس عمل کو جاری نہیں رکھا گیا اور تبدیل شدہ ڈاکٹرز کے دھیرے دھیرے اپنی پسند کے ہسپتالوں اور مراکز صحت میں تبادلے کرا دیئے۔ ڈاکٹروں کی اولین ترجیح صوبائی دارالحکومت اسلئے رہتی ہے کہ یہاں ان کو دوسری ملازمت، کلینک، لیبارٹری اور اس جیسے دیگر مواقع میسر آتے ہیں۔ اکثر وبیشتر خاندان بھی یہیں پر مقیم اور ان کے بچے یہاں کے بڑے سکولوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں بھی کئی وجوہات کی بنا پر ڈاکٹروں کی ترجیح بڑے شہر ہوتے ہیں ماضی کی اس قسم کے فیصلوں اور کوشش کی ناکامی سے قطع نظر اس مرتبہ تبادلوں کا اختیار ضلع اور ریجنل اتھارٹیز کو دینے سے اس کی کامیابی کی توقع ہے جن اضلاع کے ڈومیسائل پر مخصوص نشستوں پر ڈاکٹروں نے تعلیم حاصل کی ہے اصولی طور پر ان کا اسی ضلع سے باہر تبادلہ قانونی طور پر ممنوع ہونا چاہئے یا ناگزیز صورت میں بمشکل اس کی گنجائش رکھی جائے تاکہ پسماندہ علاقوں میں ڈاکٹروں کی آسامیاں سالہا سال سے خالی نہ پڑی رہیں۔ ایک مقررہ ٹینیور جو تین سے پانچ سال کا ہو اس قسم کے اضلاع کیلئے مقرر کیا جائے اور اس کی سختی سے پابندی کرکے بھی اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پانا ممکن ہوگا۔

کشتی حادثہ، حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ضرورت

چارسدہ کے پُرفضا مقام سردریاب میں سیر وتفریح کیلئے آنے والے افراد کی کشتی اُلٹنے سے پشاور کے رہائشی دو بچوں کے ڈوب کر جاں بحق ہونے اور دیگر افراد کے ڈوب جانے کا حادثہ ایک مرتبہ پھر عدم احتیاط اور خاص طور پر اس قسم کی صورتحال میں ہنگامی بچاؤ انتظامات کے نہ ہونے کا ثبوت ہے۔ باربار کے واقعات کے باوجود یہاں پر لائف گارڈز کی عدم تقرری اور کشتیوں پر سیر کرنے والے شائقین کو ڈوبنے سے بچانے والی جیکٹ پہننے کا پابند نہ بنانا ایسی غفلت ہے جس میں انتظامیہ، ملاح اور شائقین برابر کے شریک ہیں۔ آئے روز کے حادثات کی روک تھام کا مؤثر نظام ہونا چاہئے تاکہ جانی نقصان سے بچا جاسکے۔

متعلقہ خبریں