Daily Mashriq


سیکورٹی کا ناجائز استعمال

سیکورٹی کا ناجائز استعمال

چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے مختلف شخصیات کی سیکورٹی پر غیرقانونی طور پر مامور12600 افسران اور اہلکاروں کو واپس بلائے جانے کے حکم پر ملک کے مختلف حلقوں سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں پولیس کیساتھ ساتھ عام شہریوں نے اس حکم کا خیر مقدم کیا ہے وہیں پر ملک کی ایلیٹ کلاس نے اس حکم پر برہمی کا اظہار بھی کیا ہے۔ ہمیشہ کی طرح میڈیا کو اس سارے معاملے سے چٹ پٹی خبریں نکالنے کا موقع مل گیا اور میڈیا پر ان لوگوں کے نام فلیش ہونے لگے جن کی سیکورٹی پر یہ اہلکار مامور تھے۔اس سارے معاملے میں بہت سے سوال ایسے ہیں جو اُٹھائے ہی نہیں گئے جیسا کہ کس قانون کے تحت ان لوگوں کو پولیس کی سیکورٹی رکھنے کا حق حاصل ہے؟ کیا ان لوگوں کی جان کو واقعی خطرہ ہے اور اس خطرے کا اندازہ کس نے لگایا ہے اور کس طرح لگایا گیا ہے؟ کیا ان لوگوں کی زندگی کو لاحق خطرات کا اندازہ لگانے والے لوگ غیر جانبدار ہونے کیساتھ ساتھ اس کام کو سرانجام دینے کی اہلیت بھی رکھتے تھے؟ ’’استحقاقی سیکورٹی‘‘ اور ’’غیر استحقاقی سیکورٹی‘‘ میں کیا فرق ہے؟ سیکورٹی اور پروٹوکول میںکیا فرق ہے اور کون سی باریک لائن ہے جو سیکورٹی کو پروٹوکول سے جدا کرتی ہے؟ سیکورٹی اور پروٹوکول کی تعریف کیا ہے؟ اس ساری بحث میں جو بات نظرانداز کردی گئی وہ پولیس کا اولین فرض ہے یعنی عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا۔ آئین کا آرٹیکل 9 اس حوالے سے تمام لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بات کرتا ہے جس میں لوگوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی گئی۔ پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 1 (اے) کے مطابق تمام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ امریکہ میں ہونے والے 9/11 کے واقعے کے بعد پولیس کی بنیادی ذمہ داریوں (جرائم کی روک تھام اور جرائم کا سراغ لگانا) میں انسدادِ دہشتگردی اور لوگوں کی حفاظت بھی شامل کر دی گئی۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر ان لوگوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا جن کو سیکورٹی کی ضرورت تھی۔ اگرچہ ان لوگوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے مزید لوگوں کو پولیس میں بھرتی کیا جاتا رہا، جس سے لوگوں کو روزگار بھی حاصل ہوا، لیکن سیکورٹی پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے سے پولیس اپنے بنیادی فرض یعنی جرائم کی روک تھام سے غافل ہوگئی۔ پولیس کی توجہ سیکورٹی پر مرکوز ہونے سے عوام کی نظر میں بھی پولیس کی ساکھ خراب ہوئی اور پولیس عوام کی نظروں میں اپنا وقار کھو بیٹھی۔ پولیس رولز، 1934ء کے باب 18 کے مطابق صرف سینئر پولیس افسران، ضلعی جج اور ڈپٹی کمشنرز کو پولیس کی سیکورٹی رکھنے کا حق حاصل تھا لیکن وقت گزرنے کیساتھ دیگر لوگ بھی اس کیٹیگری میں شامل ہوتے رہے۔ پولیس گارڈز فراہم کرنے کے ایک الگ قانون کی غیر موجودگی میں وہ صاحب اقتدار افراد سیکورٹی کے طلب گار رہے جو آپس کے جھگڑوں میں اُلجھے رہتے تھے۔ بھارت میں اس وقت سیکورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے پانچ لیول موجود ہیں جن کے تحت وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف لوگوں کو سیکورٹی فراہم کرتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی لیول پایا جاتا ہے جس کے تحت سیکورٹی کی فراہمی کا تعین کیا جاسکے۔ ہمارے ملک میں بہت سے سیاستدانوں کی جان کو خطرہ لاحق ہے اسلئے ان سب لوگوں کو خطرے کا اندازہ لگا کر سیکورٹی فراہم کی جانی چاہئے۔ پاکستان میں بہت سے سیاستدانوں پر حملے کئے جاچکے ہیں اور ان حملوں میں بڑے بڑے سیاستدان جان گنوا چکے ہیں لیکن آج تک ہم نے اس حوالے سے کوئی قانون بنایا ہے اور نہ ہی کوئی نئی سیکورٹی ایجنسی بنائی ہے۔ اگرچہ وی آئی پی سیکورٹی بلیو بک میں شامل ہے لیکن ایسا کوئی رسمی طریقہ کار موجود نہیں جس میںخطرے کی شدت کے لحاظ سے سیکورٹی فراہم کرنے کی وضاحت کی گئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سیکورٹی فراہم کرتے ہوئے ذمہ دار اداروں کی جانب سے اس شخصیت کی سیاسی وسماجی حیثیت کو دیکھا جاتا ہے اور اس حساب سے سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ ممبئی میں وی آئی پیز کی سیکورٹی کا سہ ماہی بنیادوں پر جائزہ لیا جاتا ہے لیکن پاکستان میںایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں اور ایک دفعہ فراہم کی جانے والی سیکورٹی کو ہمیشہ کیلئے کافی سمجھا جاتا ہے۔ سیکورٹی میں اضافے، کمی یا خاتمے کیلئے بھی کوئی قوانین موجو د نہیں ہیں۔ اگرچہ وی آئی پیز کے قافلے میں شامل گاڑیوں کی تفصیل بلیو بُک میں درج ہے لیکن ان قافلوں کی وجہ سے عوام کو پیش آنے والی مشکلات پر قابو پانے کے قوانین کسی کتاب میں موجود نہیں ہیں۔ سیکورٹی کی فراہمی کیلئے مکمل تفتیش اور تجزئیے کے مرکزی نظام کی غیر موجودگی میں پولیس سیکورٹی کا استحصال کیا جارہا ہے۔ مختلف شخصیات کو سیکورٹی کی فراہمی کیلئے بھی ہم ضلعی پولیس پر انحصار کرتے ہیں جس کی اس حوالے سے کوئی تربیت نہیں کی جاتی اور ان ذمہ داریوں پر مامور سیکورٹی اہلکار اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کئی کئی سالوں تک صرف فرد واحد کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ملک کے بااثر افراد کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ مفت میں ملنے والی پولیس کی سیکورٹی پر ان کا کوئی استحقاق نہیں ہے اور بھارت سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں پولیس کو ذاتی سکیورٹی کیلئے استعمال کرنے پر ریاست کو معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

(بشکریہ: ڈان، ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں