Daily Mashriq

پسے ہوئے طبقے کے لئے مراعات

پسے ہوئے طبقے کے لئے مراعات

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ جب 600 ارب روپے کا خسارہ ہوگا تو مہنگائی تو ہوگی اور شرح سود بھی بڑھے گی‘ قیمتوں میں اضافہ حکومت کیلئے چیلنج ہے‘ مہنگائی بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے لوگ تکلیف میں ہیں لیکن اس کی ذمہ دار سابقہ حکومت ہے حالانکہ سابق حکومت کے دور میں ایسے گمبھیر حالات نہیں تھے جو کچھ ہوا وہ پی ٹی آئی کی حکومت میں ہوا جس کا نعرہ پسے ہوئے طبقہ کو حق دلانا، ہر طبقہ کو انصاف مہیا کرنا اور نہ جانے کیا کیا کرنا تھا، وفاقی وزیر اسد عمر نے گزشتہ بدھ کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو وزارت کی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف نے اخراجات کم‘ بجلی گیس کے نقصان کو کنٹرول اورڈالر کو مارکیٹ ریٹ پر لانے کا مطالبہ کیا ہے تاہم فی الحال ہمارا ڈالر کی قیمت بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں‘ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور ملک کی اقتصادی حالت مستحکم ہے‘ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں بھارت کی قیادت میں پاکستان مخالف لابی سرگرم عمل ہے، پاکستان کی حکومت صورتحال سے آگاہ ہے اور مؤثر جوابی اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں‘ ایف بی آر، نادرا اور پرال کے درمیان ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ٹیکس چوری روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسد عمر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ن لیگ کی حکومت نے بجلی کی قیمت کو انتخابی مہم کیلئے استعمال کیا تھا، اس نے ایک سال میں توانائی شعبہ میں 450ارب روپے کا خسارہ کیا اور گیس کی کمپنیوں میں 150ارب روپے کا نقصان کیا۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیش ہوتا ہے تو پی ٹی آئی کے رہنما سابقہ حکومت پر تبّرا بھیجنا شروع کر دیتے ہیں، ویسے کئی حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی سوائے مہنگائی اور سابقہ حکومت کو کوسنے کے سوا کچھ نہیںکر پارہی ہے، حتیٰ کہ وہ اب تک خود کو کنٹینر پر ہی براجمان سمجھ رہی ہے، ایسی بات نہیں ہے اسے عوام کا قطعی احساس ہے اور وہ اس کی مشکلات میں بہتری لانے کی سعی اخلاص نیت سے کررہی ہے۔ ایک ہی مثال کافی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت سب سے زیادہ پسے ہوئے اور پاکستان کے سب سے زیادہ غریب طبقہ کی آسانی اور ان کی مشکلات گھٹانے کیلئے پنجاب اسمبلی میں ایک شاندار مراعات کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا، یہ محنت کش طبقہ جو دن رات قوم کی بھلائی، فلاح وبہبود میں جتا رہتا ہے آخر ان کا بھی تو کوئی حق ہے۔ اس سے زیادہ عمدہ کیا کارکردگی ہو سکتی ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد اب وزیراعلیٰ پنجاب کو4لاکھ25ہزار، صوبائی اسپیکر کو2لاکھ60ہزار اور اسمبلی کے اراکین کو فی کس ایک لاکھ95ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اور مراعات کی مد میں ملیں گے۔ پسماندہ طبقہ کا اس سے بہتر کیا خیال رکھا جا سکتا ہے کہ اراکین کی تنخواہوں میں اضافے کا بل گزشتہ روز پیش کیا گیا تھا جس کو24گھنٹوں کے دوران اپوزیشن کی غیرموجودگی میں ایوان سے متفقہ طور پر منظور کرا لیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے منظور ہونے والی4لاکھ 25ہزار روپے ماہانہ تنخواہ میں50ہزار روپے کا مہمان داری الاؤنس بھی شامل ہوگا۔ اسد عمر وہ بھول گئے جب نواز شریف اور ان کی کابینہ گورنروں کے مہمان داری کا بل عوام کو دکھا جاتا تھا کیونکہ وہ لوٹ مار تھی، پنجاب اسمبلی نے نئے بل میں کہا ہے کہ اگر صوبے کے وزیراعلیٰ کا لاہور میں گھر نہیں ہو تو صرف دور حکومت مکمل کرنے کے بجائے تاحیات گھر بھی ملے گا کیونکہ غریب ہے گھر خریدنے کی استعداد نہیں رکھتا جبھی تو گھر نہیںہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی کو اس بل کی منظوری کے بعد ماہانہ 2لاکھ 60ہزار روپے تنخواہ ملے گی۔ پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں دگنا اضافے کے بعد انہیں ماہانہ1 لاکھ95ہزار روپے ملیں گے جبکہ اس سے قبل اراکین کی ماہانہ تنخواہ88ہزار روپے تھی۔ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں دی گئی منظوری کے مطابق اراکین کو بنیادی تنخواہ80ہزار، رہائش کیلئے50ہزار روپے، 4ہزار روپے روزانہ الاؤنس، یوٹیلٹی20ہزار، مہمان داری الاؤنس20ہزار روپے اور ٹیلی فون الاؤنس 10ہزار نئی تنخواہ میں شامل ہے۔ پنجاب کے نئے وزیر اطلاعات صمصام بخاری نے کہا کہ بہت سارے اراکین ایسے ہیں جن کی واقعتاً اپنے شہر سے باہر آکر لاہور میں اپنی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں۔ اراکین کے اخراجات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کو اپنی رہائش اور کھانے کا بندوبست کرنا ہوتا ہے اور پارٹی کارکن اور دیگر لوگ آتے ہیں۔

وزیرقانون راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ اس وزیراعلیٰ جس کا لاہور میں گھر نہیں ہوگا اس کیلئے ایک سہولت دینے کیلئے یہ بل منظور کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ کو حکومت کے دوران سرکاری گھر کی سہولت دی جاتی تھی جو مدت ختم ہونے کے بعد واپس لی جاتی تھی۔ پھر بھی شکوہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکو مت غرباء ومساکین کیلئے کچھ نہیں کر رہی ہے اور حج پر سبسڈی نہ دینے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے حالانکہ حج تو صرف ان پر فرض ہے جو صاحب ثروت اور صاحب استعداد ہیں پھر کیوں ان پر عوام کا پیسہ لٹایا جائے، یہ طبقہ تو عازمین حج کی طرح نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ غریب پرور حکومت جس نے مراعات کا بل منظور کیا ہے وہ یہ مراعات عوام کے پیسوں کی بجائے سلائی مشین اور مرغی انڈے کی کمائی سے ادا کرے کیونکہ نواز شریف کے دور میں قومی پیداوار کی شرح نمود 5.4 تک جا پہنچی تھی مگر پھر دھرنا تحریک نے یہ نمود روک دی تھی۔ پھربھی یہ 4.7فیصد رہی اور جب سے پی ٹی آئی قدوم میمنت لزوم اقتدار پر وارد ہوئے ہیں تو قومی پیداوار کی شرح نمود 4.1فیصد پر آگئی ہے اور مزید کمی کے امکان عفریت کی طرح منہ کھولے کھڑے ہیں۔ جب قومی پیداوار کی شرح نمود گھٹے گی تو مہنگائی بھی بڑھے گی، بیروزگاری کا بھی گراف اوپر ہوتا جائے گا۔

متعلقہ خبریں