Daily Mashriq


’’میثاق دیانت‘‘ میں ہی جمہوریت کا استحکام ہے

’’میثاق دیانت‘‘ میں ہی جمہوریت کا استحکام ہے

بلاول بھٹو زرداری نے کوٹ لکھپت جیل میں میاں نوازشریف کی عیادت کی تو قومی میڈیا کو بحث کیلئے ایک گرماگرم موضوع مل گیا۔ اس ملاقات سے کیا برآمد ہوتا ہے؟ یہ ملاقات کیوں ہوئی؟ عیادت ایک بہانہ ہے، کیا اس کے پیچھے سیاست ہے؟ یہ اور اس طرح کے بہت سے سوالات اُٹھائے جانے لگے۔ پیپلز پارٹی سوالات کی اس بوچھاڑ سے سہم کر یہ تردید کرتی رہی کہ ملاقات محض عیادت تھی اور اسے بیمار پرسی سے زیادہ کچھ اور نہیں کہنا چاہئے۔ پارٹی کے ترجمانوں نے یہ بھی کہا کہ ملاقات میں قطعی کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اس ملاقات کے حوالے سے دفاعی پوزیشن اختیار کئے تھی کہ خود مسلم لیگ ن کے حلقوں نے سارا معاملہ طشت ازبام کر دیا۔ مریم نواز نے ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ تسلیم کیا کہ ملاقات میں سیاست پر بھی بات ہوئی۔ دوسرے روز میاں نوازشریف نے خود کھل کر کہا کہ بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات میں جمہوریت کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق ہوا اور دوسری جماعتوں کو بھی میثاق جمہوریت میں خوش آمدید کہا گیا گویا کہ اس میثاق کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ بلاول اور نوازشریف کی ملاقات پر پیپلزپارٹی کی تردیدی اور دفاعی پوزیشن کو دیکھ کر جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو شہید کے درمیان دوبئی میں ہونے والے خفیہ مذاکرات کا زمانہ یاد آیا جب میڈیا ان مذاکرات کی خبریں بریک کر رہا تھا مگر پارٹی ترجمان ٹی وی سٹوڈیوز میں ایسے کسی قسم کے مذاکرات کی کھلی تردید کر رہے تھے۔ تردید کا سب سے دلچسپ اور ذومعنی انداز پارٹی کے راہنما جہانگیربدر مرحوم اپنائے ہوئے تھے جو اپنے مخصوص انداز میں کہتے کہ ’’جنرل مشرف کیساتھ ہمارے مذاکرات نہیں ہو رہے بلکہ صرف ڈائیلاگ ہو رہا ہے اور ڈائیلاگ جمہوریت کا حصہ ہے‘‘۔ یوں اس جملے سے تردید اور تائید دونوں تلاش کی جا سکتی تھیں۔ کچھ ایسا ہی کوٹ لکھپت جیل کے دورے کے حوالے سے ہو رہا تھا، یہ تو اچھا ہوا مسلم لیگ ن نے کھل کر بتا دیا کہ اس موقع پر عیادت کیساتھ ساتھ سیاست بھی ہوئی۔ اس ملاقات پر حکمران جماعت پی ٹی آئی چیں بہ جبیں نظر آئی اور مختلف وزراء نے مختلف جملوں سے ملاقات پر تبصرہ کیا۔ دو سیاستدان جب ملتے ہیں تو لاکھ خود کو موسم، شاعری، مزاج پرسی تک محدود رکھیں مگر کہیں نہ کہیں گفتگو میں سیاست ٹپک ہی پڑتی ہے۔ اسلئے یہ ممکن نہیں کہ دو سیاستدان باہم ملیں مگر سیاست پر بات کرنے سے گریز کئے رکھیں۔ سیاستدان نام ہی سیاست کا ہے اور ایک سیاستدان کا حق ہے کہ وہ عیادت، عبادت، ضیافت، شرارت جس نام پر چاہے سیاست کرے۔ ظاہر ہے ملک میں مارشل لاء ہے نہ آزادیٔ اظہار اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔ اس لئے دو سیاستدانوں کی ملاقات پر اعتراض کی قطعی کوئی اہمیت نہیں۔ ابھی تو عیادت کے نام پر سیاست ہو رہی ہے عین ممکن ہے کہ کل سیاست کے سارے قابل ذکر کردار ایک ٹرک پر ہاتھ لہراتے اور ہلاتے نظر آئیں۔ خود پی ٹی آئی کی حکومت بھی مخالفین کو ایک ٹرک پر بٹھانے کی عجلت میں ہے۔ وزراء اپنے بیانات کے ذریعے اس ٹرک کی تزئین وآرائش کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری سیاست میں نوآموز ہیں انہیں ابھی ایک لمبی اننگز کھیلنا تھی مگر ان کی سیاست ابتدائے سفر میں آصف زرداری کے بوجھ تلے دبنے لگی ہے۔ ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے کی طرح آصف زرداری کا سیاسی ورثہ اس قدر بھاری ہے کہ بلاول کی جانِ ناتواں اس بوجھ کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کا کیا کیجئے کہ تابع فرمان اولاد کی طرح یہ بوجھ اُٹھانا ان کی مجبوری بن چکی ہے۔ وہ غصے اور اشتعال میں کچھ ایسی باتیں کر رہے ہیں جو قومی سیاست کی راہوں کے سفر میں پرچھائی بن کر ان کیساتھ ساتھ چلتی رہیں گی۔ ابھی تک حکومت گرانے کی جلدی صرف مولانا فضل الرحمان کو تھی اب اس میں بلاول بھٹو زرداری بھی شامل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ حکومت تو گرجائے گی اور گرائی جا سکتی ہے مگر اس کے بعد کیا ہے؟۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی مخلوط حکومت؟ ایں خیال است ومحال است وجنون است کے مصداق اسے خواب ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہ بائیس سالہ سفر اور برپا کردہ ’’انقلاب‘‘ کا ابارشن ہوگا اور کوئی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس کوشش کی پوری سیاسی اشرافیہ کو بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ بلاول کی گرج چمک تک محدود رہیں تو اسی میں سسٹم کا بھلا ہے اور سسٹم کا بھلا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سب کا بھلا سب کی خیر۔ جس کا عملی مظاہرہ پنجاب اسمبلی میں ارکان کی مراعات کے معاملے پر کامل اتفاق رائے کی صورت میں ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ’’میثاق جمہوریت پارٹ ٹو‘‘ اگر ہو بھی جاتا ہے تو اس سے ملک کی زمینی صورتحال پر کیا اثر پڑے گا؟۔ میثاق جمہوریت میں اگر دوسری سیاسی جماعتیں بھی شامل ہو جائیں تب بھی اس سے کیا جوہری تبدیلی واقع ہوگی۔ ماضی میں ملک کے تمام قابل ذکر سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ایک میثاق کے تحت جمع ہوتی رہی ہیں۔ نواب زادہ نصراللہ خان کی قیادت میں اے آر ڈی اس سلسلے کا اختتام تھا۔ اس اتحاد میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں شامل تھیں مگر میاں نوازشریف اسیری سے نکل کر سعودی عرب چلے گئے تو اے آر ڈی کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ میثاق جمہوریت عمل کی دنیا میں ’’میثاق مریخ‘‘ ثابت ہوا ہے۔ اس کا ملک کی زمینی صورتحال سے تعلق نہیں رہا۔ اس سے ڈیڑھ عشرے تک مخاصمت کی سیاست کرنے والی دو جماعتوں کے درمیان مفاہمت نے جنم لیا مگر اس سے پاکستان کے زمینی حقائق پر رتی برابر اثر نہیں پڑا۔ ملک میں جوہری تبدیلی صرف اسی صورت میں آسکتی ہے جب سیاسی جماعتیں اپنی داخلی صفوں، طریقہ ٔ کار، مالی معاملات کا ازسرنو جائزہ لیکر ’’میثاق دیانت‘‘ پر دستخط کریں گی۔ جس دن سیاسی جماعتوں نے اس میثاق پر اتفاق کیا جمہوریت کی سپیس خودبخود بڑھتی چلی جائے گی اور جمہوریت کسی میثاق کی محتاج نہیں رہے گی۔

متعلقہ خبریں