Daily Mashriq


وادی نیلم کا حادثہ اور سیاحت کو محفوظ بنانے کے تقاضے

وادی نیلم کا حادثہ اور سیاحت کو محفوظ بنانے کے تقاضے

آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں نالہ جاگران کے معلق پل پر چالیس کے قریب مرد وخواتین سیاحوں کی سیلفیاں لیتے وقت پل کے ٹوٹ جانے سے چھبیس سیاحوں کے ڈوبنے کا واقعہ نہایت افسوسناک اور غمزدہ کر دینے والا ہے۔ شہر سے جانے والے سیاحوں کو خطرنات مقامات کے حوالے سے اکثر آگاہی نہیں ہوتی اور وہ خود سے بھی اس پر شاید اس لئے توجہ نہیں د ے پاتے کہ وہ سیاحتی مقامات کے حسین نظاروں میں کھو جاتے ہیں۔ سیاحوں کے عدم احتیاط کے باعث رونما ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں اس قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جس کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ سیاحوں کو چیک پوسٹوں پر علاقے میں سیاحتی مقامات کے دورے کے موقع پر ممکنہ خطرات سے آگاہی کیلئے معلوماتی پمفلٹ دئیے جائیں، علاوہ ازیں حساس مقامات پر احتیاط کرنے کے انتباہ کیساتھ ممکنہ خطرات بورڈ پر تحریر کئے جائیں اور سیاحوں کو اس ضمن میں احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جائے۔ جو لوگ سیاحت کیلئے کسی مقام کا انتخاب کریں ان کی اپنی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس علاقے کے بارے میں مناسب معلومات حاصل کریں اور فطرت کے نظاروں کو دیکھ کر مبہوت ہوکر خود حفاظتی کی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کو مطالعاتی وتفریحی دوروں پر لے جانے والے منتظمین بھی ان کی حفاظت اور معلومات کی فراہمی کی ذمہ داری پر توجہ دیں۔ ٹور آپریٹرز کو بھی احتیاطی تدابیر سے سیاحوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو خصوصی ذمہ داریاں دی جائیں۔ سیاحوں کی گاڑیوں کی احتیاطی چیکنگ کا اگر انتظام کیا جاسکے تو یہ احسن ہوگا۔ آزاد کشمیر میں پیش آنے والا واقعہ نہایت افسوسناک ہے جس میں پل پر گنجائش سے زیادہ جمع ہونے والے سیاحوں کی لاعلمی ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوئی۔ اس طرح کا کوئی واقعہ کہیں بھی رونما ہونا ناممکن نہیں۔ بنابریں احتیاط کے طور پر ٹورازم کارپوریشن خیبر پختونخوا کو اس امر پر خاص طور پر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاحوں کے جان ومال وآبرو کی حفاظت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو صوبے کے پر فضا اور حسین مقامات کی سیاحت پر مائل کیا جاسکے۔ بائیکاٹ مری قسم کی مہم کی وجوہات کی صوبے کے کسی سیاحتی مقام پر ہونے کے امکانات تک کی روک تھام کیلئے مقامی کاروباری افراد کو پابند بنایا جائے کہ وہ کسی بھی صورت خیبر پختونخوا کی روایتی مہمان نوازی اور خوش اخلاقی کے کلچر کی پوری طرح پابندی کریں اور سیاحوں کی چھوٹی موٹی غلطیوں سے خندہ پیشانی سے درگزر کریں۔

محکمہ بلدیات کو ٹیکس وصولی کے اختیارات کا احسن منصوبہ

خیبر پختونخوا حکومت کا گھروں‘ دکانوں اور پلازوں سمیت تمام غیر منقولہ جائیداد کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا اختیار محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے لے کر محکمہ بلدیات کو دینے کا فیصلہ احسن ثابت ہوگا جس سے شہریوں کو جائیداد اور مکانات کے حوالے سے سارے معاملات ایک ہی دفتر میں نمٹانے کی آسانی ہوگی جبکہ اس سے محکمہ بلدیات کو معقول آمدنی بھی ہوگی جس کے پاس ٹیکس جمع کرنے کیلئے عملہ پہلے ہی سے موجود ہے۔ محکمہ بلدیات کے پاس شہریوں کے پانی کے کنکشن اور دیگر معلومات پہلے سے موجود ہیں اور متعلقہ عملے کا شہریوں سے اور شہریوں کا متعلقہ عملے سے ویسے بھی واسطہ پڑتا ہے جس سے ٹیکس وصول اور اکٹھا کرنے میں آسانی فطری امر ہوگا۔ ٹیکس نادہندگان کیخلاف واٹر اینڈ سینیٹیشن کنکشن منقطع کرنے کے نوٹسز کے اجراء کی صورت میں ایک امکان بھی موجود ہے۔ بہرحال اس سلسلے میں مشاورت اور قوانین کو ہم آہنگ بنانے کا موقع باقی ہے جبکہ فی الوقت ٹیکس وصول کرنے والے محکمے کے بھی تحفظات واعتراضات سامنے آئیں گے جس کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جاسکے گا۔ فی الوقت آزمائشی بنیادوں پر ٹاؤن تھری کو اختیارات کی تفویض تجرباتی بنیادوں پر کامیاب بنانے کی مساعی کی ضرورت ہے۔ محکمہ بلدیات کو ٹیکس وصولیوں کی مد میں خاطر خواہ کامیابی ملے تو شہریوں پر پانی کے بلوں اور نکاسی آب وصفائی کے اخراجات بڑھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی جس سے شہریوں کو بھی ریلیف ملے گا اور جو شہری ٹیکس دیں گے وہ محکمہ بلدیات سے صحت وصفائی، پانی، نکاسی آب اور دیگر شہری سہولتوں کو بہتر بنانے کا مطالبہ بھی کرسکیں گے۔

متعلقہ خبریں