Daily Mashriq

آسان ویزا سے سیاحت کا فروغ

آسان ویزا سے سیاحت کا فروغ

پی ٹی آئی کی حکومت سیاحوں اور سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے 170ممالک کیلئے نئی ویزا پالیسی کا اعلان کرنے جا رہی ہے جس کا باقاعدہ اعلان وزیراعظم عمران خان خود کریں گے۔ حکومت کی جانب سے ویزا پالیسی میں نرمی کیلئے ابتدائی مرحلے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ای ویزا سہولت کو 5ممالک، جن میں ترکی، چین، ملیشیا، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، تک بڑھایا جائے۔ پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد اس سہولت کو بعد ازاں 170ممالک تک بڑھایا جائے گا۔ ای ویزا کے تحت مسافروں کی شناخت کا نظام کراچی اور لاہور ایئرپورٹس پر نصب کردیا گیا ہے اور اسے ملک کے دیگر ایئرپورٹس پر بھی نصب کیا جائے گا۔ بزنس ویزا 90ممالک کو دئیے جائیں گے جبکہ 55ممالک کو ویزا آن ارائیول (آمد پر ویزا) دیا جائے گا جبکہ اس سے قبل آمد پر ویزا کی سہولت صرف 24ممالک کے شہریوں کیلئے تھی۔ حکومت غیرملکی صحافیوں کیلئے بھی ویزا پالیسی مرتب کر رہی ہے، بالخصوص جو مغربی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور حکومت کو اُمید ہے کہ اس اقدام سے پاکستانی صحافیوں کو بھی دیگر ممالک کے ویزا ملنے میں آسانی ہوگی۔

موجودہ حکومت کے اس اقدام کی جہاں سفارتی کامیابی ہے اس کیساتھ ہی ہم سیاحت کو فروغ کے دیکر اپنے ریونیو میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں کیونکہ قدرت نے پاکستان کو قدرتی وسائل اور خوبصورت مقامات سے اس قدر نوازا ہے کہ اگر ہم ان سے مناسب طریقے سے استفادہ کریں تو ہمارے تمام معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں لیکن ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کسی بھی دور میں اس طرف دھیان نہیں دیا۔ اگر اس حوالے سے کبھی کوئی بات ہوئی تو وہ بھی محض کاغذی منصوبہ بندی تک ہی محدود رہی۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں موجود 2000چھوٹے بڑے ’’سیاحتی مقامات‘‘ ہیں جو اپنے اندر قدرتی طور پر ایسی کشش رکھتے ہیں کہ زمانہ قدیم سے سیاحت کے شوقین افراد ان کا مشاہدہ کرنے کیلئے دوردرازکے سفر اختیار کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کا شمار اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے لحاظ سے دنیا کے ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے جہاں ایک جانب بلند وبالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب وسیع وعریض زرخیز میدان بھی موجود ہیں۔ قدرتی مناظر میں ساحل سمندر سے لیکر آسمان کو چھوتی برف پوش چوٹیاں، خوبصورت آبشاریں، چشمے وجھرنے، سرسبز گھنے جنگلات، وادیاں، جھیلیں اور صحرا شامل ہیں۔

پاکستان میں قدیم مذہبی مقامات بدھ مت کی تاریخی نشانیاں، ٹیکسلا اور گندھارا کی قدیم تہذیبوں کے کھنڈرات موجود ہیں۔ پاکستان کا سوئٹرز لینڈ کہلانے والی وادی سوات کے علاوہ رومان پرور وادی کاغان، گلیات، وادی کیلاش، وادی ہنزہ، شنگریلا ملکی وغیر ملکی سیاحوں کی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ دنیا کے بیشترممالک میں ایک بھی دریا نہیں بہتا جبکہ پاکستان کی سرزمین پر 17بڑے دریا بہتے ہیں، یہاں سبزہ زار بھی ہیں اور ریگ زار بھی، ہمارے وطن عزیز میں چاروں موسم آتے ہیں اور اپنی چھب دکھاتے ہیں۔ اگر ان مقامات کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات دیکر فروغ دیا جائے تو یہ تہذیبیں بھی بالکل اسی طرح اربوں ڈالر منافع دیں گی جس طرح بھارت کے شہر آگرہ میں تاج محل، دلی میں قطب مینار، ہمایوں کا مقبرہ اور دیگر مقامات سے اربوں ڈالرز منافع حاصل ہو رہا ہے۔

اسلامی ریاست دبئی، مراکو، مصر اور انڈونیشیا جیسے اسلامی ملکوں کی مثال لے لیں یہ شہر بھی سیاحوں کو سہولیات دینے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔دنیا پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو دیکھنا چاہتی ہے مگر ہم انہیں سہولیات نہیں دے سکے۔ ہمارے ہاں دنیا کی 6بڑی چوٹیاں ہیں لیکن ہم انہیں پروموٹ نہ کر سکے۔ پورا نیپال ماؤنٹ ایورسٹ کی وجہ سے اربوں ڈالر کماتا ہے جبکہ ہمارے پاس ان کے برعکس سیاحتی مقامات ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن تھوڑی سی برف باری ہونے یا موسم خراب ہونے کی صورت میں شاہراہ قراقرم بند ہو جاتی ہے۔ ناران کاغان جیسے سیاحتی مقامات سردیوں کے 5ماہ تک بند رہتے ہیں۔ سوات، کالام اور بحرین جیسے خوبصورت مقامات سے زمینی راستہ منقطع ہو جاتا ہے جبکہ آپ یورپی ملکوں میں دیکھ لیں جہاں سب سے زیادہ برف باری ہوتی ہے لیکن وہ اس موسم کو بھی کیش کرواتے ہیں، سوئٹزر لینڈ جیسے ملک میں 16ہزار فٹ تک مقامات کو سہولیات سے نوازا ہوا ہے۔ اس لئے دنیا بھر سے سیاح وہاں کھنچے چلے جاتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ماضی کی حکومتوں سے زیادہ پرجوش نظر آرہی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ای ویزا کی سہولت کے بعد اس ضمن میں یہ کوئی عملی اقدامات کرتی ہے یا پھر بات ماضی کی طرح اعلانات اور زبانی کلامی منصوبہ بندیوں تک ہی محدود رہتی ہے۔

متعلقہ خبریں