Daily Mashriq


نواز شریف سٹھیا گئے ہیں

نواز شریف سٹھیا گئے ہیں

شاید وہ سٹھیا گئے ہیں۔ شاید دبائو میں رہتے رہتے ان میں یہ احساس ہی ختم ہوگیا ہے کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں اور اس کے کیا نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ بے چارے ایسی باتیں کرتے ہیں کہ دوبارہ خود بھی سمجھ نہیں پاتے۔ تبھی تو میاں شہباز شریف یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ میاں نواز شریف کا بیانیہ‘ ان کا ذاتی بیانیہ ہے اور اس کا مسلم لیگ(ن) کیساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس وقت میاں نواز شریف اپنی ہی حماقت کے بھنور میں الجھ چکے ہیں اور انہیں کوئی اس سے نجات دلانے کی کوشش بھی کرے گا تو شاید خود بھی اس کی گرفت میں الجھ جائے گا۔ اگرچہ میاں صاحب کے ساتھی یہ بتانے کی سعی میں مشغول ہیں کہ میاں صاحب نے جو بات کی وہ ایسی کوئی نئی بات بھی نہیں اس سے پہلے بھی کئی لوگ یہ بات کر چکے ہیں اور دراصل میاں صاحب جو کہنا چاہتے تھے وہ عام فہم حقائق پر مبنی بات تھی۔ میاں صاحب کے ساتھیوں کو بس اتنا کہہ دینا چاہئے تھا کہ میاں صاحب دراصل دباؤ کا شکار ہیں اور اتنے دباؤ میں رہنے کے باعث ان کا ذہنی توازن اپنی جگہ نہیں رہا۔ پھر ایک معمولی عقل وفہم والی بیٹی کو اپنی سیاسی وراثت کا مالک بنانا بھی ان کیلئے خاصا پریشان کن ہے۔ کئی بار اتنے دباؤ میں انسان کئی ایسی باتیں کر دیتا ہے جن کا تعلق حقیقت سے نہیں ہوتا۔ میاں صاحب پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں اسلئے ان کی باتوں کو اہمیت مل جاتی ہے وگرنہ اگر ان کی ذہنی استعداد یا آئی کیو کو مدنظر رکھتے ہوئے عہدے کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا تو شاید بات بڑی پیچیدہ ہو جاتی۔ یہ بات بھی کہی جاسکتی تھی کہ اب کم ازکم اس معاملے میں پاکستان اور امریکہ برابر ہوگئے ہیں۔ پاکستان ایک ایسے شخص کو تین بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز کر چکا ہے اور امریکہ میں ایک ایسا ہی شخص صدر کے عہدے پر اب فائز ہے۔میاں صاحب کے بیان نے اور پھر ڈھٹائی نے میڈیا میں ایک کھلبلی مچا رکھی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنے ہنگامی اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق ڈان اخبار میں شائع یہ بیان بالکل غلط ہے اور غلط سمت میں نشاندہی کرتا ہے۔ اس اعلامیے میں اس افسوس کا بھی اظہار کیا گیا کہ حقائق اور شواہد کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے شاید دباؤ یا رنجش کی بنا پر اس رائے کا اظہار کیا گیا اور دراصل اس بیان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ سر آنکھوں پر لیکن اصل سوال تو اب جنم لیتے ہیں۔ ایک سابق وزیراعظم جس کو بدعنوانی کے الزام میں نااہل کیا گیا اس پر تاحیات پابندی لگائی گئی جو سرعام ملک کے اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی میں مشغول ہے اور اس کے کئی ساتھی بھی اس سب سے باز نہیں آتے۔ وہ شخص ایک مقامی اخبار کو ایک بیان دیتا ہے جس سے بین الاقوامی سطح پر نہ صرف ملکی وقار اور تشخص کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ ملک کئی قسم کی مالی مشکلات کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس کی بدعنوانی اور محدود ذہنی صلاحیتوں کے قصے بیوروکریٹک حلقوں میں ازراہ تفنن سنائے جاتے ہیں‘ جس کی خود غرضی اور ملکی وسائل کے استعمال کے حوالے سے بیدردی بھی مشہور ہے‘ وہ شخص اب اپنے ذاتی عناد اور رنجش کے باعث ملکی وقار کو ٹھیس پہنچا رہا ہے اور پاکستان کے دشمنوں کو یہ موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ پاکستان پر انگلی اٹھا سکیں۔ اس شخص کے بھارت سے کاروباری تعلقات میں بھی کسی کو کوئی شک نہیں۔ بھارت میں لوگوں سے اس کی دوستیاں بھی ہیں‘ یہ شخص ماضی میں بینظیر بھٹو اور راجیو گاندھی کی دوستی کو غداری پر محمول بھی کرتا رہا ہے۔ اس شخص کی اب کیا سزا ہونی چاہئے۔ وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھاتے ہوئے یہ شخص کن باتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا‘ سوال اس بات کا نہیں سوال اب یہ ہے کہ اس شخص نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ میرے اور آپ کے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بات صرف جذباتی حد تک محدود نہیں ہم دیکھیں گے ہمارے دشمن کیسے ہم پر بار بار وار کریں گے۔ ہمیں بار بار نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ ہم میں سے ہر شخص کو اب عدالت کا رخ کرنا چاہئے۔ ہم میں سے ہر ایک محب وطن کو ان جیسے لوگوں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ اگر کسی کو ان کے وطن دشمن ہونے پر شک ہو تو اب شک دور ہو گیا‘ اب کوئی ان کی حمایت کی کوشش کرے یا ان کی باتوں کی توجیہات تلاش کرے سب ہی انہی کے زمرے میں شامل ہیں۔ یہ ان کے ساتھی اور ہر وہ شخص جو ان کی بات کا رنگ بدلنا چاہے وہ اس ملک کا مجرم ہے۔ ان سب لوگوں کا احتساب ہونا چاہئے اور سب سے پہلے میاں نواز شریف کا احتساب ہونا چاہئے۔ یہ اتنی چھوٹی بات نہیں جسے محض رنجش اور دبائو کا ردعمل کہہ کر ٹال دیا جائے۔ میاں صاحب اس ملک کے تین بار وزیراعظم رہے ہیں۔ ان کی اس بات کے باعث پاکستان مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے۔ ان کا احتساب تو اب ہونا چاہئے کیونکہ انہوں نے آج تک شاید پاکستان کو ایسا نقصان نہیں پہنچایا تھا جیسا اب پہنچایا ہے۔ اب یہ اس ملک کے غدار ہیں اور غداری کی سزا واضح ہے۔

متعلقہ خبریں