Daily Mashriq


احتسابی عمل اور سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم

احتسابی عمل اور سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم

اقوام کی ترقی میں احتسابی عمل کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، احتساب جس قدر اہم ہے اسی قدر مشکل بھی ہے، ہمارے سماج میں اس لحاظ سے بھی مشکل ہے کہ کوئی طبقہ بھی احتساب کیلئے تیار نہیںہے، پاکستان میں احتسابی عمل کے کمزور ہونے کی متعدد مثالیں موجود ہیں جنہیں یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم گزشتہ دنوں سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف جاری احتسابی عمل میں تیزی آنے کیساتھ ساتھ عام انتخابات 2018 کیلئے سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم میں بھی تیزی آگئی ہے۔ ملک کی تمام بڑی چھوٹی سیاسی جماعتیں جلسوں پر جلسے کرنے میں مصروف ہیں، اس حوالے سے پنجاب میں سرائیکی خطہ اور سندھ میں کراچی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں ہزارہ ڈویژن کو نمایاں حیثیت ہے۔ بہرکیف عام انتخابات اپنے وقت پر ہوںگے یا نہیں اس بحث سے ہٹ کر یہ تو طے ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنی ’’مدتیں‘‘ پوری کرنے کے بعد تحلیل ہونے جا رہی ہیں جبکہ نگران حکومتی سیٹ اپ کے حوالے سے وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مشاورتی عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’نگران وزیراعظم‘‘ کے نام پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور ان کے درمیان اتفاق ہوگیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے بھی عام انتخابات میں حصہ لینے والی ممکنہ 110سیاسی جماعتوں سے ’’انتخابی نشان‘‘ کیلئے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔

جہاں تک نگران وزیراعظم کے نام پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کی بات ہے تو اس حوالے سے ابھی اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لیا جانا باقی ہے۔ اس ضمن میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کو اعتماد میں لیا جانا انتہائی ضروری ہے، دوسری صورت میں مسلم لیگ (ن) کے وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس سے ایک نئی بحث بھی جنم لے سکتی ہے۔ بہرکیف الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کی تیاریوں کے عمل میں خاصی تیزی آگئی ہے، اس ضمن میں حتمی ووٹرز لسٹوں کیساتھ ساتھ انتخابی حلقہ بندیوں اور اس کے نقشہ جات کا عمل بھی مکمل ہونے کو ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف نیب کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے بعد جہاں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سیخ پا دکھائی دیتے ہیں وہاں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے بھی یہ موقف سامنے آیا ہے کہ عام انتخابات سے پہلے نیب کے اس طرح کے اقدامات ’’پری پول دھاندلی‘‘ کے مترادف ہیں۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ نیب کا ادارہ جب سے وجود میں آیا ہے اس وقت سے یہ ’’متنازعہ‘‘ ہی رہا ہے اس ضمن میں سیاسی حلقے یہ پختہ سوچ رکھتے ہیں کہ اس ادارے کو ہر حکومت نے اپنے سیاسی مقاصد کے طور پر استعمال کیا ہے، اس ضمن میں سیاسی حلقوں کی جانب سے ٹھوس دلائل بھی دیئے جاتے ہیں کہ ماضی میں 1997کی حکومت میں نواز حکومت نے اس ادارے کو پیپلز پارٹی اور اپنے مخالفین کیخلاف استعمال کیا اور اس کے بعد سابق ڈکٹیٹر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی اسی ادارے کا استعمال کرتے ہوئے پہلے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ اور بعد میں مسلم لیگ (ق) جیسی سیاسی جماعتیں بنوائیں یعنی اقتدار کو مضبوط بنانے اور طول دینے کیلئے نیب کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے ابتدائی چار برسوں میں جب تک نواز شریف وزیراعظم رہے اس وقت تک نیب کی تمام تر کارروائیاں سندھ میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کیخلاف ہوتیں دکھائی دی ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے احتسابی عمل شروع کئے جانے اور جسٹس (ر) جاوید اقبال کے چیئرمین نیب بن جانے کے بعد پنجاب میں احتسابی عمل شروع ہوا جو اس وقت خیبر پختونخوا تک پہنچ گیا ہے لیکن یہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ احتسابی عمل کی رفتار سندھ میں سست پڑ گئی ہے۔

بات ہورہی تھی عام انتخابات کی اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن میں دن رات کام ہو رہا ہے جبکہ نگران وزیراعظم کی تقرری کا معاملہ بھی اگلے ایک دو روز میں اپنے منطقی انجام تک پہنچنے والا ہے۔ ملک میں عام انتخابات کے حوالے سے ایک سنجیدہ اور پختہ سوچ یہ بھی ہے کہ عام انتخابات سے پہلے ’’احتساب‘‘ کا عمل مکمل ہونا چاہئے تاکہ صاف اور شفاف قیادت سامنے آسکے جو یقیناً ملک وقوم کی تعمیر وترقی کی ضمانت ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ عام انتخابات سے پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرح سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف بھی نیب کا گھیرا تنگ ہوسکتا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت میں شامل نمایاں شخصیات کو بھی نیب کا بلاوا آسکتا ہے۔ اس طرح وفاقی دارالحکومت میں عام انتخابات سے پہلے یہ چہ میگوئیاں پختگی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں کہ نیب کو اپنے اوپر لگنے والے ’’پری پول دھاندلی‘‘ کے الزام کو زائل کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کیخلاف بلاتفریق احتساب کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ایک بار پھر ’’انتخابات‘‘ پر دھاندلی زدہ ہونے کا الزام لگ سکتا ہے۔ پاکستان میں جاری بحرانوں کا ذمہ دار سول حکومتوں کو ٹھہرایا جاتا ہے اسلئے سیاستدانوں کی بالعموم اور موجودہ حکومت کی بالخصوص ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام تر فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک عظیم مقصدکیلئے مل بیٹھیں اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی کوئی سبیل پیدا کریں۔

متعلقہ خبریں