Daily Mashriq


دہشتگردوں کا ایک اور حملہ

دہشتگردوں کا ایک اور حملہ

شمالی وزیرستان کے علاقہ شوال میں پاک افغان بارڈر کے قریب سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر افغانستان کی طرف سے دہشتگردوں کے حملے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 7 سیکورٹی اہلکار شہید جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی سیکورٹی ذارئع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقہ شوال میں پاک افغان سرحد کے قریبی مقام درے نشتر میں سیکورٹی چیک پوسٹ پر افغانستان کی طرف سے دہشتگردوں کے ایک گروہ نے بھاری ہتھیاروں سے اچانک حملہ کر دیا جس سے سیکورٹی فورسز کے 7 اہلکاروں کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ دو زخمی ہو ئے ہیں، حملے کے فوری بعد سیکورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے بعد دہشتگرد فرار ہو گئے۔ حملے کی ذمہ داری آخری اطلاعات تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔ پاک افغان سرحد پر تسلسل سے افغانستان کی طرف سے دہشتگردوں کے حملے‘ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستان میں دہشتگردی پر آمادہ گروہوں کی موجودگی کا عندیہ تو ملتا ہی ہے جبکہ پاکستان کو مطلوب دہشتگردوں کی بڑی تعداد جو سوات اور شمالی وزیرستان آپریشن اور باجوڑ میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں افغانستان منتقل ہو چکی ہے سرحد پار ان کے کیمپ بھی قائم اور موجود ہیں۔ اتوار کے روز جنوبی اور شمالی وزیرستان کے سنگم پر واقع پاک افغان سرحد کے قریبی علاقہ شوال میں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی۔ اطلاعات تو چیک پوسٹ پر فائرنگ کی ہے لیکن شہادتوں کی تعداد سے ایسا لگتا ہے کہ دہشتگردوں نے باقاعدہ حملہ کیا ہوگا جسے ناکام بناتے ہوئے ہمارے سات سیکورٹی اہلکار جام شہادت نوش کر گئے اور دو زخمی ہوئے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب بھی پاکستان افغان سرحدی علاقوں میں باڑ لگا کر سرحدوں کو محفوظ کرنے کی سعی کرتا ہے اس قسم کے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جس سے اس امکان کا اظہار غلط نہ ہوگا کہ یہ عناصر جس حلئے اور طریقے سے حملہ آور ہوتے ہیں ان کی پشت پناہی اگر افغانستان نہیں کرتا تو کم ازکم ان کی سرگرمیوں سے صرف نظر اختیار کیا جانا یقینی ہے۔ شوال کے جنگلات سے ڈھکے اس درہ نما پہاڑی علاقے کو ہمارے شیر دل جوانوں نے بڑی محنت اور قربانیاں دے کر کلیئر کرکے چوکیاں بنالی تھیں وگرنہ اس علاقے میں ایک عرصے تک دہشتگردوں کے اس گروپ کا غلبہ تھا جس کا لیڈر اب بھی افغانستان میں موجود ہے۔ اس بناء پر اس امر کا اظہار کرنا بلاوجہ نہ ہوگا کہ اس حملے میں بھی وہی گروپ ملوث ہو۔ اس صورتحال کے تدارک کیلئے افغانستان کا تعاون بہت ضروری ہے مگر افغان حکام اس ضمن میں تعاون کرنے پر ذرا بھی تیار نہیں۔ پاکستان‘ چین اور افغانستان کے درمیان اسلام آباد میں آج منگل کے دن مذاکرات ہونے ہیں جس میں ٹریک ٹو کے دوسرے راؤنڈ اور دوسرے مرحلے میں تینوں ممالک کے درمیان مختلف امور پر مذاکرات ہونے ہیں۔ مذاکرات میں قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ‘ سیکرٹری خارجہ تمہینہ جنجوعہ اور اسلام آباد میں متعین افغانستان اور چین کے سفراء شرکت کریں گے۔ اس خاص موقع پر افغانستان سے پاکستانی چوکی پر حملہ دونوں ملکوں کے درمیان عین وقت پر بداعتمادی اور تنازعہ پیدا کرنا ہی ہو سکتا ہے۔ یہ ان عناصر کی کارروائی ہوسکتی ہے جن کو پاک افغان تعلقات میں بہتری منظور نہیں۔ افغانستان میں اس طرح کے عناصر کی بدقسمتی سے موجودگی ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ افغانستان میں سی آئی اے‘ را اور موساد ہی نہیں این ڈی ایس بھی پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کی ذمہ دار اور کوشاں رہی ہے۔ ایک طرف جہاں تعلقات میں اعتماد پیدا کرنے اور مسائل پر مشاورت کرکے ان کے حل کی راہ ہموار کرنے کی سعی ہوتی ہے تو دوسری جانب سرحد پر اس قسم کے افسوسناک اقعات پیش آتے ہیں جس کے باعث اشتعال اور سخت جواب دینا مجبوری بن جاتی ہے۔ یوں مذاکرات کا ماحول مکدر ہو جاتا ہے اور جن امور پر توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اس سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ پاک افغان اور چین کے درمیان اسلام آباد میں مشاورتی اجلاس کے ماحول کو سرحد پر پیش آنے والے اس واقعے کے اثرات سے بچاتے ہوئے اس صورتحال سے نکلنے کیلئے ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کرنے اور ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ مشکل صورتحال یہ ہے کہ دوسری جانب افغانستان میں بھی آگ برابر لگی ہوئی ہے۔ افغانستان کے شہر جلال آباد میں اتوار ہی کے روز اس وقت چار افراد ہلاک ہوگئے جب جنگجوؤں نے ایک سرکاری عمارت پر دھاوا بول دیا۔ مشیر قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ نے ایک منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بجا طور پر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان درد اور زخموں کی کہانی ہے اور یہ دنیا اور خطے کا ایک زخم ہے، جسے جلد ازجلد بھرنے کی ضرورت ہے۔ ناصر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ 11ستمبر2001 کے بعد پاکستان بین الاقوامی برادری کیساتھ کھڑا تھا ناکہ ان کیساتھ جنہوں نے امریکا کو نقصان پہنچایا لیکن یہاں الزام تراشیوں کا کھیل کھیلا گیا۔ ان حالات میں پاکستان دوہری مشکل کا شکار ہے۔ ایک جانب اس کو خود مسائل کا سامنا ہے تو دوسری جانب پاکستان پر مختلف ذرائع اور طریقوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے افغانستان بھی ان کوششوں کا بلاسوچے سمجھے حصہ بن جاتا ہے۔ جب تک اس کیفیت کا خاتمہ نہیں ہوتا اور خطے میں اعتماد کی فضا قائم نہیں ہوتی صورتحال میں بہتری کی اُمید نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ پاکستان، افغانستان اور چین مذاکرات کے تازہ دور میں ان مسائل ومعاملات پر مشاورت کرکے کسی ایسے نتیجے کی طرف پیش رفت کر پائیں گے جس کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوں گی اور افغانستان سرحدی حفاظت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے آئے روز پیش آنے والے اس قسم کے واقعات کی روک تھام میں مثبت کردار پر تیار ہوگا۔

متعلقہ خبریں